پاکستانی نوجوان لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

نوجوان، سرمایہ کاری

،تصویر کا ذریعہNATIONAL INCUBATION CENTER, PESHAWAR

    • مصنف, شجاع ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو

ایک دن مینا سلمان اپنی گاڑی میں بیٹھی کراچی کی ایک سڑک سے گزر رہی تھیں۔ ان کی کمپنی نے پہلی مرتبہ اپنا اشتہار شہر کے ایک مرکزی مقام پر لگایا تھا۔ مینا اپنے شوہر اور کمپنی کے شریک بانی سلمان کے ساتھ اس بل بورڈ کا جائزہ لینے جا رہی تھیں۔

اس لمحے کے بارے میں مینا کہتی ہیں 'یہ میری زندگی کے اہم ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ جب میں نے پہلی مرتبہ اپنی کمپنی کا بل بورڈ دیکھا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ ہماری اتنے عرصے کی کاوشیں کامیاب ہو جائیں گی۔'

مینا سلمان ایک نجی کمپنی ’بیگ گیلری‘ کی شریک بانی ہیں۔ یہ کمپنی انھوں نے اپنے شوہر سلمان ستار کے ساتھ مل کر سنہ2017 میں شروع کی تھی۔ کمپنی بنانے کا فیصلہ مینا اور سلمان نے اس وقت کیا جب ان کے بچے کے پیدائش کے بعد مینا نے اپنے کیریئر پر ایک مرتبہ پھر توجہ دینی تھی۔

مینا بتاتی ہیں کہ ’مجھے نوکری ڈھونڈنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ مجھے کس چیز کا شوق ہے۔ مجھے شاپنگ اور فیشن کا شوق تھا تو میں نے سوچا کیوں نہ اس ہنر، ان معلومات کو استعمال کر کے ایک کمپنی بنا لی جائے۔‘

مینا نے کمپنی کا نام بیگ گیلری رکھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ خواتین کے ہینڈ بیگز کا کاروبار کریں گی۔ آج ان کی کمپنی سینکڑوں قسم کی فیشن اور میک آپ کی اشیا اپنی ویب سائٹ کے ذریعے بیچتی ہے۔

مگر مینا کی کمپنی کی ایک اور خاص بات بھی ہے۔ ان کی کمپنی نے حال ہی میں وینچر کیپٹلسٹ سرمایہ کاروں کے ذریعے سیریز راؤنڈ میں ساڑھے چار ملین ڈالر حاصل کیے ہیں۔

مینا کی وہ واحد پاکستانی کمپنی نہیں جنھوں نے وینچر کیپٹلسٹ سرمایہ کاروں سے پیسے لیے ہوں۔ گذشتہ چند ماہ میں ہر آئے روز ایسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ فلاں پاکستانی کمپنی نے اتنے لاکھ ڈالر ’ریز کیے‘ یا اتنے لاکھ ڈالر کا سیریز اے راؤنڈ کیا۔ کچھ کمپنیوں کو ’سیڈ راؤنڈ‘ میں پیسے دیے گئے ہیں۔

’اوران‘ نامی پاکستانی کمپنی نے وینچر کیپٹلسٹ سرمایہ کاروں سے تیس لاکھ ڈالر لیے، ’قسط پے‘ نامی کمپنی نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر حاصل کیے۔ ’ایئر لفٹ‘ نامی کمپنی نے سیریز بی راؤنڈ میں تو چھکا ہی مار دیا اور ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر حاصل کیے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی ان کی تعریف میں ٹوئٹ کر ڈالا۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

