انڈیا میں ہم جنس پرستوں سے موبائل ایپس کے ذریعے بلیک میلنگ: ’انھیں میرے جذبات کی پرواہ نہیں بلکہ میرے پیسوں میں دلچسپی تھی‘

انڈیا میں ہم جنس پرستی

،تصویر کا ذریعہSAJJAD HUSSAIN

    • مصنف, بھرگوا پارکھ
    • عہدہ, بی بی سی گجراتی سروس

’جب میں دس سال کا تھا تو میرے استاد نے مجھ پر جنسی حملہ کیا۔ اس کے بعد کالج میں میرے سینئیرز نے مجھے ہاسٹل میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میں اس تجربے کو بھول نہیں سکتا۔‘

’میں نے بہت محنت سے تعلیم حاصل کی اور پروفیسر بن گیا۔ میں نے شادی کی اور میرا بچہ ہوا اور میں اپنی زندگی میں خوش تھا لیکن میں خواتین کے مقابلے مردوں کی طرف زیادہ راغب تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم جنس تعلقات میں میرے ساتھی میرا زیادہ خیال رکھتے تھے۔‘

’میں نے انٹرنیٹ پر نئے پارٹنر کی تلاش شروع کی اور میرا دو نوجوانوں سے رابطہ ہوا۔ ہمارے ہم جنس پرست تعلقات تھے لیکن اس کے بعد انھوں نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور مجھ سے لاکھوں روپے بٹورنے لگے۔‘

یہ الفاظ 53 سال کے پروفیسر سبودھ (نام تبدیل کیا گیا ہے) کے ہیں جن کے ہم جنس پرست تعلقات تھے اور انھوں نے پولیس میں بلیک میلنگ کی شکایت درج کرائی۔

احمد آباد کے ایک نامور کالج میں پروفیسر کے طور پر کام کرنے والے سبودھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے شادی سے پہلے بھی ہم جنس پرستانہ تعلقات رکھے تھے لیکن میں نے اپنے خاندان کے دباؤ پر شادی کر لی۔‘

ہم جنس پرست ساتھی کی تلاش

پروفیسر سبودھ اور ان کی اہلیہ کا ایک بیٹا تھا لیکن کچھ عرصے بعد بیوی کی طرف ان کی کشش کم ہو گئی اور انھوں نے مرد ساتھی کی تلاش شروع کر دی۔

پروفیسر سبودھ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تین ہم جنس پرستوں کو اپنا شوہر مانتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے ان تین ساتھیوں کے ساتھ جو جذباتی تعلق انھوں نے محسوس کیا، وہ کبھی اپنی بیوی کے ساتھ محسوس نہیں کیا۔

سبودھ کے مطابق ان کے تینوں ساتھی ایک ایک کر کے احمد آباد چھوڑ گئے اور وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ نیا ساتھی ڈھونڈ پاتے، کورونا کی وبا آ گئی۔ اس دوران ان کے ایک پرانے ساتھی نے انھیں ہم جنس پرستوں کے واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا۔

وہ ایک ایپ کی مدد سے احمد آباد میں کچھ دوسرے ہم جنس پرستوں کے رابطے میں آئے۔

انڈیا میں ہم جنس پرستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سبودھ کہتے ہیں کہ ’میں نے ’گرینڈر‘ اور ’پلاٹینئیم رومیو‘ نامی ایپس جوائن کیں جہاں آپ ہم جنس پرستوں کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ سکتے تھے۔ اس ایپ میں بہت سے نوجوان بھی تھے۔ میں ان لڑکوں کو پیسے دے کر ان سے رابطے میں رہتا تھا کیونکہ میں اپنی تنہائی کو ختم کرنا چاہتا تھا۔‘

’مجھے ان نوجوانوں کے ساتھ تعلقات پسند تھے لیکن وہ میرے پیسوں میں دلچسپی رکھتے تھے اور انھوں نے میرے جذبات کی پرواہ نہیں کی۔‘

’انھوں نے میری تصویریں اور ویڈیوز بنائیں اور پھر مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے مجھ سے پانچ لاکھ روپے لیے کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری بیوی کو اس بارے میں پتا چلے۔ جب ان کی مانگ بڑھنے لگی اور میں انھیں زیادہ پیسے دینے کی پوزیشن میں نہیں رہا تو انھوں نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔‘

جب معاملہ پولیس تک پہنچا

سبودھ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس بارے میں پولیس میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس نے ان لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔

سبودھ کا کہنا ہے کہ ’ان لوگوں نے یقیناً مجھ جیسے کئی دوسرے لوگوں کو بھی بلیک میل کیا ہو گا۔‘

بوپال پولیس سٹیشن کے انسپیکٹر دلیپ پٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ پروفیسر گرینڈر نامی ایپ کے ذریعے دو نوجوانوں سے رابطے میں آئے۔ ان میں سے ایک نے صرف بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور اب وہ پرائیویٹ فوٹوگرافر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا 20 سال کا دوست اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں ہے۔ یہ دونوں ایک ایسے گینگ کے رکن ہیں جو ’گرینڈر‘ ایپ کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے۔‘

انسپیکٹر دلیپ پٹیل نے بتایا کہ ’10 فروری کو پروفیسر کو نارائن نگر علاقے میں ایک فلیٹ میں بلایا گیا۔ جہاں تین اور لوگ پہلے سے موجود تھے۔ ان لوگوں نے پروفیسر سے پیسے مانگے اور ان کی پٹائی کی۔ انھوں نے پروفیسر سے ان کی کار کی چابی لے لی اور موبائل فون بھی چھین لیا جبکہ ان کے بینک اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ روپے بھی نکلوا لیے۔‘

پولیس انسپیکٹر کے مطابق اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور چار دیگر کی تلاش جاری ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ اس گینگ نے مزید کتنے لوگوں کو پھنسایا۔

انڈیا میں ہم جنس پرستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہم جنس پرست تعلقات کے لیے رقم کی عدم ادائیگی کا معاملہ

51 سال کے نیان شاہ (نام تبدیل کیا گیا) بھی اسی طرح کی ایک اور ایپ کا شکار ہوئے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ہمیشہ ہم جنس پرست تعلقات کو ترجیح دی۔ میں سرکاری ملازمت میں ہوں اور کلاس ٹو افسر کے طور پر کام کرتا ہوں۔‘

’ہماری عمر کے لوگ نوجوان لڑکوں کو پسند کرتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے دوران بہت سے لوگوں نے ہم جنس پرستوں کی ایپس کو جوائن کیا۔ ان دنوں ہم جنس پرست تعلقات سے پیسہ کمانا آسان نہیں تھا، اس لیے بہت سے لوگوں نے بہت کم پیسوں میں اپنی خدمات فراہم کیں۔ ان کیسز میں بلیک میل ہونے کے باوجود لوگ رسوائی کے ڈر سے شکایت نہیں کرتے، اسی وجہ سے بلیک میلنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

چوری کے مقدمات

نین شاہ کا کہنا ہے کہ دو نوجوان لڑکوں نے ان سے رقم، سونے کی چین، انگوٹھیاں اور موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔

’جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ مجھے لوٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو میں نے ان پر پتھروں سے حملہ کیا اور وہ فرار ہو گئے۔‘

چندو بھائی پٹیل، ہم جنس پرستوں اور ٹرانس جینڈر لوگوں کے لیے ایک تنظیم ’چنوال‘ جو گزشتہ 32 سال سے کام کر رہی ہے، کے صدر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی، ایسے میں وہ امیر لوگوں کی ایسی خواہشات پوری کر کے پیسے کما لیتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کچھ لوگوں کو ایسے رشتوں میں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

چندو پٹیل کے مطابق یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ غریب ہیں، جن کے پاس نوکریاں نہیں، وہ ہم جنس پرستوں کو خدمات فراہم کرنے کے کام میں لگ جاتے ہیں اور استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں، انھیں خاطر خواہ رقم نہیں ملتی اور ان سے مار پیٹ بھی کی جاتی ہے۔‘

’وہ اس خوف کی وجہ سے شکایت نہیں کرتے کہ معاشرے میں نام خراب نہ ہو جائے۔ عام طور پر ہم جنس پرست ایک دوسرے کو بلیک میل نہیں کرتے لیکن کورونا کی وبا کی وجہ سے ایسے معاملات میں اضافہ ہوا۔‘

