انڈیا میں شہریت کا متنازع ترمیمی قانون: ’ہمیں گوشت خور اور پاکستان کی حمایت کرنے والے دہشتگرد کہا جا رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہNikita Deshpande/BBC
رکت ہاشمی دلی میں ایک مسلم طالبعلم ہیں جو یہ بتا رہی ہیں کہ وہ انڈیا میں اپنے مستقبل کے حوالے سے ہیجان کا شکار کیوں ہیں۔
انڈیا میں بہت سے مسلمانوں کی طرح اب میں بھی یہ سوچتے ہوئے دن بسر کر رہی ہوں کہ یہاں (انڈیا میں) ہمارا مسقبل کیا ہے؟
کیا مذہب کی وجہ سے مجھے ملازمت سے انکار ہو جائے گا؟ کیا مجھے اپنے گھر سے بیدخل کر دیا جائے گا؟ کیا ہجوم کے ہاتھوں مجھے ہلاک کر دیا جائے گا؟ کیا یہ خوف کبھی ختم ہو گا؟
انڈیا کے دارالحکومت نیو دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں ایک رات تشدد کے واقعے کے بعد میری والدہ نے مجھے کہا کہ ’حوصلہ رکھیں۔‘
انڈین پولیس نے شہریت کے متنازع بل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبا کو ڈرانے کی غرض سے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا جبکہ لائبریری اور باتھ رومز سمیت کیمپس میں آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہریت سے متعلق قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ظلم کے شکار افراد کو شہریت دینے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ تاہم اس قانون کے تحت صرف غیر مسلم افراد کو ہی تحفظ حاصل ہو گا۔
اس قانون سے مسلمانوں کو نکالا گیا ہے اور اس تعصب کے خلاف طلبا احتجاج کر رہے ہیں۔
پولیس نے ان طلبا پر تشدد کیوں کیا؟
پولیس کہتی ہے کہ ایسا اس وجہ سے کیا گیا کہ کیونکہ طلبا نے گاڑیوں کو نذر آتش کیا لیکن ہمارے خلاف کیا ثبوت ہیں؟ پولیس کہتی ہے کہ کوئی فائرنگ نہیں کی گئی تو پھر جو ہسپتال میں لوگ زخمی پڑے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوا؟
میں جامعہ یونیورسٹی میں شعبہ ’دندان سازی‘ کی طالبعلم ہوں اور میں نے دوران تعلیم یہاں کئی احتجاج دیکھے ہیں۔
میں اتوار کو ہونے والے مظاہرے میں شریک نہیں تھی جو بعد میں پرتشدد ہو گیا۔ لیکن بعد میں پولیس کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پیمانے پر حملوں کی زد میں آ گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسے ہی پولیس ہمارے ہاسٹل کی طرف بڑھی تو مجھے یاد ہے کہ میں نے غصے میں چلانا شروع کر دیا۔ ہم نے لائٹس بند کر دیں اور پولیس سے چھپنے کی کوشش کی۔ وہ رات گزر گئی اور خوش قسمتی سے ہم بچ گئیں۔
ایک بات بہت واضح ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے (شہریت بل کے خلاف) کھل کر تنقید کی یا نہیں بہرحال ہدف تو ہم ہی تھے۔ ہم انڈیا کے مسلمان۔
مجھے بچپن میں ہندو مذہبی گیتوں کی آواز پر جاگ جانا ابھی بھی یاد ہے۔ اڑیسہ کی مشرقی ریاست میں ہمارا واحد مسلم خاندان تھا جو ہندو اکثریتی علاقے میں رہ رہا تھا۔
ہم نے ہمیشہ تہوار ایک ساتھ منائے۔ وہ عید پر میرے ہاتھوں پر مہندی لگاتے اور اچھائی کی برائی پر فتح کا جشن منانے والے نواراتری میلے کو منانے میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ان کے گھروں میں جاتی تھی۔
میرے کچھ ہندو دوست مسلمانوں کے گھروں میں تیار ہونے والے ایک خاص طرح کی مصالحے دار بریانی کھانے اکثر میرے گھر آتے تھے۔
علاقے میں کوئی مسجد نہیں تھی لیکن میرے والد کو اس کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ تو ویسے بھی مسجد نہیں جاتے۔ میری ماں پانچ وقت کی نماز گھر پر ہی ادا کر لیتی تھیں۔ میں ایک کانونٹ سکول میں پڑھی جہاں ہندو طلبا کی بڑی تعداد تھی لیکن کبھی مذہبی تفریق تک کی نوبت ہی نہیں آئی۔
صرف ایک دن میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان روز نہیں نہاتے اور میں یہ سن کر ہنس پڑی۔ میرا جواب تھا یقیناً میں بھی ہر روز نہاتی ہوں۔
مذہب ہماری زندگی کا حصہ تھا لیکن آج تک مسلمان کی شناخت والے تعارف سے مجھے اس قدر احساس نہیں دلایا گیا۔ کچھ قوتیں ہمیں تقسیم کرنے کے درپے ہیں اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں آئندہ اس طرح کے تجربات سے گزر سکوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہمیں گوشت خور، معاشرے کو خراب کرنے والے زانی، پاکستان کی حمایت کرنے والے دہشتگرد، ہندؤوں کو مسلمان کرنے اور ایک ایسی اقلیت جو ملک پر قبضہ کر لے گی کے روپ میں دیکھنے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔
حقیقت میں ہم ایک دوسرے درجے کے ایسے شہری بننے جا رہے ہیں کہ جنھیں ہر حال میں خوف میں رہ کر زندگی بسر کرنی ہو گی۔
اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم مودی نے شہریت سے متعلق قانون کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ وقت ہے کہ جب امن، اتحاد اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
اس سے ایک دن قبل انھوں نے ہزاروں لوگوں اور میڈیا کے درجنوں کیمروں کے سامنے کہا کہ ’جو لوگ (املاک کو) جلا رہے ہیں وہ ٹی وی پر دیکھے جا سکتے ہیں۔۔ وہ اپنے کپڑوں سے پہچانے جا سکتے ہیں۔‘
انھوں نے اپنی بات کی کوئی وضاحت نہیں کی لیکن بظاہر یہ میرے مذہب پر ایک ڈھکا چھپا حملہ تھا، حیرت انگیز طور پر یہ سب مجھے مزید مذہبی بنا رہا ہے۔
مجھے اس کا اس طرح ادراک نہیں تھا۔ میں جب 16 برس کی تھی تو میں نے حجاب پہننا شروع کر دیا تھا۔
میں شمال میں اتر پردیش میں قائم علی گڑھ یونیورسٹی پڑھنے چلی گئی جہاں مجھے سکارف پہنے بہت سی نوجوان خواتین ملیں۔ یہ میرے لیے بہت متاثر کر دینے والے لمحات تھے اور پھر میں نے حجاب کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا دیا۔
آج میں 22 برس کی ہوں۔ اب میں فرض سمجھتی ہوں کہ میں کھڑی ہو جاؤں اور لڑوں ان غلط اطلاعات کے خلاف جو میرے مذہب اور ملک کے آئین کے خلاف ڈھٹائی سے پھیلائی جا رہی ہیں۔
میں چاہتی ہوں کہ میں تعصب پر مبنی پالیسیوں اور دگرگوں معاشی صورتحال کے خلاف اپنی تنقیدی آواز بلند کر سکوں۔
لیکن ہر بار مجھے ہندو مخالف اور قوم مخالف کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ پس منظر کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے۔ جب میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف بات کرتی ہوں تو مجھے کہا جاتا ہے کہ میں ’ہندو مسلم تنازعے‘ کو ہوا دے رہی ہوں۔
ہم ایک خطرناک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں مذہب اور قومیت کو آپس میں جوڑا جاتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جب میں باہر گھوم پھر رہی ہوتی ہوں تو میرے حجاب کی وجہ سے مجھے گھورا جا رہا ہوتا ہے۔
یہ ایک غیر منطقی ڈر ہو سکتا ہے لیکن اسلام فوبیا کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے۔ میں اس کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتی ہوں لیکن یہ میڈیا اور حکومت کی منشا سے ایسا کیا جا رہا ہے۔
موجودہ حکومت ڈھٹائی سے ہندو قوم پرستی کے نظریے کو فروغ دے رہی ہے اور اب کچھ قوانین بھی مذہبی تعصب کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے قانون ہاتھ میں لینے والے گروہوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس انتہائی بدقسمت صورتحال میں تنقیدی آوازیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ وہ سب کا انڈیا نہیں ہے جہاں میں بڑی ہوئی ہوں، ہم اس سے بہتر کے حقدار ہیں۔
’ہم انڈیا کے 200 سو ملین مسلمان‘
(ہماری) بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب ہم سرگوشی میں بات کرتے ہیں کہ کیسے ایک اور قانون آنے سے حالات مزید خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں، جہاں اب پورے ملک کو اپنی شہریت ثابت کرنا ہو گی۔
وزیر داخلہ نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ یہ سب 2024 کے انتخابات سے قبل واپس ہو جائے گا۔
لیکن اب بھی امید باقی ہے۔
ملک بھر میں (ہماری) حمایت میں اٹھنے والی آوازیں نفرت اورتعصب سے بالا ہیں۔
ہو سکتا ہے؟ یہ ہمارے خلاف کھڑے ہونے والے لوگوں کو متاثر کرے گی کہ وہ انسانیت اور معقول وجہ کے ساتھ اپنے آپ کو پھر تیار کریں۔
فی الحال تو میں خاموشی سے اس سب کا انتظار کر رہی ہوں کیونکہ میرے (خوابوں کی) دنیا اب بکھرتی جا رہی ہے۔
مجھے میرے ہاسٹل سے بے دخل کر کے چھٹیاں گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ میری تعلیم کا حرج ہوا ہے۔ میں اب اپنے خاندان والوں سے ملنے نہیں جا سکتی ہوں کیونکہ وہ دوسرے شہر میں رہتے ہیں اور وہاں زیادہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا ہے۔
لہٰذا میں نے اپنے آپ کو یہاں ایک مقامی سرپرست کے گھر تک ہی محدود رکھا ہوا ہے اور میں اپنی ماں کے الفاظ یاد کرتی ہوں کہ ’حوصلہ رکھیں اور صبر کا مظاہرہ کریں۔‘
(رکت ہاشمی کی پوجا چھابڑیہ کے ساتھ گفتگو)