وینچر کیپٹل سرمایہ کاری پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم’ آئی ٹو آئی‘ کی تحقیقی ٹیم کے مطابق پاکستانی کمپنیوں نے 2018 میں ایک کروڑ ڈالر کے قریب سرمایہ کاری وینچر کیپٹلسٹوں سے حاصل کی تھی جسے بزنس کی اصطلاح میں فنڈز ریز کرنا کہا جاتا ہے۔ 2019 میں یہ چار کروڑ تک پہنچی جبکہ 2020 میں یہ سات کروڑ سے زیادہ تھی مگر سنہ 2021 میں یہ رقم اکتیس کروڑ یعنی تیس سو دس ملین ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایسا کیا ہوا ہے کہ وینچر کیپٹلسٹ پاکستانی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے لگے ہیں۔ کیا اس میں حکومتی پالیسی کا کوئی کردار ہے؟ یا یہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال کی بہتری ہے؟ ان سب سوالوں پر ہم بات کریں گے مگر اس سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وینچر کیپٹل ہوتا کیا ہے اور اس سے سرمایہ کاری کیسے حاصل کی جاتی ہے؟

وینچر کیپٹلزم کیا ہے؟

عام طور پر جب آپ کوئی کاروبار شروع کرتے ہیں اور اگر اس میں لگانے کے لیے آپ کے پاس پیسے نہ ہوں تو آپ کے پاس سرمایہ کاری کے لیے ایک راستہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی دوست یا رشتے دار سے پیسے لیں یا پھر کسی بینک کے پاس جائیں مگر وینچر کیپٹلسٹ آپ کے پاس ایک تیسرا راستہ ہوتے ہیں۔

مینا سلمان بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے کاروبار شروع کیا تو ان کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔

’ہمارے لیے سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ میں نے اپنی تمام تر بچت اس کاروبار میں لگا دی مگر کسی بھی کاروبار کو بڑھانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ اپنی ٹیکنالوجی، اپنے طریقے بہتر کریں اور اس کے لیے پیسے چاہیے ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے کاروبار کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے پیسے درکار تھے۔‘

منیا کہتی ہیں کہ ’شروع میں تو ان کے کاروبار میں زیادہ مسائل نہیں تھے مگر جیسے جیسے ان کا کاروبار برھ رہا تھا، ہمارے پاس اتنے پیسے ہی نہیں تھے کہ ہم سٹاک خرید سکیں۔‘

سٹاک کے علاوہ مینا کے کاروبار کو ایک اور چیلنج بھی درپیش تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کسی بھی کاروبار میں ضروری ہوتا ہے کہ آپ کی کسٹمر سروس اچھی ہو۔ کوئی گاہک جب بھی آرڈر کرے تو اس کو پورا کرنے کے لیے آپ کے پاس ٹیم ہو۔ اس کے لیے ہمیں پیسے چاہیے تھے۔‘

انھی مسائل کو حل کرنے کے لیے مینا اور سلمان وینچر کیپٹلسٹ سرمایہ کاری ڈھونڈنے لگے۔

مینا سلمان
،تصویر کا کیپشنمینا سلمان ایک نجی کمپنی 'بیگ گیلری' کی شریک بانی ہیں۔ یہ کمپنی انھوں نے اپنے شوہر سلمان ستار کے ساتھ مل کر سنہ2017 میں شروع کی تھی

’زین کیپٹل‘ کے مینجنگ پارٹنر فیصل آفتاب بتاتے ہیں کہ ’وینچر کیپٹلسٹ سرمایہ کار وہ لوگ ہوتے ہیں جو عموماً نئے کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان میں عام سرمایہ کاروں کے مقابلے میں رسک لینے کا رویہ قدرے جارحانہ ہوتا ہے۔‘

فیصل کہتے ہیں کہ ‘بطور وینچر کیپٹلسٹ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم دس کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، تو ہمیں پتا ہے کہ ان میں پانچ یا چھ ناکام ہو جائیں گی لیکن جو دو تین بڑی ہو جائیں گی وہ پھر بلین ڈالر کمپنیاں بھی بن جاتی ہیں۔‘

پاکستان میں سرمایہ کاری اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہے؟

فیصل آفتاب کا کہنا ہے کہ اس کی چار وجوہات ہیں۔ انٹرنیٹ کا بڑھتا استعمال، کورونا وائرس کی وبا کے بعد عالمی صورتحال، پاکستان میں بہتر سکیورٹی اور انٹرنیٹ کے ساتھ پیسوں کے منسلک ہونے کا مرحلہ۔