انڈیا میں ہم جنس پرستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ایپس میں رازداری ہوتی ہے لیکن خطرہ بھی‘

’چنوال‘ کے ساتھ کام کرنے والے راکیش راٹھور کہتے ہیں کہ ہم جنس پرست تعلقات میں لوگ اپنے مسائل لے کر ہمارے پاس آتے ہیں، ہم کئی طریقوں سے ان کی مدد کرتے ہیں اور انھیں محفوظ جنسی، سماجی اور ذہنی مسائل کے بارے میں بتاتے ہیں۔

’ہم جنس پرستوں کے بہت سے واٹس ایپ گروپ ہیں۔ پہلے وہ واٹس ایپ گروپ استعمال کرتے تھے لیکن کورونا وبا کے دوران، ہم جنس پرستوں نے ایک دوسرے سے رابطے کے لیے ’پلاٹینم رومیو‘ اور ’گرینڈر‘ جیسی ایپس کا استعمال شروع کر دیا۔‘

’ان ایپس میں ہر قسم کے اجنبی ملتے ہیں۔ ایپ سے جڑے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں اور ملاقات کے لیے جگہ اور وقت کا فیصلہ کرتے ہیں۔‘

خاص نوعیت کے لیے خفیہ نام

راکیش راٹھور کے مطابق ’بہت سے لوگ ایپس کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ واٹس ایپ میں پکڑے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان ایپس میں صارف کی پرائیویسی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خفیہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایپ میں اگر کسی شخص کو قابل بھروسہ سمجھا جاتا ہے، وہ بلیک میل نہیں کرتا اور نہ ہی لوٹتا ہے تو اسے ’چیسو‘ کہا جاتا ہے۔ اگر آپ کے کسی شخص کے ساتھ ہم جنس پرست تعلقات ہیں اور پھر کوئی آپ کو ہراساں کرتا ہے تو اس کا کوڈ ورڈ ہے ’بلودھر‘۔

’ان ایپس کا کورونا کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہو گیا تھا کہ کون کس کے ساتھ جا رہا ہے۔ ایسے میں ان صارفین کو بلیک میل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ کچھ مالی طور پر کمزور لوگ جو ہم جنس پرستوں سے تعلقات بنا کر پیسے کماتے ہیں، ان کے استحصال کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ان لوگوں کو پیسے کم ملتے ہیں اور بدنامی کے ڈر سے پولیس میں شکایت نہیں کرتے۔‘

انڈیا میں ہم جنس پرستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گجرات پولیس کے ایک ریٹائر اے سی پی دیپک ویاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم جنس پرستوں کے تعلقات کا یہ کاروبار کافی عرصے سے جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’شہروں میں ہم جنس پرست تعلقات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر جب سے سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں اسے غیر قانونی سرگرمیوں کے دائرہ سے باہر کر دیا۔ دوسری طرف سماجی طور پر باوقار اور دولت مند افراد کو بلیک میل کرنا کوئی نئی بات نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ سماجی وقار کھونے کے خوف سے ایسے معاملات میں شکایت درج نہیں کراتے لیکن جب ایسے معاملات پولیس تک پہنچتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ان کی شناخت خفیہ رہے۔ پولیس ان لوگوں کے لیے کونسلنگ کا بھی انتظام کرتی ہے کیونکہ یہ لوگ جلد ہی ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

’پہلے ہم جنس پرست واٹس ایپ گروپس کا بہت چرچا تھا۔ ہم واٹس ایپ چیٹ کی بنیاد پر لوگوں کو گرفتار کرتے تھے لیکن لوگ شکایات کے اندراج سے گریز کرتے تھے۔ اب ایپس کی وجہ سے پرائیویٹ بات چیت نہیں ہوتی۔ پہلے اگر واٹس ایپ گروپ کے دو افراد موجود تھے۔ ان کے درمیان جھگڑا ہوا کرتا تھا، پھر کوئی خفیہ طریقے سے پولیس کو اطلاع کر دیتا تھا اور شکایت درج نہ ہونے پر بھی پولیس معاملہ طے کر لیتی تھی لیکن اب ایسا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