بٹوارے کے وقت بچھڑے دو بھائیوں کی کہانی: 'عمران خان کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں، ایک گھنٹے میں میرے بھائی کو ویزا دے دیا'

محمد حبیب

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ishraq

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

برِصغیر کی تقسیم کے وقت بچھڑنے والے اور رواں ماہ کی 12 تاریخ کو 75 سال بعد کرتارپور میں ملنے والے دو بھائیوں میں سے انڈیا میں مقیم محمد حبیب عرف سکا خان کو پاکستان کے ہائی کمیشن نے ویزا جاری کر دیا ہے۔

محمد صدیق اور محمد حبیب عرف سکا خان برصغیر کی تقسیم کے وقت اس وقت بچھڑ گئے تھے جب جالندھر سے افراتفری میں ان کا خاندان پاکستان کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ان کے والد ہلاک ہو گئے تھے۔ صدیق اپنی بہن کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے جبکہ حبیب والدہ کے ساتھ وہیں رہ گئے جن کا بعد میں انتقال ہو گیا۔

اب ان دونوں بھائیوں کے دل کی یہ مراد پوری ہو گئی ہے اور انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی جانب سے سکا خان یعنی محمد حبیب کو پاکستان میں مقیم اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزے کا اجرا کر دیا گیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد حبیب عرف سکا خان کی ایک تصویر شیئر کی جس پر ان کی ہاتھ میں پکڑے پاسپورٹ پر ویزے کی مہر لگی ہوئی ہے۔ انڈیا میں پاکستان ہائی کمیشن نے اس تصویر کے ساتھ تحریر کیا کہ 'آج (28 جنوری) کو سکا خان کو پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔'

'میں واہگہ داخل ہونے کا منتظر ہوں، بھائی کا استقبال ڈھولک کی تھاپ پر کروں گا'

سوشل میڈیا کے ذریعے اس خبر کے سامنے آتے ہی محمد حبیب عرف سکا خان کے پاکستان کے شہر فیصل آباد کے نواحی گاؤں میں مقیم بھائی محمد صدیق کا کہنا تھا کہ 'میں اپنے بھائی کا شدت سے انتطار کر رہا ہوں۔ اس کا استقبال میں ڈھولک کی تھاپ پر کروں گا۔'

جبکہ انڈیا میں موجود محمد حبیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'میں آج ہی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے گیا تھا۔ انھوں نے میری بہت مدد کی ہے۔ دو گھنٹے کے اندر ویزہ جاری کر دیا ہے۔ اب میں دہلی کے سٹیشن سے اپنے گاؤں جا رہا ہوں۔ وہاں جا کر اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کروں گا۔ اس کے بعد پاکستان جانے کا پروگرام بناؤں گا۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'میں اب اس وقت کا انتطار کر رہا ہوں کہ اب میں کب دوبارہ پاکستان داخل ہوں گا۔ اس کے لیے میں واہگہ کا راستہ اختیار کروں گا۔ میرے لیے کرتارپور خوشبختی لایا ہے۔ اب انتظار ہے کہ کب واہگہ میں داخل ہوں گا۔'

'عمران خان کو کہا بھائی کو ویزا دے دو، اس نے دے دیا'

محمد صدیق کا کہنا تھا کہ 'میرے لیے آج بہت بڑی خوشی کا دن ہے۔ میں نے عمران خان سے کہا تھا کہ میرے بھائی کو ویزا دو۔ اس نے ویزا دے دیا ہے۔ اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ میرے بھائی کو ویزہ دے دیا گیا ہے۔ اب میں اپنے بھائی کے تمام دکھوں کا مداواہ کرنے کی کوشش کروں گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ خوشی ہے کہ زندگی میں ہی دونوں بھائیوں کو دوبارہ ملنے کا موقع مل جائے گا۔'

وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں، ایک گھنٹے میں میرے بھائی کو ویزا دے دیا'۔

محمد صدیق کہتے ہیں کہ 'بہت خوشی ہوئی ہے، سارا خاندان اور گاؤں خوش ہے۔ میں حکومت، سفارتکار صاحب، ڈاکٹر جگفیر، گاؤں کے نمبردار سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور احسان مند ہوں جنھوں نے میرے بھائی کو پاکستان آنے میں مدد کی۔'

ان کا کہنا تھا کہ بھائی کو ویزا ملنے سے متعلق ابھی شام ہی کو پتا چلا ہے۔ اب گاؤں والے بار بار آ کر پوچھ رہے ہیں کہ کب بھائی پہنچے گا۔ بہت لوگ اس کا استقبال کرنے واہگہ بارڈر پر جائیں گے۔ '

محمد حبیب

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ishraq

'سکا خان ویزہ چاہتا ہے تو ہمارے پاس آئیں'

ویزا جاری کرنے کے حوالے سے انڈیا میں موجود ڈاکٹر جگفیر سنگھ نے جن کے موبائل پر محمد حبیب کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے، بتایا کہ 'مجھے دہلی سے پاکستانی سفارت کار کا فون آیا کہ اگر سکا خان چاہتا ہے کہ اس کو ویزہ ملے تو پھر ہمارے پاس آئیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'آج ہم لوگ دہلی میں پاکستانی سفارت خانے گئے تھے، جہاں پر سفارت خانے نے ہماری آؤ بھگت بھی کی۔ وہاں پر ہم تقریباً دو گھنٹے رکے جس کے بعد انھوں نے ہمیں ویزا دیا۔'

فیصل آباد میں محمد صدیق کے گاؤں چک 255 کے نمبردار محمد اشراق جن کے موبائل کے ذریعے محمد صدیق سے رابطہ ممکن ہوتا ہے کہتے ہیں کہ 'آج مجھے دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن آفتاب علی خان کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر محمد صدیق اپنے بھائی کو پاکستان بلانا چاہتے ہیں تو دعوت نامہ اور سپانسر خط ہمیں ارسال کریں۔'

محمد اشراق نے بتایا کہ ان کی ہدایات کے مطابق ’میں نے آج ہی دعوت نامہ اور سپانسر شپ کے کاغذات مکمل کر کے انھیں بھجوا دیے، جس کے فوراً بعد ہی حبیب کو ویزا جاری کردیا گیا ہے۔ یہ سارے عمل میں کوئی دو گھنٹے لگے ہیں۔‘

محمد حبیب

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ishraq

محمد اشراق کہتے ہیں کہ اس وقت گاؤں میں جشن کا سماں ہے۔ 'لوگ آرہے ہیں۔ مٹھائیاں لائی جارہی ہیں۔ ہم سب بہت خوش ہیں۔'

ڈاکٹر جگفیر سنگھ کہتے ہیں کہ جب سے سکا خان کے پاکستان کا ویزا لگنے کی خبر پھول والا پہنچی ہے ہمیں بہت زیادہ کالیں آ رہی ہیں۔ لوگ خوش بھی ہیں اور خفا بھی ہیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ بھائی بھائی سے ملے گا۔ تھوڑا بہت خفا اس بات سے ہیں کہ ہمارا دکھ سکھ کا ساتھی بچھڑنے جا رہا ہے۔‘