شہریت کا متنازع انڈین قانون: انڈیا کی خاتون کو شہریت ثابت کرنے کے لیے سات سالہ قانونی جنگ لڑنی پڑی

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA
- مصنف, لیپ کمار شرما
- عہدہ, بی بی سی ہندی
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک خاتون نے اپنی شہریت کو ثابت کرنے کے لیے سات سال تک قانونی لڑائی لڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے وہ قرض اور خوف میں مبتلا ہو گئی ہیں۔
شمال مشرقی ریاست آسام کی 42 سالہ سیفالی رانی داس جب بھی پولیس کو دیکھتیں تو خوفزدہ ہو جاتیں۔
کئی سالوں سے پولیس بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب کاچر ضلعے میں واقع ان کے گھر کا چکر لگا رہی تھی۔ پولیس انھیں نوٹس دینے کے لیے آتی تھی کہ وہ اپنی انڈین شہریت کے شواہد کے لیے کاغذات پیش کریں۔
اب انھیں پولیس سے مزید چھپنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جنوری میں برسوں تک عدالتوں میں پیش ہونے کے بعد ان کے حق میں فیصلہ سنایا گیا ہے کہ وہ انڈیا کی شہری اور قانونی رہائشی ہیں۔
لیکن اس قانونی لڑائی کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ اس خاندان نے مقدمہ لڑنے کے لیے جو قرض لیے تھے اب اسے واپس کرنے کے لیے انھیں جدوجہد کا سامنا ہے۔ اتنا ہی نہیں، انھیں اب یہ ثابت کرنے کے لیے ایک اور مقدمہ بھی لڑنا ہے کہ ان کے شوہر بھی انڈین شہری ہیں۔
مس داس کہتی ہیں: ’میرا خاندان اور میرے بچے پچھلے کچھ سال جن حالات سے گزرے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ اس سے بڑھ کر مشکلات ہو سکتی ہیں۔‘
وہ آسام کے ان لاکھوں لوگوں میں شامل ہیں جنھیں پچھلی چند دہائیوں میں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیا گیا ہے اور ان سے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ یہ کام بہت مشکل اور پیچیدہ ہے کیونکہ اگر وہ اپنی شہریت ثابت نہیں کر پاتے ہیں تو انھیں حراست میں لیا جا سکتا ہے یا پھر ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
’میں یہیں پیدا ہوئی پھر اچانک بنگلہ دیشی کیسے بن گئی؟‘
آسام میں یہ ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ سنہ 1951 میں، ریاست نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے تحت اپنے باشندوں کی تفصیلات درج کرنی شروع کیں۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ کون ریاست میں پیدا ہوا اور کون انڈین ہے جبکہ کون پڑوس میں واقعہ سابقہ مشرقی پاکستان سے آنے والا مہاجر ہے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش پہلے مشرقی پاکستان تھا اور مسلم اکثریتی ملک کا حصہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رانی داس نے کہا: ’میں یہیں پیدا ہوئی اور میں نے یہیں تعلیم حاصل کی۔ پھر میں اچانک بنگلہ دیشی کیسے بن گئی؟ یہ سوال مجھے پریشان کرتا رہا۔‘
مرکزی حکومت اور آسام میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف تحریک کے رہنماؤں کے درمیان سنہ 1985 کے ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت جو بھی شخص یہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ یکم جنوری سنہ 1966 سے پہلے ریاست میں داخل ہوا ہے، اسے انڈیا کی شہریت دی جائے گی۔
اور جو لوگ یکم جنوری سنہ 1966 سے 24 مارچ سنہ 1971 (بنگلہ دیش کے پاکستان سے آزادی کا اعلان کرنے سے ایک دن پہلے) کے درمیان داخل ہوئے انھیں حکومت کے ساتھ خود کو رجسٹر کروانا ہوگا، اور 24 مارچ سنہ 1971 کے بعد ریاست میں داخل ہونے والوں کو غیر ملکی قرار دے کر ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
سنہ 1980 کی دہائی کے اواخر سے غیر ملکی ٹریبونل کہلانے والی خصوصی عدالتیں مبینہ طور پر غیر قانونی تارکین وطن کے مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں۔ ان مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی رپورٹ عام طور پر سرحدی پولیس کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس مسئلے نے سنہ 2019 میں بین الاقوامی توجہ حاصل کی جب این آر سی کو اپ ڈیٹ کیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 19 لاکھ افراد بے وطن قرار دیے گئے اور اب وہ ٹربیونلز کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ ٹربیونلز ریاست میں ایک نیم عدالتی نظام کے طور پر کام کرتے ہیں اور اکثر ان کے فیصلوں پر تعصب اور عدم مطابقت کا الزام لگایا جاتا ہے۔
غیر ملکی ہونے کا لیبل
سیفالی رانی داس کی آزمائش سنہ 2012 میں اس وقت شروع ہوئی جب پولیس نے ان کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا۔ اگرچہ اب یہ قانون ختم کر دیا گیا ہے لیکن اس کے تحت ان کی شہریت پر شک کا اظہار کیا گيا۔
اس مقدمے کے تحت پولیس کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس شک کو ثابت کرے جس کی وجہ سے اسے وہاں کا بار بار دورہ کرنا ہوتا تھا۔
سیفالی رانی داس کہتی ہیں کہ ایک بار جب انھوں نے پولیس کو آتے دیکھا تو وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے فرار ہو گئیں۔ وہ دن بھر اپنے گاؤں سے دور ایک مسلم خاندان کے گھر میں چھپی رہیں۔
