انڈیا میں خاندانوں پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ بچوں کی شادی کےبجائے انھیں سکول بھیجیں

بھگونتی
،تصویر کا کیپشنایجوکیٹ گرلز کے ایک رضاکار نے بھگونتی کے والدین کو راضی کیا کہ وہ انہیں واپس سکول جانے دیں۔
    • مصنف, ڈیوڈ ریڈ
    • عہدہ, انوویٹرز سیریز، بی بی سی ورلڈ سروس

جب تک آپ دیکھیں نہ تب تک یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایک راجھستانی لڑکی کو سکول جانے سے پہلے کتنا کام کرنا پڑتا ہے۔

بعض کے لیے ان کے گھریلو کام مقدم ہوتے ہیں جبکہ سکول آخری ترجیح ہوتا ہے۔

لیکن ایک انڈین معلم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ 30 لاکھ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ تعلیم حاصل کریں، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ تعلیم کیسے ان کی زندگیاں تبدیل کر دیتی ہے۔

بھگوتی لسی رام کا ایک عام دن جلد ہی شروع ہو جاتا ہے اور صبح سویرے وہ چپاتیاں بناتی ہیں۔ وہ احتیاط سے روٹی پلٹتی ہیں کہ گرم توے سے ان کی انگلیوں کی پوریں جھلس نہ جائیں۔

پھر وہ مرغیوں کو دانہ ڈالتی ہیں اور برتن دھوتی ہیں۔ اس دوران ان کے والد انھیں اگلے کام کے بارے میں یاد دلاتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ' اسے بکریوں کو چرانے لے جانا ہے۔ وہ انتظار نہیں کر سکتیں۔'

بالآخر انھوں نے بالوں میں کنگھی کی، یہاں سکول جانے والی لڑکیوں کی طرح وی کی شکل میں گلے میں سکارف پہنا اور چار کلو میٹر دور سکول کے سفر کےلیے پیٹھ پر بستہ ڈالا۔

انھوں نے بتایا کہ 'ہمارے گاؤں میں بہت سی لڑکیاں سکول نہیں جاتیں کیونکہ وہ بہت دور ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'اگر15 سال تک کے بچوں کے لیے ہمارے گاؤں میں سکول ہو تو مزید لڑکیاں پڑھیں گی۔'

'لڑکیاں سکول جانے سے گھبراتی ہیں کیونکہ آپ کو ہائی وے سے گزرنا پڑتا ہے اور وہیں سے شراب کے نشے میں دھت ڈرائیور گزرتے ہیں۔'

سکول کی لاپتہ لڑکیاں

مینا، راجھستان
،تصویر کا کیپشنایجوکیٹ گرلز کی رکن مینا راجھستان میں گھر گھر جا کر لوگوں کو اپنی بچیوں کو سکول واپس بھجوانے پر آمادہ کرتی ہیں۔

ایجوکیٹ گرلز یا لڑکیوں کو پڑھاؤ نامی ادارے کی ٹیم کے رضاکار سکول نہ جانے والی ہرلڑکی کی تلاش میں گاؤں کے ہر دروازے تک جاتے ہیں۔ وہ لڑکیوں کو سکول بھیجنے کی اہمیت کے بارے میں خاندانوں سے بات کرتے ہیں اور برادری کے ساتھ مل کر انھیں داخلہ دلانے کا پلان ترتیب دیتے ہیں۔

یہ رضاکار بیت الخلا کی دستیابی کو یقینی بنانے کےلیے سکولوں میں کےساتھ مل کرکام کرتے ہیں اور لڑکیوں کو پڑھاتے ہیں اور انگریزی، حساب اور ہندی کی کلاس لیتے ہیں۔

اب تک وہ لاکھوں بچوں کی مدد اور ڈیڑھ لاکھ لڑکیوں کو سکول میں داخلہ دلا چکے ہیں۔

ایجوکیٹ گرلز کی منا بھٹی ہمیں ایک گھر لے کر گئیں جہاں ایک خاندان کی چار لڑکیوں کی نوعمری میں ہی شادی کر دی گئی تھی۔

وہاں اب ایک اور 14 سالہ لڑکی کو شادی کے بعد سکول سے نکال لیا گیا ہے۔

مینا بتاتی ہیں کہ 'یہاں والدین محسوس کرتے ہیں کہ لڑکیوں کو پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔'

