وادی گلوان: ’انڈین فوج نے کبھی بھی لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کی‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین کی جانب سے وادی گلوان میں ہونے والی خونریز جھڑپوں پر دیے گئے بیان کا جواب دیتے ہوئے انڈیا کا کہنا ہے کہ انڈین فوج نے کبھی بھی لائن آف ایکچول کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کی۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو کا کہنا ہے کہ ’وادی گلوان کے علاقے کے حوالے میں انڈیا کی پوزیشن تاریخی طور پر واضح ہے۔ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین کی طرف سے بہت سے دعوے کیے گئے ہیں جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہیں۔‘

یاد رہے کہ سنیچر کی صبح چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے کہا تھا کہ گلوان میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ دار انڈیا کی فوج ہے اور یہ کہ پوری گلوان وادی چین کے دائرہ اختیار میں ہے۔ انڈیا اور چین کی سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں انڈیا کے 20 فوجی مارے گئے تھے، جن میں ایک کرنل بھی شامل تھا۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج کو وادی گلوان سمیت انڈیا اور چین کے مابین لائن آف ایکچول کنٹرول سے ملحقہ تمام علاقوں کی مکمل طور پر سمجھ بوجھ ہے اور انڈین افواج اس کا مکمل احترام کرتی ہیں۔ انڈین فوج نے کبھی بھی لائن آف ایکچول کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا نے ردعمل دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ’سچ بتایا جائے، ایک طویل عرصے سے وہ (انڈین افواج) اس علاقے میں پیٹرولنگ کرتے رہے ہیں اور اس دوران کبھی کوئی حادثہ پیش نہیں آیا نیز انڈین آرمی نے جتنا بھی تعمیراتی کام کیا ہے وہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی ایک جانب ہے۔‘

بیان میں بتایا گیا ہے کہ مئی کے آغاز میں چینی افواج انڈیا کی جانب سے کی جانے والی پیٹرولنگ میں خلل ڈال رہی تھیں جس کی وجہ سے صورتحال کشیدہ ہوئی۔ ایسی صورتحال میں انڈین زمینی دستوں نے دو طرفہ معاہدات کی روشنی میں پوزیشن سنبھالی۔

انڈیا ان الزامات کو قبول نہیں کرتا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر یک طرفہ تبدیلیاں کی گئیں۔ انڈیا نے ہمیشہ سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

چینی فوج

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا کا کہنا ہے کہ مئی کے وسط میں چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے مغربی سیکٹر میں دخل اندازی کی کوشش کی جس کا انھیں جواب دیا گیا۔ اس کے بعد کشیدہ صورتحال کو پرسکون کرنے کے لیے دونوں اطراف میں فوجی اور سفارتی سطح پر بات چیت ہوئی اور چھ جون 2020 کو سینیئر کمانڈرز کی میٹنگ ہوئی۔

دونوں اطراف لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی پاسداری کرنے پر متفق ہوئیں اور یہ فیصلہ ہوا کہ صورتحال کو بدلنے کے لیے کوئی بھی فریق یک طرفہ ایکشن نہیں لے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین نے گلوان وادی کے حوالے سے ہونے والے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے بہت قریب تعمیراتی کام شروع کر دیا۔ جب انھیں ایسا کرنے سے منع کیا گیا تو 15 جون کو انھوں نے متشدد اقدام کیا جس میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے۔

اس کے بعد انڈیا کے وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب سے بات کی اور سخت الفاظ میں احتجاج کیا۔ انڈین وزیر خارجہ نے چین کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو رد کیا اور کہا چین نے سینیئر کمانڈرز کی میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں سے رو گردانی کی۔

اپنے بیان میں انڈین وزارتِ خِارجہ کا کہنا ہے کہ اب دونوں فوجی اور سفارتی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کر رہے ہیں اور انڈیا کو امید ہے کہ چین سرحد پر امن برقرار رکھنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

چین کا کیا کہنا تھا؟

چینی ترجمان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنچینی ترجمان ژاؤ لیجیان

چین کا کہا تھا کہ اس وقت ان کی تحویل میں کوئی انڈین فوجی نہیں ہے اور پوری گلوان وادی اس کے دائرہ اختیار میں ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی یومیہ پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان لیجیان ژاؤ نے کہا ’جہاں تک میرا علم ہے اس وقت چین کی تحویل میں کوئی انڈین فوجی موجود نہیں ہے۔‘ تاہم انھوں نے کسی انڈین فوجیوں کی نظربندی کی تصدیق نہیں کی۔

انڈین میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 15 اور 16 جون کی درمیانی شب کو ہونے والی پرتشدد جھڑپ کے بعد چین نے چار انڈین افسروں اور چھ جوانوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جنھیں جمعرات کی شام کو رہا کیا گیا ہے۔

