ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے انڈین جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

بپن راوت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے انڈیا کے پہلے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل بپن راوت اور اُن کی اہلیہ مدھولیکا راوت کی آخری رسومات دارالحکومت نئی دہلی میں ادا کر دی گئی ہیں۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے جنرل راوت سمیت حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ ان کے ساتھ تینوں افواج کے سربراہان، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال بھی موجود تھے۔

آٹھ دسمبر کو جنرل بپن راوت اور اُن کی اہلیہ سمیت 13 افراد انڈین ریاست تمل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ جبکہ اس حادثے میں گروپ کیپٹن ورون سنگھ زندہ بچ گئے تھے اور شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔

جمعرات کی شب تمام میتوں کو تامل ناڈو سے دلی لایا گیا تھا۔

ہیلی کاپٹر سے رابطہ لینڈنگ سے چند منٹ قبل ہی منقطع ہوا

انڈیا کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف کے ہیلی کاپٹر کا رابطہ لینڈ کرنے سے چند منٹ پہلے ہی منقطع ہوا تھا۔

مودی

،تصویر کا ذریعہNARENDRA MODI/TWITTER

انڈیا کی پارلیمان ’لوک سبھا‘ میں انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے پر سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ 'سولور بیس کے ایئر ٹریفک کنٹرول سے ہیلی کاپٹر کا رابطہ 12 بجکر آٹھ منٹ پر منقطع ہوا۔ جس کے کچھ ہی دیر بعد مقامی افراد نے قریبی جنگل میں آگ بھڑکتی دیکھی۔ آگ کے شعلوں میں لپٹے ہیلی کاپٹر کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں جائے موقع پر پہنچ گئی تھی۔'

ان کے کہنا تھا کہ انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف کے ہیلی کاپٹر کو 12 بج کر 15 منٹ پر ویلنگٹن پر اترنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے چیف آف سٹاف ڈیفینس کی آخری رسومات مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ جمعے کو دہلی میں ادا کی جائیں گی۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کی باقیات کو خصوصی طیارے کے ذریعے دہلی لایا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رسیکیو ٹیموں نے ہیلی کاپٹر کے جائے حادثہ کے مقام سے لوگوں کو زندہ بچانے کی کوشش کی اور زخمیوں کو فوری طور پر ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔

گروپ کیپٹن ورون سنگھ

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنہیلی کاپٹر حادثے میں زندہ بچ جانے والے گروپ کیپٹن ورون سنگھ اس وقت انتہائی تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں

انڈین وزیر دفاع نے اپنے بیان میں اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے گروپ کیپٹن وررن سنگھ کے متعلق بتایا کہ ان کی حالت تشویشناک ہے اور انھیں زندہ بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ اس وقت ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

رواں برس اگست میں گروپ کیپٹن ورون سنگھ کو فوجی اعزاز سوریا چکر دیا گیا تھا۔ دراصل انھیں یہ اعزاز پرواز کے دوران انڈیا فضائیہ کے جہاز تیجس میں خرابی آنے کے بعد اسے بحفاظت لینڈ کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔

بدھ کو انڈین فضائیہ نے اپنی ایک ٹوئٹر تھریڈ میں اس بات کا اعلان کیا تھا۔ انڈین فضائیہ کے مطابق جنرل بپن راوت ڈیفینس سروسز سٹاف کالج جا رہے تھے جہاں اُنھیں سٹاف کورس کے طلبہ افسران اور اساتذہ سے خطاب کرنا تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کی سہ پہر تعزیت کے لیے نئی دہلی میں واقع جنرل راوت کے گھر بھی گئے۔

یہ بھی پڑھیے

راوت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق جنرل راوت کی آخری رسومات جمعے کو دہلی کے کینٹ کے علاقے میں ادا کی جائیں گی۔

دوسری جانب اتراکھنڈ حکومت نے جنرل راوت کی موت پر تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل راوت کا تعلق اتراکھنڈ سے ہے اور وہ وہیں پیدا ہوئے تھے۔

فوجی ہیلی کاپٹر کو یہ حادثہ بدھ کو تامل ناڈو میں سولور اور کوئمبٹور کے درمیان پیش آیا اور وہ ایک پہاڑی علاقے میں گرا۔ انڈیا کی فضائیہ کے مطابق جو ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا وہ روسی ساختہ اور ایم آئی 17 وی فائیو ماڈل کا تھا۔

جائے حادثہ سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں جائے وقوعہ سے آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

انڈین فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اُنھوں نے ہیلی کاپٹر کو آسمان سے گرتے ہوئے دیکھنے سے قبل 'خوفناک، بلند شور' سنا تھا۔

کرشنا سوامی نامی فرد نے دی نیوز منٹ کو بتایا: 'میں نے ہیلی کاپٹر کو نیچے آتے دیکھا، یہ ایک درخت سے ٹکرایا اور یہ جل رہا تھا۔'