‘پہلی وجہ ہے تھری جی اور فور جی کا بڑھتا ہوا استعمال۔ باقی دنیا نے تھری جی اور فور جی کے لائسنس 2006 اور 2011 میں لانچ کیے تھے۔ پاکستان نے ان لائسنسز کی نیلامی 2014 اور 2015 کے قریب کی تھی اور 2015 سے ہی اس کا ملک میں استعمال شروع ہوا تھا۔ پاکستان میں اگر چھ سال پہلے دیکھیں تو جو ایکٹیو انٹرنیٹ صارف تھے یعنی وہ لوگ جو ہر روز انٹرنیٹ کا استعمال کرتے تھے وہ تقریباً 15 سے 18 ملین لوگ تھے یعنی قدرے چھوٹی (مارکیٹ) تھی۔ اگر آج دیکھیں تو سمارٹ فون اڈوپشن کی رفتار دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دسمبر 2020 میں ہم 100 ملین انٹرنیٹ صارفین تک پہنچ گئے ہیں جو کہ کئی دیگر ممالک کی کل آبادی سے بھی زیادہ تعداد ہے۔‘

پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال

،تصویر کا ذریعہPTA

اس کے بعد ایک وجہ کورونا وائرس کی وبا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران دنیا کے تین بڑے مرکزی بینک بینک آف انگلینڈ، امریکہ کے فیڈرل ریزروو بینک، اور یورپی سنٹرل بینک تینوں نے اپنی شرحِ سود میں کسی نہ کسی حد تک کمی کی تھی۔

فیصل آفتاب کے مطابق مختلف ممالک میں شرح سود کی کمی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ایک وجہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘2020 میں جب کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جو مالیاتی بحران آیا تھا اس کے بعد جو ماحول بنا جب سارے مرکزی بینکوں نے پیسے چھاپے تھے، تو قابلِ استعمال کیش مارکیٹ میں زیادہ آ گیا تھا۔ جب آپ سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کو دیگر مارکیٹوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔‘

’اگر آپ انڈیا کو دیکھیں یا چین کو دیکھیں، یا جنوب مشرقی ایشیا یا شمالی افریقہ کو بطور ایک خطہ دیکھیں تو ان سب میں ویلیوز سرمایہ کار پہلے ہی نکال چکے ہیں۔ پاکستان وہ آخری مارکیٹ رہ گئی ہے، جو ابھی تک ڈیجیٹائز نہیں ہوئی تھی۔ اب جب انٹرنیٹ تک رسائی بڑھ گئی ہے تو اس سے بہت اثر پڑ رہا ہے اور سرمایہ کار آ رہے ہیں۔‘

فیصل آفتاب
،تصویر کا کیپشنفیصل آفتاب کے مطابق مختلف ممالک میں شرح سود کی کمی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ایک وجہ ہے

آئی ٹو آئی وینچرز کی شریک بانی اور پارٹنر مصباح نقوی بھی اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں۔ اس حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ ‘دنیا میں مجموعی طور پر وینچر کیپٹلزم بڑھ رہا ہے۔ مگر دیگر مارکیٹیں اس وقت کچھ مہنگی ہیں۔ لوگوں نے پاکستان میں مواقع دیکھے ہیں۔ دیگر ایمرجنگ مارکیٹوں میں بھی یہ ہو رہا ہے اور لوگ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان (ایمرجنگ) مارکیٹوں میں پوٹینشل بہت ہے۔‘

فیصل آفتاب کے مطابق تیسرا اہم عنصر سکیورٹی پیراڈائم سے ہیلتھ پیراڈائم میں منتقلی کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں گذشتہ چند دہائیوں میں دنیا میں ہمارا تاثر (سیکیورٹی کے حوالے) کچھ اچھا نہیں تھا۔ ‘مگر اب ہیلتھ پیراڈائم میں دیکھیں تو باقی دنیا کے مقابلے میں قدرے بہتر ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کی اوسط عمر دیکھیں تو یہ تقریباً 22.8 سال ہے۔ اس کی وجہ سے جو پاکستان کے حوالے سے خطرے کا تصور کیا جاتا تھا وہ قدرے کم ہو گیا ہے۔‘