سنہ 2015 میں ان کے معاملے کو ایک ٹربیونل کے سپرد کیا گیا جس نے شواہد پیش کرنے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دی۔
ایک وکیل نے ان کے کاغذات کو ترتیب دینے میں مدد کی لیکن انھیں پھر بھی کسی دوسرے شہر جا کر متواتر سماعت کے لیے پیش ہونے کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔
ان کے شوہر جو کہ ایک سکول میں اردلی کے طور پر کام کرتے تھے وہ اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے اور اب وہ اپنی روزی روٹی کے لیے اینٹیں اٹھاتے تھے جب کہ ان کی اہلیہ سیفالی رانی داس دوسرے کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ کئی دن ایسے بھی گزرے جب ان کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔
وہ اپنی دستاویزات کے ساتھ چند سماعتوں کے دوران حاضر ہوئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دادا یکم جنوری سنہ 1966 کی حد بندی والی تاریخ سے پہلے آسام میں رہتے تھے اور ساتھ ہی ان کے پاس یہ ثابت کرنے والے کاغذات بھی تھے کہ وہ ان کی پوتی تھیں۔
لیکن جلد ہی ان کے لیے سفر کے اخراجات اور قانونی فیس کے لیے رقم جمع کرنا مشکل ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA
غیر قانونی تارکین وطن قرار
سنہ 2017 میں وہ چند سماعتوں میں حاضر نہ ہو سکیں جس کی وجہ سے ٹربیونل نے انھیں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیا اور ان ووٹرز لسٹ سے ان کے نام ہٹانے کا حکم دیا، اور کہا کہ انھیں اب انڈیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جس دن ان کو غیر ملکی قرار دینے کا سرکاری نوٹس ملا اس دن ان کے خاندان میں کسی نے کچھ نہیں کھایا۔
اس کے بعد انھوں نے ایک وکیل موہیتوش داس سے رابطہ کیا جو ان جیسے تقریباً 50 لوگوں کے مقدمات لڑ رہے تھے۔
انھوں نے سنہ 2017 میں ہائی کورٹ سے ان کے معاملے سٹے آرڈر حاصل کیا جس کا مطلب حراست سے تحفظ تھا۔
اس کے بعد اس مقدمے کی سنہ 2021 میں ہی سماعت ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ ان کی طرف سے کوئی ’دانستہ غفلت‘ نہیں برتی گئی اور ٹریبونل کو حکم دیا کہ کیس کی دوبارہ سماعت کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ چند مہینوں کے دوران آسام کی ہائی کورٹ نے ٹریبونل کے کئی فیصلوں کو الٹ دیا ہے جس میں ایک معاملہ وہ بھی ہے جس میں ایک شخص کو عدالت میں پیش کیے بغیر ’غیر ملکی‘ قرار دیا گیا تھا۔
جب ٹربیونل نے سیفالی داس کے کیس کی دوبارہ سماعت کی تو اس نے ان کے تمام دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد اپنا سابقہ حکم معطل کر دیا۔ آخر کار 17 جنوری سنہ 2022 کو انھیں انڈین شہری قرار دے دیا گیا۔
حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقامی رکن اسمبلی پریمل سکلا بیدیہ نے کہا کہ سیفالی داس کی انصاف کے لیے لڑائی خاص طور پر قابل ستائش تھی کیونکہ وہ ایک دور دراز علاقے سے آئی ہیں جہاں زندہ رہنا بھی ایک جدوجہد ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لڑائی ابھی جاری ہے
اب سیفالی رانی داس کہتی ہیں کہ انھیں اپنے شوہر پربھود رنجن داس کی شہریت ثابت کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
ان کے شوہر کو ایک ’سٹریم لائن غیر ملکی‘ قرار دیا گیا ہے۔ یعنی ایک ایسا شخص جو یکم جنوری سنہ 1966 سے 24 مارچ 1971 کے درمیان آسام آیا تھا۔ ان غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا جاتا اور نہ ہی انھیں ملک بدر کیا جاتا ہے لیکن ان کی شہریت 10 سال کے لیے منسوخ کر دی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ووٹ نہیں دے سکتے یا پھر وہ کوئی حکومتی فوائد نہیں اٹھا سکتے۔
باسٹھ سالہ مسٹر داس کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایسی دستاویزات بھی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد سنہ 1966 سے پہلے آسام میں تھے، لیکن وہ پیسوں کی کمی کی وجہ سے کیس کی پیروی کرنے سے قاصر ہیں۔
ان کے ہندو اکثریتی گاؤں میں 15 دیگر خاندان کے لوگ بھی شہریت کے جاری مقدمات سے نمٹ رہے ہیں۔
ریاست میں دو مرتبہ وزیر مملکت رہنے والے مسٹر سکلابیدیہ کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے کچھ فیصلے ’مکمل طور پر غلط‘ ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی ان لوگوں کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہے جنھیں غلط طریقے سے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے نفاذ کے بعد یہ مسائل حل ہو جائیں گے، یہ ایک ایسا قانون ہے جو پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کی مذہبی اقلیتوں کو انڈیا میں شہریت حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ این آر سی کے ساتھ شہریت کا ترمیمی قانون انڈیا میں مسلمانوں کو حاشیے پر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
سات سالہ جدوجہد نے سیفالی رانی داس کو جذباتی طور پر مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ان کے مسائل حل کریں گے۔
تاہم وہ کہتی ہیں: ’میں اس درد کو زندگی بھر نہیں بھولوں گی۔‘











