انڈیا کے امیر ترین افراد میں شامل گوتم اڈانی کا وزیراعظم مودی سے کیا تعلق ہے؟

،تصویر کا ذریعہSAM PANTHAKY/AFP/GETTY IMAGES
- مصنف, ابھینیو گوئل
- عہدہ, بی بی سی ہندی
یہ سنہ 1978 کی بات ہے۔ کالج میں پڑھتا ایک نوجوان بڑے خواب دیکھ رہا تھا۔ پھر اچانک اس نے اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ دی۔ آج اس نوجوان کا شمار ایشیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے جس کی کامیابی کی داستان میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔
یہ انڈیا کے بزنس مین گوتم اڈانی کی کہانی ہے۔ آٹھ فروری کو ان کی دولت کا تخمینہ ساڑھے 88 بلین ڈالر لگایا گیا۔
امریکی کمپنی بلوم برگ کی جانب سے آٹھ فروری کو ارب پتی افراد کی فہرست میں بتایا کہ اس دن گوتم اڈانی نے انڈیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جن کی دولت کا تخمینہ اس دن کے حساب سے 87 عشاریہ نو ارب ڈالر تھا لیکن صرف ایک ہی دن بعد مکیش امبانی پھر آگے نکل گئے۔
واضح رہے کہ مکیش امبانی انڈیا کی ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین ہیں۔
گھر کے راشن سے لے کر کوئلے کی کانوں تک، ریلوے، ہوائی اڈے، بندرگاہوں سے لے کر بجلی بنانے کے کارخانوں تک گوتم اڈانی کے درجنوں کاروبار ہیں۔ ان کی اس کاروباری کامیابی کا راز کیا ہے اور اڈانی اور مودی کے درمیان کیا تعلق ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گوتم اڈانی کے سفر کی شروعات
میڈیا میں گوتم اڈانی کی زندگی پر شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق انھوں نے سنہ 1978 میں کالج کی پڑھائی ادھوری چھوڑ دی تھی۔ اس وقت انھوں نے پڑھائی چھوڑ کر ممبئی کے ہیرا بازار کا رخ کیا تھا۔
گوتم اڈانی کی قسمت کی کہانی نے اس وقت پلٹا کھایا جب ان کے بھائی نے انھیں انڈیا کے شہر احمد آباد بلایا۔ ان کے بھائی نے اس وقت ایک پلاسٹک ریپنگ کمپنی خریدی تھی جو چل نہیں پا رہی تھی۔ کمپنی کو جو خام مال درکار تھا وہ ناکافی تھا۔
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گوتم اڈانی نے کانڈلا پورٹ پر پلاسٹک گرینوئلز کی درآمد شروع کر دی۔ سنہ 1988 میں اڈانی انٹرپرائز لمیٹڈ بن گئی جو دھاتوں، زرعی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی ٹریڈنگ کرتی تھی۔ چند ہی سال میں اس کاروبار میں اڈانی ایک بڑا نام بن گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1994 میں اڈانی کمپنی کا سٹاک نیشنل سٹاک ایکسچینج اور بمبئی سٹاک ایکسچینج پر درج ہوا تو اس وقت اس کے ایک شیئر کی قیمت ڈیڑھ سو روپے تھی لیکن ابھی تو صرف شروعات تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مندرا پورٹ
سنہ 1995 میں اڈانی گروپ نے ریاست گجرات کے ساحل پر مندرا پورٹ پر کام شروع کیا۔ تقریباً 20 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی یہ پورٹ آج انڈیا کی سب سے بڑی نجی بندرگاہ ہے جو اڈانی گروپ کی ملکیت ہے۔
اس پورٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا میں سامان کا ایک چوتھائی حصہ اسی بندرگاہ سے گزرتا ہے۔ آج انڈیا کی سات ریاستوں (گجرات، مہاراشٹرا، گوا، کیرالا، آندھرا پردیش، تامل ناڈو اور اوڈیسہ) میں 13 بندرگاہوں پر اڈانی گروپ موجود ہے۔