' وہ صرف گھر کے کام کاج، مویشیوں کی دیکھ بھال اور چھوٹے بچوں کا خیال رکھنے کے لیے بنی ہے جبکہ والدین کسان یا مزدور کےطور پر کام کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ لڑکی کے لیے تعلیم وقت کی بربادی ہے۔'

ایجوکیٹ گرلز کی بنیاد رکھنے والی سفینہ حُسین کا خیال ہے کہ وہ اپنی زندگی میں جو کرنا چاہتی تھیں صرف اپنی تعلیم کی وجہ سے ہی کر سکیں۔

ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں دس سے 14 سال کی عمر کی 30 لاکھ لڑکیاں سکول نہیں جاتیں۔

نوعمر دلھنیں

نیلم
،تصویر کا کیپشننیلم کو ان کے سسرال نے سکول جانے سے منع کر دیا تھا جن کی شادی چودہ برس کی عمر میں ہوئی تھی۔ اب وہ تعلیم عام کرنے کے مشن پر ہیں۔

لڑکیوں کی تعلیم کے حصول میں حائل ایک اہم مسئلہ ان کی نوعمری میں کی جانے والی شادیاں ہیں۔

سفینا نے کہا کہ 'راجھستان میں 50 سے 60 فیصد لڑکیاں 18 سال سے کم عمر کی ہیں جن میں سے تقریباً دس سے 15 فیصد کی شادیاں اُس وقت ہوئیں جب ان کی عمر دس سال سے بھی کم تھی۔'

یونیسیف کے مطابق انڈیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ چائلڈ برائڈز یا نو عمر دلھنیں ہیں۔ انڈیا میں رہنے والی عورتوں کی تقریباً نصف کی شادی 18 سال کی سرکاری قانونی عمر کی حد سے پہلے ہی ہوئی۔

ایجوکیٹ گرلزٹیم کی ایک رکن نیلم ویشنو کو اس بات کا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہوا ہے کہ یہ لڑکیاں کس دباؤ میں زندگی گزارتی ہیں۔ خود انھیں 14 برس کی عمر میں ان کی بھابھی کے بھائی سے بیاہ دیا گیا تھا۔

رواج کےمطابق وہ اپنے سسرال چلی گئیں لیکن اس عہد کے ساتھ کہ وہ سکول جاتی رہیں گی۔ جب انھوں نے اس وعدے کو توڑا تو انھوں نے فیصلہ کیاکہ یہ شادی ختم کر دی جائے۔

وہ بتاتی ہیں کہ'جب میں نے طلاق لینے کا فیصلہ کیا تو مجھے بہت سے مسائل کا سامنا رہا۔ گاؤں میں ہر ایک نے مجھ پر طعنے کسے اور برے ناموں سے پکارا۔ درحقیقت یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میرے سسرالیوں نے مجھ پر بدکردار اور بے شرم ہونے کا الزام لگایا۔'

عظیم ترین اثاثہ

اسی دوران سکول میں بھگوانتی اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد استانی بننا اور پڑھانا چاہتی ہوں کیونکہ جب آپ تعلیم یافتہ ہوں تو آپ جرات مند ہوجاتے ہیں۔

اگر میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی اور ملازمت تلاش کر لی تو میں مالی طور پر اپنے خاندان کو سہارا دینے کے قابل ہوں گی۔'

سفینہ کو یہ سن کر بے حد خوشی ہوئی۔ انھیں یقین ہے کہ خواتین خاندان کی صحت و غذائیت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم سے انڈیا کے سب سے اہم مسائل میں سے کئی حل ہو جائیں گے۔

یونیسکو کے مطابق ایک ماں کی تعلیم کا ہر ایک اضافی سال نومولود بچوں کی شرح اموات میں پانچ سے دس فیصد کمی لاتا ہے اور اس سے لڑکی کی زندگی بھر کی کمائی یا جمع پونجی میں 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ آپ کسی بھی شعبے میں ترقی کرنا چاہتے ہوں تو اسے لڑکیوں کی تعلیم سے بہتر بنایا جا سکتا ہے تو دراصل لڑکیاں ہمارا بہترین اثاثہ ہیں۔

بی بی سی کے اس پروجیکٹ کو بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی طرف فنڈ کیا گیا ہے۔