بٹوارے کے وقت بھائی سے بچھڑنے والے محمد صدیق کا اپنے بھائی سکا خان کے ہمراہ انڈیا کا دورہ

Dr Jagfir

،تصویر کا ذریعہDr Jagfir

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’میں جب اپنے پنڈ جگروان پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے ہار پہنا کر میرا استقبال کیا۔ وہاں کی گلیاں اب بھی اسی طرح ہی ہیں جس طرح میرے بچپن میں تھیں۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اس عمر میں پہلے بچھڑے ہوئے بھائی سے ملا اور اب مجھے اپنا پنڈ دیکھنے اور اپنے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ پاکستان اور انڈیا کی سرکار سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ بھائیوں کے درمیاں ویزے کی دیوار نہ لگائیں۔ کچھ ایسا کریں کہ ہم بھائی جب چاہیں مل سکیں۔‘

پاکستانی پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے چک 255 کے محمد صدیق نے ان خیالات کا اظہار تقریباً 75 سال بعد اپنے بچھڑے بھائی محمد حبیب عرف سکا خان سے ملنے کے بعد کیا۔ سکا خان تقسیم برصغیر کے وقت ان سے جدا ہو گئے تھے۔ بھائیوں کی یہ ملاقات پہلی مرتبہ کرتارپور میں ہوئی تھی جس کے بعد سکا خان کو پاکستان کا ویزا دیا گیا۔

وہ کچھ عرصہ تک محمد صدیق کے پاس چک 255 میں مقیم رہے۔ ویزا کی میعاد ختم ہونے سے قبل انڈیا واپس جاتے ہوئے سکا خان اپنے بھائی محمد صدیق کو بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔ محمد صدیق کو انڈیا کی حکومت نے وزٹ ویزا دیا ہے۔

محمد صدیق اس وقت انڈیا کے ضلع بھٹنڈہ کے علاقے پھول والا میں ہیں۔ پھول والا وہ علاقہ ہے جہاں پر سکا خان ماں باپ سے بچھڑنے کے بعد بچپن سے لے کر اب تک مقیم ہیں۔

Dr Jagfir

،تصویر کا ذریعہDr Jagfir

سکا خان کہتے ہیں کہ ’چک 255 میں میرا بہت دل لگ گیا تھا۔ پنڈ کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو گا جس نے میری دعوت نہیں کی ہو۔ جب میری واپسی کا وقت ہوا تو سوچا کہ اپنے بھائی کو اپنے ساتھ پھول والا لے چلتا ہوں کہ وہ بھی دیکھے کہ میں کہاں اور کن لوگوں میں رہتا ہوں۔‘

سکا خان کا کہنا تھا کہ ’جب میں پھول والا سے چک 255 جا رہا تھا تو میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ جب میں وہاں سے آیا تو میری آنکھوں میں دکھ کے آنسو تھے۔ اب جب میرے بھائی کے واپس جانے کا وقت ہو رہا ہے تو میں پھر پریشان ہوں کہ پتا نہیں کیا میں دوبارہ صدیق اور اپنے رشتے داروں سے مل سکوں گا کہ نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’صدیق کو انڈیا لانے کا مقصد اپنا پنڈ اور گھر دکھانے کے علاوہ پھول والا کے لوگوں سے ملانا ہے۔ میں نے تو صرف سنا ہی تھا کہ انڈیا کے ضلع جالندھر کا جگروان میرا پنڈ ہے مگر صدیق کو کچھ نہ کچھ یاد ہے۔‘

’جگروان والوں نے پھولوں کے ہار پہنائے‘

محمد صدیق کہتے ہیں کہ ’انڈیا پہنچنے کے بعد جو سب سے پہلا کام کرنے کی کوشش کی تھی وہ اپنا پنڈ اور اپنا گھر دیکھنا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جگروان میں میرا گھر مسجد کے سامنے تھا۔ ہمارے گھر کے صحن میں ایک کنواں اور گھر کے پیچھے زمینوں میں بھی ایک کنواں تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے میری ماسی نے بھی کئی مرتبہ بتایا اور دیگر رشتہ داروں نے بھی اس کنویں اور مسجد کے بارے میں بتایا تھا۔ جس وجہ سے یہ ذہن نشین ہے۔‘

محمد صدیق کا کہنا تھا کہ ’پھول والا میں موجود میرے میزبانوں نے میری بتائی ہوئی نشانیوں پر پہلے ہی سے میرے گھر کی شناخت حاصل کر لی تھی۔ میں جب پھول والا پہنچا تو جگروان سے بھی کئی لوگ مجھے ملنے آئے اور انھوں نے مجھے جگروان کی دعوت بھی دی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں پھول والا کے لوگوں اور سکا خان کے ہمراہ جب جگروان پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے میرا استقبال ہار پہنا کر کیا تھا۔ وہ مجھے مل کر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ مجھے اس گھر لے کر گئے جس کے بارے میں ممکنہ طور پر خیال ہے کہ وہ میرا گھر تھا۔‘