مصباح نقوی نے بڑھتے ہوئے وینچر کیپٹل کی ایک اور وجہ بھی بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاروں سے رابطہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ‘سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان آنا ضروری نہیں ہے۔ دنیا بھر میں لوگ ڈیو ڈیلیجنس اور رابطے، زوم، ای میل، اور ویڈیو کالز پر کر رہے ہیں۔ تو پاکستانی انٹرپنیوئرز کے لیے وہ مشکلیں کم ہوگئی ہیں جو دیگر انٹرپنیوئرز کے مقابلے میں انھیں پہلے تھیں۔‘

اس کے علاوہ مصباح نقوی ایک انتہائی اہم وجہ اور بھی بتاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘دیکھیں خطے میں ایسی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ کریم ایک ایسی کمپنی ہے جسے ایک پاکستانی نے بنایا اور ان کے لیے پاکستان ایک اہم مارکیٹ تھی۔ یہ کمپنی جب اوبر کو 3 ارب ڈالر کی بکی ہے تو دیگر لوگوں میں بھی اعتماد آیا ہے کہ پاکستان جیسی مارکیٹ میں بھی لوگ ہیں جنھوں نے سٹارٹ اپ کمپنیوں میں کام کیا ہے، جو کمپنی کو بنانا، بڑھانا جانتے ہیں، اس لیے اس مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔‘

فیصل آفتاب کہتے ہیں کہ بڑھتی وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ‘ہم اس وقت انٹرنیٹ کے ایکسچینج آف ویلیو ڈسرپشن کے مرحلے میں ہیں جہاں پر پہلی مرتبہ پیسے کو انٹرنیٹ سے جوڑا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک انتہائی اہم بات ہے۔ پاکستان میں معیشت کا ایک بڑا حصہ ان ڈوکیومنٹڈ ہے (یعنی جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے)۔ یہ سارے پلیٹ فارم جوبن رہے ہیں، یہ ان معاشی سرگرمیوں کو کیپچر کر رہے ہیں جو ڈوکیومنٹڈ نہیں ہیں۔ آخر ان سب نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف جانا ہے اگر آپ ایف اے ٹی ایف یا او ای سی ڈئ سٹینڈرڈز کو دیکھیں تو پانچ سے چھ سال بعد زیادہ ڈیجیٹل ادائیگیاں ہوں گی۔‘

مصباح نقوی
،تصویر کا کیپشنمصباح نقوی کہتی ہیں کہ وینچر کیپٹل بڑھانے میں حکومت نے بھی اہم کام کیا

کیا اس میں حکومت کا کوئی کردار تھا؟

مصباح نقوی کہتی ہیں کہ وینچر کیپٹل بڑھانے میں حکومت نے بھی اہم کام کیا۔ ‘سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی نے اپنے قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف سٹارٹ اپس کو بڑھنے کے موقعے ملے ہیں بلکہ سرمایہ کاروں میں بھی اعتماد بڑھا ہے۔‘

مصباح نقوی بتاتی ہیں کہ سٹیٹ بینک نے مسائل کے حل کے لیے مختلف کمیٹیاں بنائی تھیں۔ ‘فارن ایکسچینج کمیٹی نے بہت کام کیا۔ ہم کئی سال سے یہ کام کرتے آ رہے ہیں اور پھر انھوں نے بیٹھ کر مارکیٹ میں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ سٹارٹ اپس کے مسائل کیا ہیں اور کس حد تک انھیں حل کیا جا سکتا ہے اور اس کاوش کے ذریعے تین چار اہم چیزیں ہوئی ہیں۔ ایک تو پاکستانیوں کو پابر ہولڈنگ کمپنیاں بنانے کی اجازت مل گئی، جس کی وجہ سے باہر کے سرمایہ کاروں میں اعتماد آ جاتا ہے کہ پاکستان میں ہمارے پیسے پھنسیں گے نہیں۔‘

