زندگی کا ہمسفر: مثالی ساتھی ڈھونڈنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

محبت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, برائن لفکن
    • عہدہ, بی بی سی ورک لائف

اپنی زندگی کا ہمسفر ڈھونڈ لینا ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے لیے یقیناً غور و فکر اور کڑی آزمائش بھی درکار رہتی ہے۔

ہمیں کوئی ایسا ساتھی چاہیے ہوتا ہے جس کے طویل مدتی منصوبے ہمارے اپنے منصوبوں سے مطابقت رکھتے ہوں: جیسے کوئی ایسا شخص جس سے ہم کشش محسوس کریں، ایسا شخص جس کے ساتھ ہمارے لیے ایک گھر میں رہنا، مالی معاملات کو نمٹانا اور بچے پیدا کرنا بُرا تجربہ نہ ہو۔

یہی شخص ہماری زندگی کا ہمسفر بننے کے لائق تصور ہوتا ہے۔ اور قدرتی طور پر ہمیں لگتا ہے کہ ہم یہ فیصلہ کرنے میں بہت احتیاط برتیں گے۔ مگر ایسا ہونا ضروری نہیں۔ یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ ہم اپنا جیون ساتھی چننے میں ضرورت کے تحت وقت نہ لگا پائیں۔

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے اندر چھپے ہوئے متعصب رویوں کی وجہ سے ہم ایسے شخص کو بھی کئی کئی بار موقع دیتے ہیں جو ہماری ضروریات پر پورا نہیں اترتا۔ اور جب ہم بالاخر اپنا ہمسفر چُن لیتے ہیں تو ہمارے اندر ایک تفسیاتی عمل شروع ہوجاتا ہے جس کا نام ’پروگریشن بائس‘ ہے۔ اس سے مراد ہے کہ ہم اس رشتے کو ختم کرنے کے بجائے اس میں قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

آج کے دور میں کئی نوجوان افراد شادی کی جگہ پوری زندگی اپنے حساب سے تنہا رہنے کے رجحان کی پیروی کر رہے ہیں۔ مگر نفسیات کے ماہرین کے مطابق اس کے باوجود قدرتی طور پر ہم ایک رومانوی تعلق میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ارتقا کا عمل اور سماجی دباؤ کی وجہ سے ہم اکیلے زندگی گزارنے کے بجائے اپنا جوڑی دار ڈھونڈنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پروگریشن بائس سے متعلق معلومات کے ذریعے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہم اپنے پارٹنر کا انتخاب کیسے کرتے ہیں اور خوشی یا غمی میں انہی کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کے لیے تیار کیوں ہوجاتے ہیں۔

محبت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہم اپنا جوڑی دار ڈھونڈنے میں بہت سے لوگوں پر غور کرتے ہیں مگر آخر میں اسے طویل مدتی رشتہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں

پہلی نظر میں سر تا پا محبت ممکن؟

پیو ریسرچ سینٹر کی 2020 کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہم ڈیٹنگ کو انتخاب کا ایک مشکل عمل سمجھتے ہیں۔ اس میں 75 فیصد امریکی شہریوں نے تسلیم کیا کہ کسی سے ڈیٹ پر ملنا ایک ’مشکل‘ کام ہے۔

نوجوان افراد کو اب مستحکم ہونے میں بھی زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ دیگر عمروں کے افراد کے مقابلے نوجوان اب مالی استحکام کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جاننے میں بھی زیادہ وقت لگاتے ہیں۔

کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی میں نفسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر سمینتھا جول اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں نفسیات کے پروفیسر گوف میکڈونلڈ اس بات سے متفق ہیں کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنے پارٹنر کے انتخاب میں زیادہ وقت اور محنت صرف کرتے ہیں جبکہ یہ درست نہیں۔

جولائی 2020 میں انھوں نے اپنے مقالے میں لکھا کہ پروگریشن بائس کی بدولت لوگ رشتوں میں بندھ جاتے ہیں اور انھیں قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں وہ اپنی سوچ کے مقابلے اس عمل میں کم دھیان دیتے ہیں۔

اس تحقیق سے دو طرح کے نتائج سامنے آئے: پہلا یہ کہ اس بات کے شواہد کئی تحقیقات میں ملے ہیں کہ لوگ اپنی رومانوی زندگی میں کسی نئے شخص کو لانے میں زیادہ نہیں سوچتے۔ لوگ اپنی سوچ سے زیادہ وسیع قسموں کے ممکنہ شراکت داروں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

