انکور وریکو: انڈیا کے بے چین نوجوان کیا چاہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں 18 سے 25 سال عمر کے نوجوان (یعنی جنریشن زی) روایت شکن ثابت ہو رہے ہیں مگر کیا ملک کی معیشت اُن کے خواب پورے کرنے کے قابل ہو گی؟
انٹرنیٹ انٹرپرینور انکور وریکو کے یوٹیوب اور انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز ہیں اور انھیں روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کی قریب 300 ای میلز موصول ہوتی ہیں۔ اس تحریر میں وہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ انڈیا کے نوجوان اپنے سے پہلی نسل کے لوگوں سے کتنے مختلف ہیں۔
جب ہم متوسط گھرانوں کے نوجوان انڈین شہریوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم ایسے محنت کش اور پڑھنے لکھنے والے بچوں کی بات کر رہے ہیں جو اپنے خاندان والوں کی خواہشات اور روایات کا بھرپور احترام کریں۔
ہم ان نوجوان مرد و خواتین کو تصور کرتے ہیں جو کسی مقابلے کے امتحان کے لیے تیاری کر رہے ہیں جس سے انھیں ٹاپ کی میڈیکل یا انجینیئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلہ مل سکتا ہے۔ ہم تصور کرتے ہیں وہ اپنے لیے مستحکم کیریئر کی راہ پر چلنے کے لیے پُرعزم ہیں یعنی کہ وہ اپنے والدین کے خواب پورے کرنا چاہتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ محض دقیانوسی تصورات ہیں۔
جن مڈل کلاس نوجوانوں سے میں نے بات کی وہ تو اپنے والدین کے ہر کہے پر سوال اٹھاتے ہیں اور باغی ہو کر متبادل راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ محفوظ راستے پر نہیں چلتے لیکن اپنی مختصر زندگی میں وہ بھٹکنے کے بعد واپس اسی روایتی راہ پر آ جاتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو ان سے کہا جاتا ہے۔
بطور ایک نوجوان میں بھی انھیں لوگوں میں سے تھا اور مجھے یقین تھا کہ میرے بعد آنے والے لوگ بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے مگر یہ نوجوان الگ کپڑے پہنتے ہیں اور ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو میں نے اس سے پہلے نہیں سنے ہوتے۔ (جیسے میرا 22 برس کا ویڈیو ایڈیٹر کہتا ہے کہ نائس کی جگہ نوئس کہنا زیادہ پُرکشش انداز ہے۔)
ان کے پاس جانے کے لیے زیادہ بار ہیں اور شاید شادی سے قبل ان کا کم از کم ایک رومانوی تعلق رہ چکا ہوتا ہے لیکن مجھے یقین تھا کہ اگر میں بات کی تہہ تک پہنچوں گا تو مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے گا جس کا مقصد مستحکم نوکری کی تلاش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوجوان مڈل کلاس سے متعلق میرے تمام خیالات اس وقت چیلنج ہوئے جب میں نے دو سال قبل یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پر کونٹینٹ بنانا شروع کیا۔
میں نے ایسی ویڈیوز بنائیں جنھیں 40 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں نے دیکھا۔ ان میں سے نصف کی عمریں 18 سے 24 سال کے بیچ ہیں اور ان میں سے 40 فیصد نوجوان انڈیا کے 10 بڑے شہروں سے باہر رہتے ہیں۔
وہ انگریزی سمجھتے ہیں لیکن اپنی مقامی زبانوں میں بات کرنے میں زیادہ پُرسکون ہوتے ہیں۔ ہر روز مجھے ان کی طرف سے سینکڑوں ای میلز موصول ہوتی ہیں۔ ان میں پیسوں سے لے کر کیریئر، ذاتی تعلقات اور ذہنی صحت کے حوالے سے سوالات کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میں نے ایک 15 سال کے لڑکے سے بات کی جس نے خود کو کوڈنگ سکھائی۔ وہ کالج چھوڑ کر اپنے والد کے کاروبار کو ڈیجیٹل دنیا میں متعارف کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں نے ایک 24 سال کے پینٹر سے بھی رابطہ کیا جو چھ سال کی عمر سے مصوری کر رہا ہے۔ وہ ایک فری لانسر ہے جس کی آمدن کالج کے بعد ایک فُل ٹائم نوکری کے مقابلے تین گنا زیادہ ہے۔
میں نے ایک ایسی لڑکی سے بھی بات کی جو دن کو اکاؤنٹینٹ اور رات کو بیٹ باکسر ہیں۔ (میں نے انھیں سنا ہے، وہ اپنے کام میں بہترین ہیں!)