‘دوسرا یہ کہ جو لوگ (ہولڈنگ کمپنیوں کے علاوہ) براہِ راست پاکستانی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ان کو یہ اعتماد دینے کی کوشش کی ہے کہ آپ کے پیسے پاکستان میں پھنسیں گے نہیں۔ اس حوالے سے کچھ قوانین کی وضاحت آئی کہ آپ کو اپنے پیسے واپس لے جانے کے لیے سٹیسٹ بینک سے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جب آپ پیسے لائے تھے اور اس وقت آپ نے قوانین کی پاسداری کی تھی تو نکالتے وقت بھی آپ کو مشکل نہیں ہو گی۔‘

مصباح کہتی ہیں کہ ادھر ایس ای سی پی نے بھی اپنے کمپنیز ایکٹ میں سٹارٹ اپ کمپنی کی تعریف کی وضاحت کی ہے اور نئی کمپنیوں کو پالیسیاں ٹیسٹ کرنے کے لیے سینڈ باکس کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔‘

فیصل آفتاب کا کہنا ہے کہ ‘حکومت کا اس میں ایک بہت اہم کردار تھا۔ پاکستان میں عام طور پر کہا تو نہیں جاتا مگر سخت قسم کے کیپٹل کنٹرولز موجود ہیں یعنی جب آپ پاکستان میں (بیرونِ ملک سے) براہِ راست سرمایہ کاری کرتے ہیں تو جب آپ پیسے واپس لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر اس میں مشکلات آتی ہیں اور وقت لگتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ‘گذشتہ چند سال سے ٹیکنالوجی سیکٹر حکومت کو اس پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سٹیٹ بینک بیرونِ ملک ہولڈنگ کمپنیاں بنانے نہیں دے رہا تھا۔ اب انھوں نے ایک مخصوص اجازت دی ہے کہ کمپنیاں اپنی ہولڈنگ کمپنیاں بیرونِ ملک بنا سکتی ہیں جہاں پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعماد رہتا ہے اور آپریٹنگ کمپنی پاکستان میں رہتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس بات یعنی ہولڈنگ کمپنی کیا ہوتی ہے، اس حوالے سے ذرا وضاحت کی ضرورت ہے۔

فیصل بتاتے ہیں کہ ‘جب پہلے آپ پاکستان میں کوئی کمپنی بناتے تھے تو اس کے شیئرز صرف پاکستان میں ہوتے تھے۔ اب آپ کو اجازت مل گئی ہے کہ آپ اس کے اوپر ایک اور کمپنی بنا لیں جو کہ آپ کی پاکستانی کمپنی کی مالک ہوتی ہے۔ اس کمپنی کو ہولڈنگ کمپنی کہا جاتا ہے۔‘

’اب آپ کو اجازت مل گئی ہے کہ پاکستانی کمپنی کی ملکیت باہر کی ہولڈنگ کمپنی کے پاس ہو سکتی ہے۔ اس سے آسانی یہ ہوتی ہے کہ جو بھی بیرونِ ملک سرمایہ کار جب اپنے شیئرز کو بیچتے ہیں تو ان کو باہر ان کے پیسے مل جاتے ہیں۔ جو وہاں پر سرمایہ کار پاکستان کی ٹیکس ریزیڈنٹ اسے بے شک پاکستان میں واپس لا کر قانون کے مطابق اس پر کیپٹل گینز ٹیکس دینا ہوگا۔‘

کرنسی

یہ سرمایہ کاری کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ اگر آپ کے پاس کاروبار کا آئیڈیا ہے تو آپ کیا کریں؟ سرمایہ کار کیا دیکھتے ہیں؟