وہ ان کے معیار کے مطابق خود کو ڈھالنے پر رضامند ہوجاتے ہیں اور اپنے پارٹنر کی خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لوگ اپنے ممکنہ جوڑی دار سے بہت جلد ایک تعلق قائم کر لیتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ آیا وہ ان کے لیے بہترین پارٹنر بن سکتے ہیں یا نہیں۔

مثلاً جول اور میکڈونلڈ نے ایک تجربہ کیا جس میں انھیں معلوم ہوا کہ رشتے کرانے کے ایک فرضی ماحول میں یونیورسٹی کے طلبہ اکثر ایسے ممکنہ پارٹنرز کو مسترد کر دیتے ہیں جو کم پُرکشش ہوں یا ان میں کوئی ایسی خصلت ہو جو ’ڈیل بریکر (یعنی معاہدہ توڑنے کی شرط)‘ بن جائے۔

مگر یہ اعداد و شمار اچانک بدل جاتے ہیں اگر انھیں فرضی کے بجائے اصل ماحول پر لاگو کیا جائے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ رومانوی سطح پر لوگ پارٹنر کے انتخاب میں اتنی مشکل مول نہیں لیتے اور انھیں اس سے برعکس محسوس ہوتا ہے، جیسے انھیں بہت مشکلوں کے بعد اپنا جیون ساتھی ملا ہے۔ وہ حقیقت میں کسی کو مسترد کرنے میں زیادہ پہل نہیں کر پاتے۔

یہ بھی پڑھیے

اس مقالے کے دوسرے نتیجے کے مطابق لوگ بغیر سوچے سمجھے کسی سے ڈیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی تعلق میں قائم رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ رشتہ ختم کرنے کے بجائے اسے بہتر بنایا جائے۔

پارٹنر کے انتخاب کا دباؤ

ماہرین اس تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی رشتے میں جذباتی طور پر زیادہ منسلک ہیں تو اسے ختم کرنا زیادہ مشکل یا دردناک ہوسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ شادی یا مالی معاملات میں بھی شراکت دار ہیں تو آپ یہ رشتہ توڑنے میں کم پہل کرتے ہیں۔ مثلاً شادی شدہ افراد کو سماجی فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسے ان کے لیے کرایہ پر گھر ڈھونڈنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

جول کے مطابق پروگریشن بائس ان نفسیاتی رجحانات سے مطابقت رکھتا ہے جو ہم ازدواجی تعلقات کے علاوہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ کسی ایسی چیز کو چھوڑنے کو آسانی سے تیار نہیں ہوتے جس میں آپ نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہو۔ یا پھر موجودہ حالات کو قائم رکھنا بجائے اس کے کہ اس میں خلل ڈالی جائے اور اپنا سکون ختم کیا جائے۔ یا پھر کسی مثالی خیال کے جگہ محض کسی بہتر راستے پر اتفاق کر لیا جائے۔ خیال ہے کہ یہ متعصب رویے دو عوامل سے متاثر ہوتے ہیں: ارتقا کا عمل اور ثقافتی معیارات۔

لاکھوں سال قبل، اگر ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے شراکت دار ڈھونڈنے میں زیادہ وقت لگایا ہوتا تو وہ تنہا رہ جاتے۔ اور کسی پارٹنر کے ساتھ طویل مدت تک رہنے کے ارتقائی فواہد بھی حاصل ہوتے تھے: جیسے بچوں کے ایک نہیں دو والدین ہوں گے اور اس طرح بچے کے زندہ بچنے کے امکان بڑھ جاتے تھے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں محقق ایلک بیل کہتے ہیں کہ یہ رویے آج بھی ہم میں دیکھے جاسکتے۔ وہ ارتقا کے علاوہ ڈیٹنگ کی نفسیات اور لوگوں کی ایک دوسرے میں کشش کے رویوں پر تحقیق کرتے ہیں۔

بیل کہتے ہیں کہ ’آج کی تاریخ میں طویل مدتی رومانوی تعلقات کے کچھ فوائد شاید اتنے اہم نہیں جتنے ماضی میں ہوا کرتے تھے۔ مگر ہمارے جدید رویوں میں پارٹنر کے انتخاب کا دباؤ اب بھی ایک دیر پا اثر رکھتا ہے۔‘

یہاں ثقافتی عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔ جول کے مطابق ’مغربی تہذیب میں شادی کو سب سے قریبی تعلق قرار دیا جاتا ہے۔ شادی کرنے کو ذاتی کامیابی مانا جاتا ہے یا اسے بلوغت کی نشانی سجھا جاتا ہے۔‘

’شادی کرنے سے آپ کو معاشرے میں بھی ایک مقام ملتا ہے۔ اس طرح لوگ اگر کسی کے بھی ساتھ ہوں تو وہ اس رشتے کو مضبوط بنانا اپنے لیے مفید سمجھتے ہیں، اس بات سے بھی قطع نظر کے اس تعلق کا معیار کیسا ہے۔‘