پہلے میں یہ سمجھا تھا کہ یہ 20 سالہ لوگ شاید ان چند غیر معمولی لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے روایت توڑنے کا ارادہ کیا مگر اب لگتا ہے کہ یہ صرف اِکا دُکا نوجوانوں کی بات نہیں۔
مندرجہ ذیل کچھ ایسی باتیں ہیں جو ان کی دنیا کے بارے میں جان کر مجھے حیرانی ہوئی۔
کالج صرف ڈگری کے لیے نہیں
جنریشن زی کے لیے کالج صرف اچھی نوکری کا راستہ نہیں بلکہ یہ مواقع تلاش کرنے کی جگہ ہے۔
وہ صرف کلاسز، ٹیسٹ اور نصاب پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔ ان کے لیے کالج نیٹ ورکنگ اور تجربوں کا مرکز ہے۔ یہ ان کے لیے ایسی جگہ ہے جہاں وہ کسی سٹارٹ اپ کے بارے میں سوچ سکتے ہیں یا اسے متعارف بھی کر سکتے ہیں۔ اس دوران وہ مالی دباؤ کے بغیر متعدد انٹرنشپس بھی کر سکتے ہیں۔
وہ نوکری کے لیے مارے مارے نہیں پھرتے
انڈین نوجوان ہائی سکول اور کالج کے درمیان میں کم ہی وقفے کا سال لیا کرتے تھے۔
پورا سال فارغ رہنے کو فضول عیش و آرام یا خود غرضی کا احساس سمجھا جاتا تھا مگر جن 18 سالہ لوگوں سے میں نے بات کی وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی ایسا شخص بننے میں ضائع نہیں کرنا چاہتے جو وہ نہیں ہیں۔
اس لیے وہ چند ماہ یا ایک سال لگا کر یہ سوچتے ہیں کہ وہ کون ہیں تاکہ اپنے مقاصد کی طرف بڑھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیے
تاخیر سے شادی، یا شادی ہی نہیں
قریب تمام 20 سالہ لوگ جن سے میں نے بات کی وہ طویل مدتی تعلقات کو دھوکہ سمجھتے ہیں۔
وہ زندگی کے آغاز میں اس سے بچنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے خود کو جاننا اور اپنی دیکھ بھال کرنا بہت زیادہ اہم ہے، بجائے اس کے کہ کسی اور کا ہاتھ تھام لیا جائے۔
وہ مالی خطرات مول لینے سے نہیں ڈرتے
ان میں سے اکثر نوجوان اپنے ان والدین کو دیکھتے بڑے ہوئے جن کا مقصد زندگی کو مستحکم بنانا تھا مگر وہ یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ اب دور مختلف ہے۔ عدم مساوات بڑھا ہے، بڑے خواب دیکھے جا رہے ہیں اور کامیابی کے کئی راستے ہیں۔
ان کے لیے پیسہ زندہ رہنے کا ذریعہ نہیں بلکہ آزادی کا راستہ ہے۔
اپنے ہی علاقے میں ایک پُرتعیش بنگلہ ان کا مقصد نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ماہانہ بچت سے سٹاک مارکیٹ اور کرپٹو میں سرمایہ کاری کریں اور اپنے لیے ایئر جارڈنز جوتے خریدیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا سیکھنے کے لیے ہے
یہ نوجوان یوٹیوب کو اپنا سکول سمجھتے ہیں۔
انھیں یہ فکر نہیں کہ سبق کہاں سے اور کون سکھا رہا ہے۔ وہ انسٹاگرام پر صحیح لوگوں کو فالو کرتے ہیں تاکہ رہنمائی اور حکمت کی معلومات جلدی سے حاصل کر سکیں۔
ان میں خواہش اور جرات دونوں ہیں۔ ان کی ایک خوبی انھیں انڈیا کی سابقہ تمام نسلوں سے ممتاز کرتی ہے: خطرہ مول لینے کی بھوک۔