مینا سلمان بتاتی ہیں کہ 'ہم ایک آن لائن کانفرنس میں گئے۔ وہاں پر بہت سارے سرمایہ کار آئے ہوئے تھے۔ ہماری وہاں کچھ وینچر کیپٹلسٹ لوگوں سے ملاقات ہوئی اور ہم نے انھیں اپنا آئیڈیا پیش کیا۔ اور پھر یہ سلسلہ کافی دیر تک چلا۔ کچھ ملاقاتیں ہوئیں اور پھر وہ عمل چلا جسے ڈیو ڈلیجنس کہتے ہیں۔ ڈیو ڈلیجنس میں سرمایہ کار آپ کے حساب کتاب کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کے کاروبار میں بڑھنے اور پھیلنے کا کتنا امکان ہے۔'

وہ بتاتی ہیں کہ ‘ہم لوگ قدرے خوش قسمت تھے۔ ہم نے دو سرمایہ کاروں سے ہی بات کی۔ ایک نے ہمیں مسترد کر دیا تاہم دوسرے کو ہمارا آئیڈیا پسند آیا۔ مگر سب لوگوں کا اس حوالے سے تجربہ مختلف ہوتا ہے۔‘

مینا کے تجربے کے برعکس، مصباح نقوی کہتی ہیں کہ سرمایہ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔

‘وہ نوجوان جو نیا کاروبار کھڑا کرنا چاہتے ہیں انھیں بہت زیادہ پیسے خرچ کرنے سے پہلے اپنے آئیڈیا کو مارکیٹ میں ٹیسٹ کرنا چاہیے۔ اس بات کو تعین کریں کہ جو چیز آپ مارکیٹ میں لانا چاہ رہے ہیں، لوگوں میں اس کی مانگ ہے بھی یا نہیں۔ وہ آپ کی مصنوعات یا سروس خریدیں گے یا نہیں۔ اسے ہم کہتے ہیں کہ مارکیٹ ویلیڈیشن۔ ایک دفعہ آپ کے پاس مارکیٹ ویلیڈیشن آ جائے تو پھر آپ لوگوں کو جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں سرمایہ دیں۔‘

مصباح نقوی کہتی ہیں کہ سرمایہ کار کمپنیوں میں پیسے ڈالنے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ٹیم کیسی ہے۔ ‘پاکستان میں اکثر کام کروانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ تو سرمایہ کار یہ دیکھتے ہیں کہ کمپنی بنانے والے میں وہ ‘جوگاڑ‘ ہے یا نہیں۔‘

فیصل آفتاب بھی بطور ایک سرمایہ کار بتاتے ہیں کہ سب سے پہلے وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کاروبار کا آئیڈیا دینے والی ٹیم میں کون ہے؟

نوجوان، سرمایہ کاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا تھا کہ 'سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں کو ٹیکنالوجی کی سمجھ کتنی ہے۔ اکثر ہم ان لوگوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جنھوں نے پہلے کسی ٹیکنالوجی کمپنی میں کام کر کے اس کو پھیلایا بڑھایا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے پاکستان میں کریم میں درمیانے درجے پر کام کیا ہوا ہے اور کسی ایک شعبے میں ترقی کی ہوئی ہے، یا فوڈ پانڈا میں یا دراز میں، وہاں ہر عام پر ان لوگوں کو کمپنیوں کو بنانا آتا ہے اور اس میں رفتار انتہائی اہم ہے۔‘

‘اس کے علاوہ جب کمپنی تھوڑی سی میچور ہوگئی ہے، ٹیم بن گئی ہے، کچھ فروخت ہو چکی ہے، وہاں پر ہم (منافع بخش ہونے پر) زیادہ توجہ دیتے ہیں مگر پھر بھی ٹیم سب سے اہم ہوتی ہے۔ ہم جو پیسے لگا رہے ہیں، وہ ہم اس ٹیم کی صلاحیت پڑ لگا رہے ہیں۔ جب ہم اس سے اگلے مرحلے پر جاتے ہیں وہاں ہم پھر منافع اور وسعت کے امکانات (جیسے کہ کل مارکیٹ سائز) پر غور کرتے ہیں۔‘