گجرات کے مندرا پورٹ پر کوئلے سے چلنے والا ایک بہت بڑا پاور سٹیشن اور ایک خصوصی اقتصادی زون بھی قائم ہے۔ اس کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ بندرگاہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کوئلہ ان لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بندرگاہ ایک خصوصی اقتصادی زون کے تحت بنائی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کی پروموٹر کمپنی کو کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
اس خصوصی اقتصادی زون میں پاور پلانٹس، نجی ریلوے لائن اور نجی ہوائی اڈہ بھی موجود ہے۔
راشن کے سامان کا کاروبار
جنوری سنہ 1999 میں اڈانی گروپ نے ول ایگری بزنس گروپ ولمار کے ساتھ مل کر خوردنی تیل کے کاروبار میں بھی قدم رکھ دیا۔
آج اڈانی-ولمار کمپنی ملک میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا فارچیون خوردنی تیل تیار کرتی ہے۔ فارچون آئل کے علاوہ، اڈانی گروپ اشیائے خوردونوش کے شعبے میں درجنوں مصنوعات تیار کرتا ہے جیسے آٹا، چاول، دالیں، چینی۔

،تصویر کا ذریعہADANI WILMAR
سنہ 2005 میں اڈانی گروپ نے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ساتھ مل کر ملک میں بڑے بڑے سائلوز بنانا شروع کر دیے جن میں اناج کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تھی۔
ابتدائی طور پر 20 سال کے معاہدے کے تحت اڈانی گروپ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں ایسے ذخیرے تیار کیے جن کے ساتھ ہی ساتھ انڈیا بھر میں ان یونٹس سے ڈسٹری بیوشن سینٹرز تک غذائی اجناس کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے نجی ریلوے لائنیں بھی تعمیر کی گئیں۔
آج کی تاریخ میں اڈانی ایگری لاجسٹکس لمیٹڈ نا صرف فوڈ کارپوریشن آف انڈیا بلکہ مدھیہ پردیش ریاست کا اناج بھی اپنے ڈپوز میں رکھتا ہے۔ اس میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کا 5.75 لاکھ میٹرک ٹن اور حکومت مدھیہ پردیش کا تین لاکھ میٹرک ٹن اناج شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اڈانی اور مودی کا تعلق
گوتم اڈانی کی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ قربت سنہ 2002 سے ظاہر ہوئی جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔
جب گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تو کاروباری ادارے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز (CII) سے وابستہ صنعت کاروں نے حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر مودی پر تنقید کی۔
اس وقت نریندر مودی گجرات کو سرمایہ کاروں کی پسندیدہ منزل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایسے میں گوتم اڈانی ان کی مدد کو آئے جنھوں نے گجرات کے دیگر صنعت کاروں کو مودی کے حق میں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے سی آئی آئی کے متوازی ایک اور ادارہ قائم کرنے کا بھی انتباہ دیا تھا۔
ایک سیاستدان اور بزنس مین کے درمیان تعلق اس وقت مزید ابھر کر سامنے آیا جب مارچ 2013 میں نریندر مودی کو امریکہ میں وارٹن سکول آف بزنس کے ایک پروگرام میں کلیدی مقرر کے طور پر مدعو کیا گیا لیکن اساتذہ اور طلبا کے احتجاج کے بعد یہ دعوت نامہ منسوخ کر دیا گیا۔
اس کے فوری بعد معلوم ہوا کہ اڈانی گروپ اس ایونٹ کا اہم سپانسر تھا جس نے مودی کو دیے جانے والے دعوت نامے کی منسوخی کے بعد اس تقریب کی مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیا۔
یہ بھی پڑھیے

