انڈیا چین تنازع: چین کا گلوان میں پرچم لہرانے کا معاملہ، راہل گاندھی کی نریندر مودی سے ’خاموشی توڑنے‘ کی اپیل

چین

،تصویر کا ذریعہ@shen_shiwei

چین سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی سے مسلسل سوال پوچھنے والے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو ایک بار پھر نئے سال کے موقع پر گلوان میں چینی پرچم لہرانے کی خبر سے متعلق وضاحت مانگی۔

راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’ہمارا ترنگا گلوان پر اچھا لگ رہا ہے۔ چین کو جواب دینا پڑے گا۔ مودی جی، خاموشی توڑیں!‘

سال کے آخری دن ایک ٹویٹ میں راہل گاندھی نے وزیر اعظم کو اروناچل پردیش میں 15 مقامات کے نام تبدیل کرنے کا چیلنج دیا تھا۔

اس دن ایک اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کو شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’ابھی کچھ دن پہلے ہی ہم 1971 میں انڈیا کی شاندار فتح کو یاد کر رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ملک کی سلامتی اور جیت کے لیے جامع اور مضبوط فیصلوں کی ضرورت ہے۔ کھوکھلی بیان بازی سے فتح حاصل نہیں ہوتی!‘

تاہم اروناچل پردیش میں نام تبدیل کرنے کے معاملے پر انڈیا کی وزارت خارجہ نے احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چین نے ماضی میں بھی ایسی کوشش کی ہے، لیکن اس سے حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘

تاہم انڈیا کی حکومت نے تاحال گلوان میں چینی پرچم لہرانے کے واقعے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

گلوان میں چینی پرچم

اخبار گلوبل ٹائمز نے، جسے چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے، یکم جنوری کو ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ نئے سال کے موقع پر وادی گلوان میں چینی پرچم لہرایا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2022 کے پہلے دن چین کا پرچم پورے ملک میں لہرایا گیا۔ ان میں ’ہانگ کانگ اور گلوان وادی کے خصوصی طور پر زیرِ انتظام علاقے‘ شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق اخبار کو ایک ایسی ویڈیو بھی بھیجی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چینی فوجی انڈین سرحد کے قریب وادی گلوان میں ایک پتھر کے سامنے کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’ایک انچ بھی زمین نہ چھوڑیں گے۔‘

اس ویڈیو میں یہ فوجی قوم کو نئے سال کی مبارکباد بھی دے رہے ہیں۔ پھر چینی فوجی پرجوش انداز میں کہتے ہیں کہ ’ہم اپنی مادر وطن سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی سرحد کا دفاع کریں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

گلوبل ٹائمز کے مطابق اس کے بعد چین کا جھنڈا ایک ڈرون کے ذریعے سربلند کیا گیا جسے وہاں پر تربیت حاصل کرنے والے چین کی مغربی تھیٹر کمانڈ کے فوجیوں نے سلامی دی اور ملک کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس کے ایک دن بعد گلوبل ٹائمز نے دوبارہ دو ٹویٹ کیں، جس میں کچھ تصاویر کے ساتھ انڈین میڈیا کا حوالہ دیا گیا کہ نئے سال کے موقع پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر انڈیا اور چین کے فوجیوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی۔ اس میں مشرقی لداخ کے وہ علاقے بھی شامل تھے جو تنازعات کے شکار علاقے ہیں۔

گلوبل ٹائمز کا کہنا ہے کہ 'اگر یہ سچ ہے تو اسے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کیونکہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان کور کمانڈر کی سطح پر بات چیت ہوئی تھی جو انڈیا کی جانب سے نامناسب مطالبے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ نئے سال کے دن انڈیا اور چین کے فوجیوں نے مشرقی لداخ کی پوسٹوں سمیت ایل اے سی کے ساتھ متعدد پوسٹوں پر مٹھائیاں تقسیم کیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب گذشتہ ڈیڑھ سال سے کئی مقامات پر تعطل کی صورتحال ہے۔

گذشتہ سال پانچ مئی کو مشرقی لداخ کے پینگونگ جھیل کے علاقے میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا تھا جس کے بعد دونوں ممالک نے آہستہ آہستہ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں ہتھیار اور فوجی تعینات کر دیے تھے۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گلوان کی جدوجہد

جون 2020 میں وادی گلوان میں انڈیا اور چین کی فوجوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ چین نے بعد میں کہا تھا کہ اس کے چار فوجی اس تنازع میں ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بارے میں انڈیا کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ تنازع اپریل کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوا تھا، جب لداخ کی سرحد یعنی چین کی جانب سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر فوج اور بھاری ٹرکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔

بتایا گیا تھا کہ چینی فوج نے اس علاقے میں اپنے خیمے لگائے، خندقیں کھودیں اور بھاری ساز و سامان اس علاقے میں کئی کلومیٹر اندر لے آئے جسے انڈیا اپنا علاقہ سمجھتا رہا ہے۔

اس واقعے کے ردِ عمل میں انڈیا نے ہزاروں فوجی اور فوجی ساز و سامان لداخ روانہ کیا۔ اور اس کے بعد ہی 15 اور 16 جون کی درمیانی شب لداخ کی وادی گلوان میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں انڈین فوج کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہوئے۔

انڈیا اور چین دونوں نے ایک دوسرے پر اس حوالے سے الزامات عائد کیے۔

انڈیا اور چین کے درمیان سرحد تقریباً 3440 کلومیٹر لمبی ہے۔ تاہم سنہ 1962 کی جنگ کے بعد سے، اس سرحد کا زیادہ حصہ تنازع کا شکار ہے اور دونوں ممالک اس بارے میں مختلف دعوے کرتے ہیں۔