خطرہ یا رسک لینا انڈیا کی مڈل کلاس آبادی کے لیے ہمیشہ مشکل فیصلہ رہا ہے۔
میرے والدین کی نسل میں بھی لوگ مستحکم زندگی ڈھونڈتے تھے۔ مراعات یافتہ اشرافیہ زندگی اور کام میں توازن، کیریئر میں خوشی اور بڑا مقصد تلاش کرتے تھے لیکن جنریشن زی نہ صرف عالمی سطح پر دستیاب مواقعوں سے آگاہ ہے بلکہ وہ انھیں حاصل کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔
60 سال کی عمر تک کام کر کے دشوار زندگی گزارنے کے بجائے وہ جانتے ہیں کہ 35 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کا بھی ایک راستہ ہے اور وہ اس پر چلنے پر شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔
اسی لیے غیر معمولی سٹارٹ اپس کے بانی ان کے لیے متاثر کن چہرے ہیں۔ جیسے ادائیگیوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پے ٹی ایم کے وجے شکھر شرما یا انڈیا کے سب سے کم عمر ارب پتی ریتیش اگروال جنھوں نے ملک میں ہوٹلوں کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
یہ حقیقت ہے کہ پے ٹی ایم ابھی تک منافع نہیں کما پا رہی اور اویو جیسی کمپنیاں فوری توسیع کے چکر میں قرضے تلے دبی ہوئی ہیں مگر یہ ان کے لیے کوئی بڑا خدشہ نہیں۔
مجھے یہی چیز پریشان کرتی ہے۔ جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو ہمیں اکثر اپنی مرضی کے خلاف انتظار کرنا سکھایا جاتا تھا۔ دودھ خریدنے کے لیے ہمیں قطار میں لگنا پڑتا تھا اور کال یا خط بھیجنے کے لیے ہم کئی کئی دن منتظر رہتے تھے۔ ہم نے کئی برسوں تک انتظار کیا کہ اپنی گاڑی خرید سکیں اور پوری زندگی مالی استحکام کی کھوج میں گزار دی۔
ہم نے اپنی مرضی سے صبر کرنا نہیں سیکھا بلکہ انڈیا کے ماحول نے ہمیں ایسی زندگی گزارنا سکھایا لیکن اب ہم ہر چیز فوراً چاہتے ہیں۔ کھانا، کپڑے، کتابیں، فلمیں اور حتیٰ کہ تعلقات ہم سے ایک کلک کی دوری پر ہیں۔
دنیا کی رفتار جب جنریشن زی کی خواہشات سے ملتی ہے تو انھیں ہر چیز ابھی چاہیے ہوتی ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک ٹویٹ پڑھا جس میں لکھا تھا کہ ’میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ہر چیز آج ہی چاہیے۔‘
جنریشن زی کا دنیا بھر میں یہی حال ہے مگر انڈیا میں ہماری معیشت اس نسل کے خوابوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
کیا نوجوان اکاؤنٹینٹ ایک فل ٹائم بیٹ باکسر بن پائے گی؟ کیا 20 سالہ فنکار گرافک ڈیزائن کی کسی کمپنی میں نوکری ڈھونڈ پائے گا؟
کیا یہ بے چین نسل اپنی خواہشات اور موجودہ راستوں کے فاصلے کو پُر کر پائے گی یا وہ اس خلا میں گِر جائیں گے؟
اس کا جواب تو وقت ہی بتائے گا۔۔۔
انکور وریکو ایک انڈین انٹرپرینور، مشہور کتاب کے مصنف اور استاد ہیں جو کونٹینٹ بناتے ہیں۔











