مسئلہ کشمیر کے بارے میں چین کے بیان پر انڈیا کو کیا اعتراض ہے؟

چین، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نیاز فاروقی اور ابھینو گوئل
    • عہدہ, بی بی سی کے لیے

ایسی صورتحال میں جب کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کا انڈیا کا دورہ متوقع ہے، کشمیر پر دونوں ممالک کے بیانات خطے میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

وانگ یی نے اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کشمیر پر ہم نے آج ایک بار پھر اپنے بہت سے اسلامی دوستوں کے مطالبات سنے ہیں۔ اور چین بھی یہی امید رکھتا ہے۔‘

انڈیا نے اس بیان پر چین کے وزیر خارجہ کا نام لے کر ردعمل دیا جسے ایک غیر معمولی عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیا کی وزارت خارجہ نے بدھ کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم او آئی سی کے افتتاحی تقریب میں تقریر کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی طرف سے انڈیا کے نام نہاد حوالے کو مسترد کرتے ہیں۔‘

انڈیا کی وزارت امور خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی کے ذریعے جاری کی گئی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے سے متعلق معاملات مکمل طور پر انڈیا کے اندرونی معاملات ہیں۔ چین سمیت دیگر ممالک کے پاس تبصرہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اُنھیں یاد رکھنا چاہیے کہ انڈیا اپنے اندرونی مسائل کے بارے میں عوامی فیصلے سے گریز کرتا ہے۔‘

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو شروع کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کا آغاز دونوں اطراف کے ممکنہ اعلیٰ سطحی دوروں سے ہونا تھا۔

ماضی میں انڈیا میں ماہرین اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے لداخ کی سرحد کے ساتھ مبینہ چینی دراندازی کے بارے میں انڈین حکومت کے ردعمل پر تنقید کی ہے اور اسے کمزور کہا ہے۔

اگرچہ کشمیر پر انڈیا کا مؤقف متوقع ہے لیکن چین کے خلاف اس کا ایسے وقت میں سخت ردعمل جب کہ چین کے وزیر خارجہ انڈیا کے دورے پر آنے والے ہیں ایک حد تک حیران کن ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

انڈیا نے چین کے بیان پر تنقید کیوں کی

چینی اُمور کے ماہر پروفیسر سری کانت کونڈاپلی کہتے ہیں کہ 2019 میں جب سے چین نے اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا تھا، انڈیا کشمیر پر چین کے مؤقف کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اُنھوں نے اس مسئلے کو تین بار اٹھایا جبکہ دیگر سلامتی کونسل ممبران بحث میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے اور انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تبصرہ کیا کہ انڈیا نے چین کا کوئی اندرونی معاملہ نہیں اٹھایا اور یہ انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے اس لیے چین مداخلت سے باز آئے۔‘

اُنھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حالانکہ اس وقت انڈیا سلامتی کونسل کا چیئرمین تھا لیکن انڈیا نے تبت کے معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھا کر جوابی کارروائی نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں ’نہ ہی انڈیا نے تائیوان یا سنکیانگ کا مسئلہ اٹھایا۔ لہٰذا دوسرے لفظوں میں انڈیا ان میں سے کسی بھی مسئلے کو اٹھانے سے باز رہا۔‘

انڈیا عام طور پر چین پر تنقید کرنے سے گریز کرتا ہے خاص طور پر ان مسائل پر جنھیں چین اپنے اندرونی مسائل قرار دیتا ہے مثلا ہانگ کانگ، تائیوان، تبت اور اویغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں۔

چین، انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

سری کانت کا خیال ہے کہ چین سے منسلک مسائل پر انڈیا کے ہوشیار ردعمل کا لداخ کے ساتھ بھی تعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جبکہ وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی 2019 کی قرارداد نے لداخ میں زمینی حقیقت کو تبدیل نہیں کیا ہے۔ وہ بنیادی طور پر یہ کہنا چاہتے تھے کہ ’ہم نے چینی کنٹرول میں کسی بھی علاقے کو قبضہ نہیں کیا ہے۔ چین نے لداخ یونین ٹیریٹری کو غیر قانونی کہہ کر اس مسئلہ کو اٹھایا۔‘