محبت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنارتقا کا عمل ہمیں ایک ہی شخص کے ساتھ رہنے پر مجبور کرتا ہے، اس صورت میں بھی اگر ہمیں معلوم ہو کہ وہ ہمارے لیے ٹھیک نہیں

رومانوی تعلقات سے متعلق ہماری توقعات بھی ہمارے رویوں کو متاثر کرتی ہیں۔ سنہ 2021 کے یو گو کی جانب سے کیے گئے 15 ہزار امریکیوں کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 60 فیصد بالغ افراد جیون ساتھی کے خیال پر یقین کرتے ہیں۔ جول کا کہنا ہے کہ پریوں کی کہانی پر مبنی یہ ذہنیت نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ محقق اسے ’تقدیر کے عقائد‘ کہتے ہیں جن کی بدولت ہم میں سے کئی لوگ پروگریشن بائس سے متاثر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اکثر خود کو تسلیم کرانا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ جس شخص کو آپ موجودہ حالات میں ڈیٹ کر رہے ہو وہ درحقیقت آپ کا جیون ساتھی ہوسکتا ہے۔‘

توازن کی تلاش

رومانوی تعلقات برقرار رکھنا ہمارے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ ایک پارٹنر کے ساتھ مل کر سب مشکلات کا حل تلاش کریں گے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلی میں نفسیات کے پروفیسر رابرٹ لیونسن کہتے ہیں کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ہم اپنے رشتے کی ایک تاریخ بھی لکھ رہے ہوتے ہیں جس میں وہ تمام چیزوں کا بیانیہ شامل ہوتا جو آپ نے ایک ساتھ کیں۔ خاص کر وہ مشکلات جنھیں آپ نے مل کر حل کیا۔‘ رابرٹ لیونسن نے طویل مدتی تعلقات پر تحقیق کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’تمام مثبت پہلوؤں کے بارے میں سوچ کر آپ اپنا رشتہ اس صورت میں بھی قائم رکھ پاتے ہیں جب حالات اتنے موزوں نہ رہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

پروگریشن بائس کی آگاہی کے بغیر لوگ غلط راستے پر جا سکتے ہیں اور ایسے شخص پر اکتفا کر لیتے ہیں جو ممکنہ طور پر ان کے لیے بُرا انتخاب ہے۔ لیونسن کہتے ہیں کہ ’اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ لوگ ایسے رشتے نبھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں جن سے انھیں کب کا نکل جانا چاہیے تھا۔‘

ہم ایک ایسے جدید دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہمارے پاس ڈیٹ کرنے کے لیے بے شمار لوگ ہیں۔ بیل کا کہنا ہے کہ ’ارتقا کے ماضی کے دوران انسانوں نے اپنی پسند ناپسند کو دبانے کے لیے پروگریشن بائس اپنا لیا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی خواہشات پر زندگی گزاریں، ایک ایسے دور میں جہاں ہم زندگی بھر میں 500 سے زیادہ لوگوں سے ملتے ہیں۔‘

’یہ ضروری ہے کہ ایک توازن برقرار رکھا جائے۔ صرف کسی بھی شخص کو مت اپنائیں۔ لیکن ایسا بھی نہ کریں کہ پوری زندگی ایسے شخص کی کھوج جاری رکھیں جو ہر لحاظ سے مثالی ہو۔ ارتقائی عمل کے تحت ایسا انسان شاید دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔‘

ماہرین کے مطابق زیادہ اہم یہ بات ہے کہ آپ ایک رشتے میں رہتے ہوئے چیزوں پر کیسے غور کرتے ہیں، نہ کہ انتخاب کے عمل کو پیچیدہ بنائیں۔ اگر آپ اس رشتے میں ناخوش ہیں مگر اس بارے میں کچھ نہیں کر رہے تو امکان ہے کہ آپ پروگریشن بائس کا شکار ہو رہے ہیں۔

جول کے مطابق ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ رشتے کے معیار کی بہترین پیشگوئی اس بات سے ہوتی ہے کہ لوگ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔‘

یہ اہم نہیں کہ آپ کیسے پارٹنر کا انتخاب کرتے ہیں بلکہ یہ اہم ہے کہ آپ کیسی شراکت داری قائم کرتے ہیں۔ ’ایسے پارٹنر کی تلاش مددگار نہیں جو بظاہر بہت اچھا لگتا ہو۔ ڈیٹنگ کے دوران ابتدائی علامات دیکھی جاسکتی ہیں جو اس تعلق کے اچھے اور صحتمند ہونے کا عندیہ دے سکتی ہیں۔‘