اُنھوں نے کہا کہ 'جب میں بھاگتے ہوئے وہاں پہنچا تو گہرا دھواں اٹھ رہا تھا۔ کچھ ہی منٹوں میں آگ میرے گھر سے بھی بلند ہو گئی تھی۔'

درختوں اور جھاڑیوں سے اٹی ہوئی پہاڑی میں کریش ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔

جائے حادثہ

،تصویر کا ذریعہPress Trust of India

،تصویر کا کیپشنجائے حادثہ کی تازہ ترین تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے ملبے میں آگ لگی ہوئی ہے اور مقامی افراد اسے بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں

جنرل راوت کو ملک کی برّی فوج کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد یکم جنوری 2020 کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف مقرر کیا گیا تھا۔

انڈین فوج کے چیف آف ڈیفنس کا یہ عہدہ فور سٹار جنرل کا ہے یعنی یہ تینوں افواج کے سربراہان کے برابر ہے۔ تینوں افواج کے سربراہ انھیں رپورٹ نہیں کرتے بلکہ وہ بدستور وزیر دفاع کے ہی تابع ہیں لیکن چیف آف ڈیفنس سٹاف ان سے صلاح و مشورہ کرتا ہے اور اپنی رائے وزیر دفاع کو دیتا ہے۔

بپن راوت کون تھے؟

جنرل بپن راوت 16 مارچ 1958 کو شمالی ریاست اترکھنڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنھیں ایک سخت گیر سپاہی اور متاثر کُن کمانڈر کے طور پر جانا جاتا تھا۔

اُن کا تعلق ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ سے ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی کئی نسلوں نے انڈین فوج میں خدمات انجام دی ہیں۔

نامہ نگار نیاز فاروقی کے مطابق راوت فروری 2015 میں بھی ناگالینڈ میں چیتا ہیلی کاپٹر کے حادثے میں بال بال بچے تھے۔

بپن راوت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت

نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور اور انڈین ملٹری اکیڈمی کے سابق طالب علم رہ چکے راوت نے دسمبر 1978 میں انڈین آرمی کی 11 گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انسداد بغاوت جنگ کے ماہر وہ چین اور پاکستان دونوں سرحدوں پر مختلف عہدوں پر تعینات رہ چکے تھے۔ اُنھوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ استحکام مشن کے طور پر کانگو میں بھی خدمات انجام دیں۔

2015 میں میانمار میں ریاست ناگالینڈ سے منسلک عسکریت پسندوں کے خلاف سرحد پار آپریشن کا سہرا جنرل راوت کے سر باندھا جاتا ہے۔

دسمبر 2016 میں ایک متنازعہ قدم کے تحت حکومت ہند نے انھیں دو سینیئر لیفٹیننٹ جنرلز، پروین بخشی اور پی ایم ہارس پر فوقیت دیتے ہوئے ملک کی برّی فوج کا 27 ویں چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا تھا۔

40 سال سے زیادہ کے کریئر کے دوران اُنھیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

ایم آئی 17 وی فائیو ہیلی کاپٹر

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنایم آئی 17 وی فائیو کا شمار دنیا کے جدید ترین ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹروں میں ہوتا ہے

حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر کون سا تھا؟

یہ حادثہ فضائیہ کے ایم آئی 17 وی فائیو ہیلی کاپٹر کو پیش آیا۔ دو انجن والے اس ہیلی کاپٹر کا شمار دنیا کے جدید ترین ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹروں میں ہوتا ہے۔

اس ہیلی کاپٹر کو سمندری موسم اور صحرائی حالات میں پرواز کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ فوجیوں کے علاوہ اسلحہ لے جانے، فائر سپورٹ، گشت اور تلاش اور بچاؤ کے کاموں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے

انڈین فضائیہ اسے وی آئی پی ہیلی کاپٹر کے طور پر استعمال کرتی ہے اور یہ ملک میں اعلیٰ شخصیات کی نقل و حرکت میں کام آتا رہا ہے۔

حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی قسم کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لداخ اور کیدارناتھ جیسے علاقوں کا دورہ کیا تھا جبکہ وزیر دفاع بھی اسی قسم کے ہیلی کاپٹر میں دور دراز علاقوں میں جاتے ہیں۔

ویسے تو ایم آئی 17 وی فائیو ہیلی کاپٹر فوجی نقل و حمل کے لیے بہترین ہیلی کاپٹرز میں سے ہے مگر انڈین ایئر فورس کے عمر رسیدہ بیڑے کو بڑی تعداد میں حادثوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

سابق آرمی چیف جے جے سنگھ نے کہا کہ یہ ایک 'محفوظ' ہیلی کاپٹر تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس میں کئی مواقع پر سفر کر چکے ہیں۔

سنہ 2017 میں شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں تربیتی ہیلی کاپٹر گرنے سے سات فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل 2016 میں اترکھنڈ میں ایک اور ہیلی کاپٹر فوجی مشق کے دوران پرواز کرتے ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