انڈیا کی بڑے عزائم والی کم عمر دلہنیں جن میں خواب دیکھنے کی جرات ہے

،تصویر کا ذریعہRuhani Kaur
فوٹو جرنلسٹ روہنی کور نے انڈیا کی ریاست ہریانا کی تین ایسی کم عمر دلہنوں کی کہانی جاننے کی کوشش کی ہے جو تعلیم جاری رکھنا اور زندگی میں حائل تمام رکاوٹوں کو عبور کرنا چاہتی ہیں۔
پریانکا، میناکشی اور شیوانی دلی کے ایک نواحی گاؤں دمدما میں پلی بڑھیں۔ یہ زراعت پیشہ بااثر گجر برادری کا علاقہ ہے۔ ان کا گاؤں دارالحکومت دلی کے پوش علاقے گُڑگاؤں سے آدھے گھنٹے سے بھی کم کی مسافت پر ہے۔
ان لڑکیوں کی عمریں 16 برس کے لگ بھگ ہیں اور وہ بچپن سے ایک دوسرے کی سہلیاں ہیں۔ تینوں لڑکیوں کی کم سنی میں ہی شادی ہو گئی تھی۔ ان میں سے ایک تو شادی کے وقت صرف 10 برس کی تھی۔
انڈیا میں 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنا قانوناً جرم ہے۔ مگر معاشرے پر مردانہ حاکمیت اور غربت کی وجہ سے کم عمری میں شادی کا رواج اب بھی ملک کے کئی حصوں میں موجود ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے، یونیسیف، کے مطابق کم عمری میں شادی کے اعتبار سے انڈیا دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔ کم عمری میں شادی کی عالمی تعداد کا تیسرا حصہ انڈیا سے ہے۔ ادارے کے اندازے کے مطابق انڈیا میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ لڑکیوں کی شادیاں 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہیں۔
گذشتہ برس حکومت نے شادی کی کم سے کم عمر 21 سال کرنے کے لیے ایک مسودۂ قانون پارلیمان میں پیش کیا تھا مگر وہ ابھی تک قانون نہیں بن سکا ہے۔
یہ تینوں سہیلیاں اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں مگر انھیں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRuhani Kaur
’مجھے شادی کی بیڑیاں مت پہناؤ‘
پریانکا کے گھر والوں نے ان کی شادی 10 سال کی عمر میں کر دی تھی۔ آج سات برس بعد وہ گیارہویں جماعت میں ہیں، اور اپنے والدین ہی کے ساتھ رہتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر انھیں بتایا گیا ہے کہ شوہر کو نوکری ملتے ہی انھیں سسرال جانا ہو گا۔ ان کے شوہر اس وقت پولیس میں بھرتی ہونے کی تیاری رہے ہیں۔
پریانکا اس سلسلے میں فکرمند ہیں اور اپنے خیالات کو ایک ڈائری میں لکھتی ہیں۔ انھوں نے لکھا: ’میرے پاؤں میں بیڑیاں مت ڈالو، میں بہت چھوٹی ہوں۔ ۔ ۔ میں اپنی گڑیا چھوڑ کر ساس کے پاس نہیں جانا چاہتی۔‘
پریانکا کا کہنا ہے کہ وہ پڑھائی میں اچھی نہیں ہیں، لیکن اپنے بھائی کے بیوٹی پارلر میں کام کرنا انھیں پسند ہے۔ انھیں امید ہے کہ اس طرح وہ زیادہ عرصے تک اپنے ماں باپ کے ساتھ رہ سکیں گی۔
ان کی ایک کزن جو اب ان کی جیٹھانی ہے، نے بھی پارلر کا کچھ کام سیکھا تھا مگر میکے جانے کے بعد وہ اسے جاری نہ رکھ سکیں۔ مگر پریانکا اپنے لیے ایک مختلف زندگی کی خواہشمند ہیں۔
’خوابوں کی تکمیل تک ہمیں شادی نہیں کرنی چاہیے‘
گذشتہ سال جب میناکشی نے 11ویں جماعت میں داخلہ لیا تو وہ اپنے سکول کی سائنس کلاس کی واحد طالبہ بنی تھیں۔ اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ ’میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔‘
مگر یہ وہ وقت تھا جب کووڈ 19 کی عالمی وبا کی شدت نے انڈیا کو جکڑ لیا تھا اور انسانی زندگیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیے تھا۔ ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سے لوگ بے روزگار ہوئے اور ان میں سے بہت سے افراد کو اپنے گاؤں دیہات واپس جانا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہRuhani Kaur
اس دوران بہت سے والدین کو اپنی نوجوان لڑکیوں کے مستقبل کی فکر لاحق ہوئی اور انھوں نے کم عمری میں ہی ان کی شادیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایسے میں میناکشی کی بہت سے ہم جماعتوں کی شادیاں ہو گئیں، البتہ انھیں توقع تھی کہ ان کی شادی نہیں ہو گی۔ اس وقت انھوں نے انکار کے انداز میں کہا تھا: ’مجھے (شادی کی) صحیح عمر کا نہیں پتا مگر جب تک ہمارے خواب پورے نہیں ہو جاتے ہمیں شادی نہیں کرنی چاہیے۔‘
مگر رواں برس پانچ فروری کو ان کا بھی بیاہ ہو گیا۔ اپنے 16 سالہ شوہر کا میسج دیکھنے کے لیے جب میناکشی نے اپنا ہاتھ موبائل فون کی جانب بڑھایا تو ان کے ہاتھوں پر اب بھی مہندی لگی ہوئی تھی۔ اپنے شوہر کے میسج کا جواب ٹائپ کرتے ہوئے ان کی چوڑیوں کی کھنک سنائی دینے لگی۔
ان کے شوہر بھی زیر تعلیم ہیں اس لیے میناکشی کے والدین نے فی الحال انھیں بھی سکول جاری رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ میناکشی کو توقع ہے کہ ان کے والدین اور سسرال انھیں تعلیم جاری رکھنے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
بینک میں کام کرنے کے خواب
تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیوانی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ سکول جانا انھیں اچھا لگتا ہے اور وہ بینکر بننا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRuhani Kaur
مگر جب ان کی والدہ نے الماری سے ان کی شادی کا البم نکالا تو شیوانی حقیقت کی دنیا میں واپس آ گئیں۔ وہ جانتی ہیں کہ 12ویں پاس کر لینے کے بعد ان کا مستقبل ان کے ہاتھ میں نہیں ہو گا۔
شیوانی اور ان کی بڑی بہن آشو کی شادی ایک ہی روز ہوئی۔ ان کے چچا نے اپنی بیٹی کی شادی طے کرتے وقت ان دونوں بہنوں کی شادی بھی طے کر دی تھی کیونکہ ان کے والد بیمار پڑ گئے تھے۔
شیوانی کی والدہ کا کہنا تھا: ’کچھ بدلا نہیں ہے۔ میری شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی، اور میری بیٹی کی شادی بھی اسی عمر میں ہو گئی۔‘
ان کے والد نے ان سے 12ویں تک پڑھانے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے دونوں بہنیں امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔
آشو اپنے امتحان کا نتیجہ آنے سے پہلے ہی سسرال چلی گئی تھیں۔ وہ تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھیں، شاید قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں اور انھیں امید تھی کہ سسرال والے مان جائیں گے۔ مگر چند ماہ میں وہ حاملہ ہو گئیں اور اس سال کے شروع میں ان کے ہاں اولاد ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہRuhani Kaur
کچھ عرصے پہلے پریانکا، شیوانی اور میناکشی اپنی سہیلی مانو سے ملیں، جنھیں ابھی شادی کرنے کے دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔ ایک بڑے سے جھولے پر جھولتے ہوئے وہ سب بہت لطف اندوز ہو رہی ہیں۔
جھولے کی گردش جیسے جیسے تیز ہوئی اس خوبصورت لمحے میں ان کی فکریں بھی کہیں گم ہو گئیں۔