کوئلے کی کان
فارچون انڈیا میگزین کے مطابق سال 2010 میں، اڈانی نے آسٹریلیا کی لنک انرجی سے 12,147 کروڑ میں کوئلے کی ایک کان خریدی تھی۔ گیلی بیسٹ کوئین آئی لینڈ کی اس کان میں 7.8 بلین ٹن کے معدنی ذخائر ہیں جو ہر سال 60 ملین ٹن کوئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔
انڈونیشیا میں تیل، گیس اور کوئلہ جیسے قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے ان وسائل سے مناسب فائدہ اٹھانا ممکن نہیں تھا۔
2010 میں اڈانی گروپ نے انڈونیشیا کے جنوبی سماٹرا سے کوئلے کی نقل و حمل کے لیے $1.5 بلین کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ اس کے لیے وہاں کی صوبائی حکومت کے ساتھ جنوبی سماٹرا میں تعمیر کیے جانے والے ریل منصوبے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
اس وقت انڈونیشیا کے سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ اڈانی گروپ 50 ملین ٹن کی صلاحیت کے ساتھ کول ہینڈلنگ پورٹ بنائے گا اور جنوبی سماٹرا جزیرے کی کوئلے کی کانوں سے کوئلہ نکالنے کے لیے 250 کلومیٹر لمبی ریل لائن بھی بچھائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کاروبار کی توسیع
اڈانی ایمپائر کا ٹرن اوور سنہ 2002 میں 765 ملین ڈالر تھا جو سنہ 2014 میں بڑھ کر 10 بلین ڈالر ہو گیا۔
سال 2015 کے بعد اڈانی گروپ نے فوج کو دفاعی آلات کی فراہمی کا کام بھی شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد قدرتی گیس کے شعبے میں اڈانی کے کاروبار کو وسعت ملی اور سنہ2017 میں سولر پی وی پینل بھی بنانا شروع کردیے۔
اڈانی گروپ نے سنہ 2019 میں ہوائی اڈوں کے شعبے میں قدم رکھا۔ آج اڈانی گروپ انڈیا کے شہر احمد آباد، لکھنؤ، منگلورو، جے پور، گوہاٹی اور ترواننت پورم کے چھ ہوائی اڈوں کی جدید کاری اور آپریشن کا ذمہ دار ہے۔ اڈانی گروپ 50 سال تک ان تمام چھ ہوائی اڈوں کو چلائے گا۔
یہی نہیں بلکہ گوتم اڈانی کی زیر قیادت اڈانی گروپ ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ میں 74 فیصد حصص رکھتا ہے جو دلی کے بعد انڈیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اڈانی سے جڑے تنازعے
انڈیا کی گجرات حکومت پر ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ مندرا کے لیے اڈانی گروپ کو انتہائی سستے داموں زمین دینے کا الزام لگا۔
فروری 2010 میں اڈانی کے بھائی راجیش اڈانی کو مبینہ طور پر کسٹم ڈیوٹی سے بچنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ وہ اڈانی گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔
سنہ 2014 میں آسٹریلیا کے فیئر فیکس میڈیا نے ایک تحقیقاتی رپورٹ کی جس میں گجرات کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ پر کام کرنے والے 6000 کارکنوں کی مبینہ حالت زار پر رپورٹ شائع کی گئی اور اڈانی گروپ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ان کارکنوں کو اڈانی گروپ کے لیے کام کرنے والے ٹھیکیداروں نے کام پر رکھا تھا تاہم اڈانی گروپ نے کہا کہ اس نے کوئی قانون نہیں توڑا۔
اڈانی گروپ کو آسٹریلیا میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ کارمائیکل کول مائن ریاست کوئنز لینڈ، شمالی آسٹریلیا میں واقع ہے جہاں اڈانی کی کمپنی کو کوئلہ نکالنے کی اجازت ملی لیکن اس سلسلے میں اڈانی گروپ کو مقامی طور پر کافی مخالفت کا سامنا ہے۔