وہ کہتے ہیں ’لہٰذا [ان مسئلوں پر] انڈین اور چینی ردعمل میں تضاد ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’چونکہ اُنھوں نے اس مسئلے [کشمیر] کو اٹھایا، جو کہ انڈیا کے نقطہ نظر سے ممنوع ہے، اسی لیے انڈیا کا ردعمل بھی انتہائی تنقیدی تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اگر چین کے بیان میں تضاد ہوتا تو بات ہوتی‘

خارجہ پالیسی کے ماہر قمر آغا کا ماننا ہے کہ چین کے ردعمل سے انڈیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’او آئی سی میں اس طرح کی قرارداد آتی ہیں اور پہلے بھی آتی تھیں۔ جب بھی دونوں فریقین کی بات ہوتی تھی تو کوئی عرب یا اسلامی ملک اس مسئلے کو نہیں اٹھاتا۔ اور یہ ملک اپنے ملک میں بھی جا کر اس کے لیے مہم نہیں چلاتے۔ یہ تھوڑا پاکستان کا دباؤ ہوتا ہے کہ عوامی جلسے کے وقت پر کشمیر یا فلسطین پر بیان آتا ہے۔‘

چین، انڈیا

،تصویر کا ذریعہPID

چین کی جانب سے کشمیر کا معاملہ او آئی سی میں اٹھانے کے معاملے پر ان کا کہنا ہے کہ یہ چین کا سفارتی انداز ہے۔

وہ کہتے ہیں ’جب چین کے صدر شی جن پنگ احمد آباد آئے تھے تب بھی سرحد پر دخل اندازی جاری تھی۔ وہ یہاں آتے ہیں تو اس طرح بیانات دے کر آتے ہیں۔‘

چینی اُمور کے ماہر اور مؤرخ اوتار سنگھ بھسین کہتے ہیں کہ ’چین کسی بھی فورم سے بیانات دے اس کا کوئی مطلب نہیں ہے، کیوں کہ وہ ہمیشہ سے (ایسا) کہتا آیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ لیکن ’چین پاکستان کا دوست ہے۔ وہ کچھ بھی کہے اس کا کوئی مطلب نہیں۔ ہاں، اگر چین کے بیان میں تضاد ہوتا تو بات ہوتی۔‘

تاہم سری کانت کا کہنا ہے کہ انڈیا کا حالیہ بیان اس کی چین کی مخالفت میں واضح اضافہ ہے۔ وہ کہتے ہیں ’یہ جزوی طور پر اس لیے ہے کہ کمانڈر سطح کی کئی میٹنگوں کے بعد بھی [انڈیا اور چین سے متعلق] معاملات آگے نہیں بڑھ رہے ہیں تاکہ جھڑپیں بند اور تناؤ کو ختم کیا جا سکے۔‘

اس تنازع کے باوجود چینی وزیر خارجہ کا انڈیا کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔

چین، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سری کانت کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کی ’سرکاری طور پر وجہ برکس [برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کا گروپ] کی تیاری ہے لیکن غیر سرکاری طور پر [ظاہر ہے کہ] بہت سارے مسائل پر بات چیت کی جائے گی بشمول یوکرین، آر آئی سی (روس، انڈیا اور چین) سہ فریقی کرنسی اور روس پر پابندی۔‘

انڈیا اور چین کی افواج سرحد پر آمنے سامنے کھڑی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل بات چیت کے باوجود بھی سرحد کے مسئلے کا کوئی سنجیدہ نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

سری کانت کہتے ہیں، ’انڈیا کے چین کی ساتھ سرحد پر ایک لاکھ 40 ہزار فوجی ہیں، جب کہ چینیوں کی تعداد 60-70 ہزار ہے۔ یہ عام دو طرفہ تعلقات نہیں ہیں۔ یہ بہت غیر معمولی ہے کہ ایک وزیر خارجہ اپنے انڈین ہم منصب سے بات کر رہے ہوں جب کہ محاذ پر افواج متحرک ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’یہ مسائل دو ٹوک انداز میں اٹھائے جائیں گے۔‘