’وہ گھر مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مگر وہ مسجد، کنواں اور گلیاں میں نے دیکھتے ہی پہنچا لی تھیں۔‘

Dr Jagfir

،تصویر کا ذریعہDr Jagfir

’بچپن کے دن فلم کی طرح یاد آنے شروع ہو گئے‘

محمد صدیق کہتے ہیں کہ ’جب میں مسجد کے پاس پہنچا تو مجھے بچپن کے دن ایک فلم کی طرح یاد آنے شروع ہو گئے تھے۔ جگروان میں اس وقت بھی ایک ہی مسجد تھی اور اب بھی ایک ہی مسجد ہے۔ وہاں پر اب آبادی کافی زیادہ ہو گئی ہے مگر وہ گلی اور راستہ اب بھی اسی طرح ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جگروان کی زمینیں اور کھیت بھی تقریباً اسی طرح ہی ہیں جس طرح میں چھوڑ کر گیا تھا۔ میں جب اپنے گھر پہنچا تو مالکوں نے میرا استقبال پھول کے ہار پہنا کر کیا۔ وہ گھر اب تقریباً بدل چکا ہے۔ وہ اب دو حصوں میں تقسیم ہے مگر اس کی بیرونی دیواریں اور بنیادیں اسی طرح ہیں، وہ تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔‘

محمد صدیق بتاتے ہیں کہ گھر کے مالکوں نے ہمیں پورے گھر کا دورہ کروایا تھا۔ ’میں خصوصی طور پر گھر کے صحن میں موجود کنواں دیکھنے گیا تو وہ کنواں اب بھی موجود ہے مگر اب خشک ہوچکا ہے اور اس کو استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کو ایک سلیب رکھ کر بند کیا گیا ہے۔‘

’یہ سچ ہے کہ مجھے بہت کچھ یاد نہیں ہے مگر یہ کنواں اور گھر کے پیچھے کنواں اور ان کا مقام اچھی طرح یاد ہے۔ میں گھر سے باہر نکلا اور گھر کے پیچھے گیا جہاں پر وہ کنواں بھی موجود تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں اپنی زندگی میں اپنے پنڈ، گھر اور کنویں کے پاس پہنچ گیا ہوں۔ میری حالت رونے والی ہو گئی تھی مگر اس ڈر سے کہ میرے میزبان جو ہماری بہت عزت کر رہے ہیں ان کا دل نہ دکھے اپنے آنسوؤں کو قابو کیا۔‘

’گھر کے حالیہ سارے مالکان موجود تھے۔ وہ ہمیں گھر کے اندر لے گئے، ہمیں شاندار کھانا کھلایا اور اپنے پاس رہنے کی بھی پیش کش کی مگر میں یہ کہہ کر واپس پھول والا آ گیا کہ پاکستان جانے سے پہلے ایک مرتبہ پھر آؤں گا۔‘

،ویڈیو کیپشن’ڈھول بجا کر سارا گاؤں اکٹھا کریں گے‘

’چک 255، پھول والا اور جگروان میں کوئی فرق نہیں‘

سکا خان کہتے ہیں کہ ’جب میں نے چک 255 دیکھا تو میں نے صدیق کو کہا کہ پھول والا اور چک 255 میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے، دونوں پنڈ ایک جیسے ہیں، دونوں کا رہن سہن بھی ایک جیسا ہے۔ میں جب پھول والا سے چک 255 پہنچا تو کچھ گھبرایا ہوا تھا کہ پتا نہیں کیا ہو گا اور کیا نہیں۔‘

’مگر جب چک 255 دیکھا تو پھول والا جیسا ہی لگا۔ ویسے ہی محبت کرنے لوگ، مہمان نوازی کی روایت۔ چک 255 میں تقریباً ہر گھر والے نے مجھے اپنے گھر بلایا اور میری کہانی سنی تھی۔‘

محمد صدیق کہتے ہیں کہ ’پھول والا پہنچنے سے پہلے میں تذبذب کا شکار تھا۔ میں کبھی گھر اور اپنے پنڈ سے باہر اتنے دن نہیں رہا تھا۔ سوچتا تھا کہ کیسے گزارا ہوگا۔ کیسے لوگ ہوں گے۔ کیا کروں گا اور کیا نہیں کروں گا۔ مگر یہاں پہنچنے کے بعد مجھے سب کچھ اپنا جیسا ہی لگا ہے۔‘

