جنرل بپن راوت اور اہلیہ کی ہلاکت: جائے حادثہ کے قریب موجود عینی شاہد نے کیا دیکھا؟

مدھوءیکا بھی جنرل راوت کے ساتھ تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس حادثے میں جنرل راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر 11 افراد کی بھی موت ہو گئی

'میں نے اپنی آنکھوں سے صرف ایک آدمی کو دیکھا، وہ جل رہا تھا اور پھر وہ نیچے گر گیا، میں ہل گیا'۔

یہ کہنا ہے بدھ کو ہونے والے اس ہیلی کاپٹر حادثے کی جگہ کے قریب موجود عینی شاہد کا جس میں ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس حادثے میں جنرل راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر 11 افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ حادثے میں گروپ کیپٹن ورون سنگھ ہی زندہ بچے ہیں جن کا علاج جاری ہے۔

انڈین فضائیہ کے ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر میں جنرل راوت اور ان کی اہلیہ سمیت 14 افراد سوار تھے۔ یہ ہیلی کاپٹر تمل ناڈو کے کنور ضلع میں گر کر تباہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین فضائیہ کے مطابق جنرل بپن راوت ڈیفینس سروسز سٹاف کالج جا رہے تھے جہاں اُنھیں سٹاف کورس کے طلبہ افسران اور اساتذہ سے خطاب کرنا تھا۔

فضائیہ نے کہا ہے کہ حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

60 سالہ کرشنا سوامی اس حادثے کے عینی شاہد ہیں، وہ اس جگہ کے قریب رہتے ہیں جہاں یہ حادثہ پیش آیا۔

کرشنا سوامی

،تصویر کا ذریعہMADAN PRASAD/BBC

،تصویر کا کیپشنکرشنا سوامی جائے حادث کے قریب رہتے ہیں

عینی شاہد نے کیا دیکھا؟

ان کا کہنا ہے کہ 'میں ننجاپا سوتھیرام کا رہنے والا ہوں۔ میں گھر کے لیے لکڑیاں لینے نکلا تھا۔ پائپ ٹوٹنے کی وجہ سے گھر میں پانی بھرا ہوا تھا۔ چندر کمار اور میں اس کی مرمت کر رہے تھے۔ تبھی ہم نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی'۔

وہ مزید بتاتے ہیں 'دھماکے سے بجلی کے کھمبے تک ہل گئے۔ درخت اکھڑ گئے۔ جب ہم نے دیکھا کہ کیا ہوا تو وہاں دھواں اٹھ رہا تھا، دھوئیں نے پورے علاقے کو ڈھانپ لیا تھا، وہاں دھند چھائی ہوئی تھی۔ درخت کے اوپر آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے صرف ایک آدمی کو دیکھا، وہ جل رہا تھا اور پھر وہ نیچے گر گیا، میں ہل گیا۔ میں دوڑتا ہوا واپس آیا اور میں نے لوگوں سے کہا کہ فائر بریگیڈ اور پولیس کو بلاؤ، کچھ دیر بعد اہلکار بھی آگئے۔ میں نے لاش کو لے جاتے ہوئے نہیں دیکھا، میں صدمے میں تھا گھر آکر لیٹ گیا'۔