چینی تعمیراتی کمپنی کو دھوکا، ویلتھ مینیجر 31 کروڑ ڈالر لے کر رفوچکر

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کسی زمانے میں چین کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی تصور کیے جانے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اس کا اپنے ویلتھ مینیجر کے ساتھ رابطہ نہیں ہو پا رہا جن کے پاس کمپنی کے 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہیں۔

چائنہ فارچون لینڈ ڈیویلپمنٹ نے کہا ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ’چائنہ کریئیٹ کیپیٹل‘ نے اس کی ایما پر فنڈز سے سرمایہ کاری کرنی تھی۔

فارچون لینڈ نے سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ اُنھوں نے بیجنگ پولیس کو اس حوالے سے اطلاع دے دی ہے۔

رواں ماہ کمپنی نے اربوں ڈالر کے بانڈز کی ادائیگی نہ کرنے پر اپنے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔

شنگھائی سٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے جمع کروائی گئی ایک دستاویز کے مطابق سنہ 2018 میں فارچون لینڈ کے ایک بیرونِ ملک ونگ نے ایک معاہدے کے تحت ونگسکینگو لمیٹڈ کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ اس کمپنی کو سرمایہ کاری کی خدمات فراہم کرے۔

اس دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ونگسکینگو کی ہدایت پر فارچون لینڈ نے چائنہ کریئیٹ کیپیٹل کو 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر منتقل کیے۔

یہ بھی پڑھیے

فارچون لینڈ کا کہنا ہے کہ اسے توقع تھی کہ سال 2022 کے اختتام پر اس معاہدے کے ختم ہونے تک اس سرمایہ کاری سے سالانہ سات سے 10 فیصد تک منفع جمع ہو گا۔

مگر فارچون لینڈ کا کہنا ہے کہ یہ کریئیٹ کیپیٹل سے رابطہ نہیں کر پا رہی ہے اور 'یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں' کہ اس کے موجودہ اور مستقبل کے منافعوں پر ان گمشدہ پیسوں کا کیا اثر ہو گا۔

دیگر کئی چینی ریئل سٹیٹ کمپنیوں کی طرح حالیہ چند مہینوں میں فارچون لینڈ کے شیئرز کی قیمتیں بھی گری ہیں۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کی وجہ اس صنعت میں قرضوں کے بحران کو قرار دیا جا رہا ہے۔

شنگھائی سٹاک ایکسچینج میں درج اس کے شیئرز کی قیمت میں رواں سال 70 فیصد تک کی گراوٹ ہوئی کیونکہ کمپنی اپنی مالیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی تھی۔

مگر فارچون لینڈ نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ قرض خواہوں کے ایک گروپ نے اس کے قرضے ری سٹرکچر کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

بے پناہ قرضوں میں دبی ہوئی اس کمپنی کو اس معاہدے سے ممکنہ لائف لائن مل گئی تھی۔

فارچون لینڈ چین میں قرض تلے دبے ہوئے پراپرٹی ڈیویلپرز میں سے صرف ایک کمپنی ہے جو گذشتہ سال اس شعبے کی جانب سے قرض کے حصول کے خلاف سخت حکومتی اقدامات کے بعد سے شدید دباؤ کے شکار ہیں۔

اس صنعت کا ایک اور بڑا نام ایورگرینڈ کا ہے جس پر تقریباً 300 ارب ڈالر قرضے ہے۔ یہ اس بحران کی زد میں آنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور حال ہی میں یہ اپنے کچھ غیر ملکی بانڈز پر سود کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔

اس کی حریف کمپنی کائسا پر بھی دیگر ممالک کا 12 ارب ڈالر کا قرض ہے۔ اس نے بھی گذشتہ ہفتے میچور ہونے والے اپنے 40 کروڑ ڈالر کے بانڈز کی ادائیگی نہیں کی تھی۔