مگر اگر آپ کے پاس یہ سب کچھ ہے تو آپ سرمایہ کاروں کے سامنے کیسے آئیں؟

اس حوالے سے مصباح کہتی ہیں کہ ‘پہلے تو بہت ساری کانفرنسز ہوتی ہیں جہاں منتظمین کہتے ہیں کہ آئیں سرمایہ کاروں کے سامنے اپنا آئیڈیا پیش کریں۔ اس کے علاوہ متعدد ایکسلیٹر پروگرامز ہوتے ہیں، حکومت نے قومی انکیوبیشن سنٹر بھی بنائے ہیں۔‘

مصباح کہتی ہیں کہ ایکسلیٹر یا انکیوبیٹر سنٹرز جیسی تنظیموں کو انٹرپنیوئرشپ سپورٹ آرگنائزیشنز کہا جاتا ہے۔ ‘اگر آپ ایسی کسی تنظیم کے پروگرام کا حصہ بن جائیں تو نہ صرف وہ آپ کی مدد کرتے ہیں کہ اپنے کاروبار کو کیسے بڑھایا جائے بلکہ وہ کئی مخصوص دنوں پر تقریبات کا انعقاد کرے ہیں جہاں وہ آپ کو سرمایہ کاروں کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں کہ آپ اپنا آئیڈیا پیش کریں۔ اس کے علاوہ اب یونیورسٹیاں بھی اس میں مدد کرتی ہے۔‘

ڈالر

،تصویر کا ذریعہAFP

پری سیڈ راؤنڈ، سیڈ راؤنڈ، سیریز اے راؤنڈ، سیریز بی راؤنڈ کیا ہوتے ہیں؟

فیصل آفتاب بتاتے ہیں کہ ‘پری سیڈ راؤنڈ، سیڈ راؤنڈ، سیریز اے راؤنڈ، سیریز بی راؤنڈ۔۔۔ یہ تمام صرف سرمایہ کاری حاصل کرنے کے مختلف مراحل ہیں۔ پری سیڈ آپ اس وقت کو کہتے ہیں کہ جب تین چار لوگ اکھٹے ہوئے، ان کے پاس ایک آئیڈیا ہے، انھوں نے اسے ایک پریزنٹیشن میں ڈال دیا، اکثر اس وقت کمپنی بھی نہیں ہوتی، ہم اس مرحلے پر ان کے ماضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر انھیں پہلا چیک دیتے ہیں۔ عام طور پر یہ ایک سے ڈیڑھ ملین ڈالر کے لگ بھگ ہوتا ہے۔

‘سیڈ مرحلہ وہ ہوتا ہے کہ کمپنی کا اندراج ہو گیا ہے، ٹیکنالوجی پروڈکٹ تیار ہو گیا ہے، تھوڑے بہت گاہک آنا شروع ہوگئے ہیں، یعنی آپ نے یہ دیکھا دیا ہے کہ آپ کا آئڈیا کوئی چیز بن گیا ہے، پھر اس موقعے پر سیڈ راؤنڈ کیا جاتا ہے جو ان کی رفتار میں تیزی لاتا ہے۔ پاکستان میں عام طور پر اس مرحلے پر اوسطً دو سے تین ملین ڈالر دیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد ہوتا ہے کہ کمپنی کو بڑھایا جائے۔‘

‘جب آپ کمپنی کو بڑھا لیتے ہیں، تو پھر آپ سیریز اے راؤنڈ میں پہنچ جاتے ہیں جہاں آپ دس سے پندرہ ملین ڈالر حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت مارکیٹ میں آپ کی مصنوعات کی پہچان بننا شروع ہو جاتی ہے، ایک نیٹ ورک ایفیکٹ شروع ہو جاتا ہے، جیسے ایک زمانے پر واٹس ایپ پاکستان میں پھیلانا شروع ہو گیا تھا تو اس وقت آپ کو اور پیسے چاہیے ہوتے ہیں جو سیریز اے راؤنڈ سے آتے ہیں۔‘

’وہاں پر ہم یہ دیکھتے ہیں صارفین کتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، کتنے صارفین دوسری مرتبہ آ رہے ہیں، آمدنی کتنی ہے، اگر آمدنی نہیں ہے تو مستقبل میں آمدنی کا ممکنہ راستہ کیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