جب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان سے انڈیا میں چین کے خلاف ہونے والے احتجاج اور وادی گلوان میں پیشرفت کے بعد چینی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ گلوان میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ دار انڈیا کی فوج ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ہی ملک فوجی اور سفارتی چینلز کے ذریعے بات چیت کر رہے ہیں اور کشیدگی کو کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا: 'چین انڈیا کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ انڈیا دور رس ترقی کے لیے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

وادی گلوان پر چین کا مکمل بیان

انڈیا اور چین کی سرحد کے مغربی حصے میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ پوری گلوان وادی چین کے حصے میں آتی ہے۔ کئی سالوں سے چین کے فوجی اس علاقے میں گشت کر رہے ہیں۔

رواں سال اپریل کے بعد سے لائن آف ایکچول کنٹرول پر واقع وادی گلوان میں انڈین فوج نے یکطرفہ طور پر سڑکیں پل اور دیگر ٹھکانے بنائے ہیں۔

چین نے اس کے متعلق متعدد بار شکایت کی لیکن انڈیا نے مزید اشتعال انگیز کارروائی کی اور ایل اے سی کو عبور کیا۔

چھ مئی کی صبح ایل اے سی کو عبور کرنے والے سرحد پر تعینات انڈین فوجیوں نے، جو رات کے وقت ایل اے سی کو عبور کرکے چین کی حدود میں داخل ہوئے تھے، بیریکیڈز لگائے اور مورچے بنائے، جس کی وجہ سے سرحد کے ساتھ چینی فوجیوں کی گشت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

انڈین فوجی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلیہ کی جانب گامزن انڈین فوجی قافلہ

انڈین فوجیوں نے دانستہ طور پر اشتعال انگیز کارروائیاں کیں اور انتظامیہ اور کنٹرول کی حثیت میں تبدیلی کا موجب ہوئے۔

چینی فوجی اس صورتحال سے نمٹنے اور زمین پر اپنے نظم و نسق کے استحکام کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر مجبور ہوئے۔

کشیدگی کو کم کرنے کے لیے انڈیا اور چین نے فوجی اور سفارتی چینلز سے بات چیت کی۔ چین کے سخت مطالبات کے جواب میں انڈیا ایل اے سی کو عبور کرنے والے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے اور تعمیر کردہ ٹھکانوں کو مسمار کرنے پر راضی ہوگیا۔ انڈیا نے ایسا کیا بھی ہے۔

چھ جون کو فریقین نے کمانڈر سطح پر بات چیت کی اور تناؤ کو کم کرنے پر اتفاق کیا۔ انڈیا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ دریائے گلوان کو عبور نہیں کرے گا اور دونوں فریقین کمانڈروں کے مابین ملاقاتوں کے ذریعے مرحلہ وار طور پر فوجی دستے واپس بلائیں گے۔

لیکن 15 جون کی رات سرحد پر موجود انڈین فوجیوں نے کمانڈر سطح کے اجلاس میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر ایل اے سی کو عبور کیا۔ جب وادی گلوان میں تناؤ ختم ہورہا تھا اس وقت انھوں نے جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا۔

چینی فوجی اور افسر جو بات چیت کے لیے ان کے پاس گئے تھے انھوں نے ان پر پُرتشدد حملہ کیا، اور فوجی مارے گئے۔

انڈین فوج کی اس جسارت نے سرحدی علاقے کے استحکام کو کمزور کردیا۔ چینی فوجیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا ہے، سرحدی تنازع پر دونوں فریقوں کے مابین معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

چین نے انڈیا کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے اور اس کی سخت مخالفت کی ہے۔

انڈین طیارہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا چین سرحد پر پرواز کرتا ہوا انڈین فضائیہ کا جنگی طیارہ

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں وزیر خارجہ وانگ یی نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرے، ذمہ داروں کو سزا دے اور سرحد پر موجود انڈین فوجیوں کو ڈسپلین میں رکھے اور فوری طور پر اشتعال انگیزی کی کارروائیاں بند کی جائيں تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

زمینی حالات کو سدھارنے کے لیے جلد ہی کمانڈروں کے مابین دوسرا اجلاس بھی ہوگا۔

وادی گلوان میں تصادم کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے دونوں فریقین انصاف پسندی کے ساتھ کام کریں گے، کمانڈر سطح کے اجلاس میں طے پانے والے معاہدے پر عمل کریں گے اور جلد از جلد صورتحال کو معمول پر لے کر آئیں گے اور اب تک ہونے والے معاہدے کے تحت سرحدی خطے میں امن قائم کریں گے۔

انڈیا وزیر اعظم نے کیا کہا؟

انڈیا چین سرحد پر حالیہ واقعات کے پس منظر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعے کو منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں کہا کہ نہ کوئی بھی ہمارے علاقے میں داخل ہوا ہے اور نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ کیا گیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ انڈیا امن اور دوستی کا خواہاں ہے لیکن وہ اپنی خود مختاری سے سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا: 'اب تک جن سے کوئی بھی سوال نہیں کرتا تھا، جسے کوئی نہیں روکتا تھا، اب ہمارے فوجی انھیں کئی سیکٹرز میں روک رہے ہیں۔'