جنرل بپن راوت: انڈیا کے پہلے چیف آف ڈیفینس سٹاف جو اپنے بیانات کے سبب سرخیوں میں رہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سُبیر بھومِک
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کولکتہ
انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل بپن راوت اور اُن کی اہلیہ مدھولیکا راوت بدھ کے روز ہونے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ وہ انڈیا کے سب سے سینیئر دفاعی اہلکار تھے۔
انھیں 2019 میں ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف سی ڈی ایس) کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، اور اس سے قبل وہ انڈیا کی دس لاکھ افراد پر مشتمل فوج کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔
63 سالہ جنرل کی شہرت ایک بہادر فوجی اور متاثر کن کمانڈر کی تھی، جن کے کبھی کبھی سیاست پر تبصرے تنازعات کو جنم دیتے تھے۔
جنرل راوت 16 مارچ 1958 کو بانڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد انڈیا کی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل تھے جبکہ ان کی والدہ ایک سیاست دان کی بیٹی تھیں۔
اپنی فوجی تربیت کے دوران وہ بہترین کیڈٹ تھے اور نیشنل ڈیفنس کالج اور انڈین ملٹری اکیڈمی میں انھیں 'سورڈ آف آنر' سے نوازا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے فورٹ لیون ورتھ، کنساس میں یونائیٹڈ سٹیٹس آرمی کمانڈ اینڈ جنرل سٹاف کالج کے ساتھ تربیتی کورس بھی مکمل کیا تھا۔
1978 میں انھوں نے اپنے والد کے فوجی یونٹ 11 گورکھا رائفلز میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ فوج میں کئی اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ان کی مہارت اونچائی پر جنگ اور شورش کے خلاف آپریشنز میں تھی۔
وہ ایک ڈیکوریٹڈ آفیسر تھے جنھوں نے اکثر ملک کے شورش زدہ علاقوں میں یونٹوں کی کمانڈ کی تھی۔
1980 کی دہائی میں جب وہ کرنل تھے، تو انھوں نے چین کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ اپنی بٹالین کی کمانڈ کی۔

،تصویر کا ذریعہADG PI - INDIAN ARMY
2015 میں، جب وہ 3 کور کے انچارج تھے، جنرل راوت نے کسی غیر ملکی سرزمین میں انڈیا کی طرف سے پہلی سرکاری طور پر اعلان کردہ سرجیکل سٹرائیک شروع کی تھی۔ اس وقت انھوں نے میانمار کے اندر ان ناگا باغیوں پر حملہ کرنے کے لیے ایک پیرا کمانڈو بٹالین کے دستے بھیجے تھے، جنھوں نے انڈین فوجیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔
2016 میں انھوں نے انڈیا کے 27 ویں فوجی سربراہ کا عہدہ سنبھالا، جبکہ ان سے دو سینیئر افسران اس دوڑ میں تھے۔
اگلے ہی سال، انڈیا نے ایک بین الاقوامی تنازعے کو جنم دیا جب اس فوجی افسر کو تمغہ دیا گیا جس نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک شہری کو اپنی جیپ کے آگے باندھ کر چیپ چلائی تھی۔ جنرل راوت نے اس اقدام کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ 'غلیظ جنگ' میں ایک 'جدت' ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'لوگ ہم پر پتھر پھینک رہے ہیں، لوگ ہم پر پٹرول بم پھینک رہے ہیں۔ اگر میرے آدمی مجھ سے پوچھیں کہ ہم کیا کریں، تو کیا میں کہوں، بس مرنے کا انتظار؟ میں قومی پرچم کے ساتھ ایک خوبصورت تابوت لے کر آؤں گا اور عزت کے ساتھ آپ کی لاشیں گھر بھیجوں گا۔ کیا مجھے بطور چیف انھیں یہی بتانا ہے؟ مجھے وہاں تعینات اپنے فوجیوں کے حوصلے کو برقرار رکھنا ہے۔'
2019 میں، نریندر مودی کی حکومت نے انڈیا کی بری، بحری اور فضائی فوج کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے چیف آف ڈیفینس سٹاف (سی ڈی ایس) کی پوزیشن قائم کی۔ نئے سربراہ کے پاس فوج کی فنڈنگ کا کنٹرول تھا۔
جب جنرل راوت نے چارج سنبھالا تو حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے مبینہ قربت کی وجہ سے ان پر تنقید بھی کی گئی۔ لیکن انھوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان کے کچھ بیانات انڈیا کی فوج کی 'غیر سیاسی' روایت کے خلاف جاتے ہیں۔
انھوں نے ایک مرتبہ آسام میں مسلم اکثریتی آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ پارٹی کی مقبولیت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، جس کے بعد اقلیتی رہنماؤں نے ان پر بی جے پی کی زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔
حالیہ مہینوں میں جنرل راوت فوج کو جدید طرز پر لانے پر توجہ دے رہے تھے اور ان کی قیادت میں تینوں افواج کے انضمام کا عمل شروع ہو چکا تھا۔