ان کا بھی کہنا تھا کہ پھول والا اور چک 255 میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ’پھول والا میں میری اب بھی دعوتیں جاری ہیں۔ ہر روز کوئی ہمیں اپنے گھر لے جاتا ہے۔ ہماری کہانی سنتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ قریب کے علاقے کے لوگ بھی روزانہ آ جاتے ہیں۔ مجھے صبح سے لے کر شام تک وقت ہی نہیں ملتا۔‘

’بس سوچتا یہ ہوں کہ سکا خان اب میرے ساتھ نہیں جا سکے گا۔ چند ہفتوں میں میری نواسی اور پھر نواسے کی شادی ہونی والی ہے۔ ان سب کی بھی خواہش ہے کہ سکا خان اس میں شریک ہو بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ سکا خان پاکستان ہی منتقل ہو جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

Dr Jagfir

،تصویر کا ذریعہDr Jagfir

دونوں بھائی بچھڑ کر خوش نہیں رہیں گے

محمد صدیق کے نواسے کاشف گجر جو کہ ضلع لودھراں کے رہائشی ہیں کہتے ہیں کہ ’ہم نے اپنے نانا اور ان کے بھائی سکا خان وہ بھی ہمارے نانا ہیں کو فیصل آباد میں بہت خوش دیکھا ہے۔ ہمارے نانا جتنے خوش رہے تھے اتنا تو کبھی بھی خوش نہیں دیکھا ہے۔ دونوں ہمیشہ ساتھ ساتھ ہی رہتے تھے۔‘

کاشف گجر کہتے ہیں کہ ہم سب لوگوں کا بھی نانا جان (سکا خان) سے بہت دل لگ گیا تھا۔ وہ کبھی ایک گھر جاتے ہیں کبھی دوسرے اور کبھی بچوں سے پیار کرتے تھے۔ نانا جان (محمد صدیق) پہلے انڈیا جانے کو تیار نہیں تھے مگر بھائی کی خوشی کی خاطر چلے گئے تھے۔ ہم سمجھے تھے کہ وہ چند دن بھی نہیں رہیں گے مگر وہ وہاں پر بہت خوش ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ دونوں بھائی ایک دوسرے سے چند دن بھی بچھڑ کر خوش رہ سکیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نانا جان (سکا خان) کی موجودگی ہی میں میری بہن کی شادی اور پھر میری شادی کی بات چیت چل رہی تھی۔ وہ اس معاملے میں بھی بہت پرجوش تھے، کہتے تھے کہ مجھے ان شادیوں میں شرکت کرنی ہے۔ مجھے اپنوں کی خوشی میں شریک ہونا ہے۔‘

’ہم نے بھی وعدہ کیا تھا کہ شادیوں میں ضرور شریک ہوں گے۔ مگر اب نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔‘

Dr Jagfir

،تصویر کا ذریعہDr Jagfir

پھول والا کے نمبردار جگفیر سنگھ جنھیں ڈاکٹر کے نام سے پکارا جاتا ہے کہتے ہیں کہ ’محمد صدیق یہاں پر بہت خوش ہیں۔ سب سے بڑھ کر سکا خان کی خوشی دیدنی ہے۔ اس نے پھول والا کے ایک ایک بندے کو اپنے بھائی سے بڑے پرجوش اور فخریہ انداز سے ملایا اور کہا کہ دیکھو میرا بھی بھائی ہے۔‘

’لگتا نہیں کہ اب اگر یہ بھائی بچھڑے تو یہ مطمئن اور خوش زندگی نہیں گزار پائیں گے۔‘

سکا خان کہتے ہیں کہ ’جگروان کی تو میرے پاس کوئی یاد نہیں ہے، صدیق جگروان جا کر بہت خوش ہوا ہے۔ اس کی خوشی میری خوشی ہے مگر میرا پنڈ تو پھول والا اور چک 255 ہے۔ چک 255 میں میرے بچے ہیں۔ وہاں پر میری خوشیاں ہیں۔ پھول والا میں میرے اپنے لوگ ہیں۔ نہ پھول والا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ سکتا ہوں اور نہ چک 255 کو۔‘

’لمبی زندگی گزر چکی ہے۔ اس زندگی میں بھائی، اپنے اور بچے ملنے کی توقع نہیں تھی مگر اب مل چکے ہیں۔ اب کہتا ہوں کہ دونوں حکومتیں پابندی ختم کریں۔ اجازت دیں کہ میں جب چاہوں چک 255 میں بچوں کی خوشیوں میں شریک ہوں اور جب چاہوں پھول والا میں اپنوں کے پاس پہنچ جاؤں۔‘