انڈین ریاست گجرات میں گوشت اور انڈے سے بنی اشیا کی ’نمائش‘ پر پابندی کیوں؟

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، دلی
انڈیا کی ریاست گجرات میں وڈودرا، راجکوٹ، بھاونگر اور جوناگڑھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر اقتدار بلدیہ نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر گوشت اور انڈے سے تیار کردہ کھانا بیچنے والے ٹھیلوں اور دکانداروں کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔
بلدیہ نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یا تو اپنی دکانوں میں نان ویج اشیا کی فروخت بند کر دیں یا انھیں ڈھک کر رکھیں تاکہ سڑک پر سے گزرنے والے یا فٹ پاتھ پر چلنے والے افراد کو نظر نہ آئیں۔ بلدیہ کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
خبروں کے مطابق حالانکہ کوئی باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن بلدیہ کے منتخب شعبوں نے زبانی طور پر عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سڑکوں پر نان ویج کھانا اور انڈے عام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہیں۔
کیا یہ سرکاری فیصلہ ہے؟
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق گجرات بی جے پی کے ریاستی صدر سی آر پاٹل نے ان تمام فیصلوں کو ذاتی فیصلے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی بی جے پی کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے وڈودرا اور راجکوٹ کے بلدیاتی اداروں سے بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ نان ویج فوڈ کے ٹھیلوں کو سڑکوں سے نہ ہٹائیں۔ یہ لیڈروں کی ذاتی رائے تھی۔ ہم اسے پوری ریاست میں نافذ نہیں کریں گے۔‘
تاہم اس مسئلے پر تنازعہ کے بعد گجرات کے وزیر برائے آمدنی راجندر ترویدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی کو بھی فٹ پاتھ پر ٹھیلے کھڑے کرنے کا حق نہیں ہے۔ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے ہے۔‘
انھوں نے اس فیصلے پر بلدیات کے میئرز کو بھی مبارکباد دی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وڈودرا کی ڈپٹی میئر نندابہن جوشی نے تنازعہ کے بعد سنیچر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عورتیں اور بچے سرِ عام نان ویج ڈشز پکنے سے آنکھوں میں جلن کی شکایت کر رہے ہیں۔
حالانکہ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وڈودرا میں 24 گھنٹے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا اور نان ویج اور انڈے بیچنے والے ٹھیلے فی الحال بند نہیں کیے گئے ہیں لیکن راجکوٹ کے پھول چھاب چوک سے ٹھیلوں کو ہٹانے کی خبریں آئی ہیں۔
ٹھیلوں کو ہٹاتے وقت راجکوٹ کے ڈپٹی کمشنر اے آر سنگھ نے کہا کہ ’لوگ سڑک پر کھڑے ایسے ٹھیلوں کو پسند نہیں کرتے اور اس سے ٹریفک ہوتی ہے۔‘
اس سے پہلے پانچ نومبر کو سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے بھی کہا تھا کہ ’نان ویج کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بائیو وائلنس کی ضرورت نہیں ہے۔ سبزی جسم کو صحت مند رکھتی ہے۔‘
2019 میں جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے سومنتھ اور امباجی مندروں کے 500 میٹر ارد گرد کے علاقے کو ’سبزی خور‘ قرار دیا تھا۔
ٹھیلے والوں کی احتجاج کی دھمکی
اس فیصلے کے بعد ریاست میں نان ویج، انڈوں اور فاسٹ فوڈ کے تقریباً 17 لاکھ ٹھیلے والوں نے یہ فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں وڈودرا، راجکوٹ اور جوناگڑھ میونسپل کارپوریشن کے خلاف احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
حبیب غنی بھائی نے، جن کے بھتیجے کا ٹھیلا ہٹا دیا گیا ہے، بی بی سی کو بتایا کہ ’جہاں ٹھیلے ہٹائے گئے ہیں لوگ وہاں چار یا پانچ دہائیوں سے کاروبار کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ گوشت اور سبزی خوری کے نام پر ہندوتوا کی سیاست ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’2022 کے انتخابات آ رہے ہیں اس لیے ہمارے ٹھیلے ہٹائے جا رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
شراب پر پابندی اور سبزی خوری دو ایسے مسائل ہیں جو گجرات میں مسلسل زیر بحث رہتے ہیں۔ گجرات کو ایک ’سبزی خور ریاست‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے حالانکہ یہاں ایک خاصی آبادی گوشت خور بھی ہے۔
2014 کے رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے ذریعے کیے گئے ایک سروے کے مطابق گجرات میں 61.80 فیصد لوگ سبزی خور جبکہ 39.05 فیصد لوگ نان ویج ہیں۔
کیا گجرات میں کبھی بھی گوشت نہیں کھایا جاتا تھا؟
مشہور ماہر طباخ اور مورخ پشپیش پنت اور دوسرے سکالرز کا خیال ہے کہ گجرات میں جین مت یا وشنو مت یا فطری عدم تشدد کے رویے کا اثر بہت پہلے سے ہے۔
صحافی ویر سنگھوی لکھتے ہیں کہ ’انڈیا کبھی بھی سبزی خور ملک نہیں رہا ہے۔ سبزی خوری کی مقبولیت ہندو روایت سے نہیں بلکہ جین روایت سے آئی ہے۔‘
گجرات میں جین تہورا پریوشن، جس میں سال میں ایک مرتبہ روزہ رکھنے جیسی رسم ہے، کے دوران مذبح خانے بند رکھے جاتے ہیں۔
متل پٹیل نے، جو ایک طویل عرصے سے خانہ بدوشوں کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں، بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ان ’میں سے ستر فیصد لوگ سبزی خور ہیں۔‘
ماہر عمرانیات گورنگ جانی نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ’اگر آپ گجرات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بادشاہوں نے جین مت کو پناہ دی جس کا اثر ان کی حکومت پر نظر آتا ہے۔‘
جینوں کے علاوہ وشنو مت کا بھی ریاست کی غذا پر اثر ہوا ہے۔ ان دونوں برادریوں کی آبادی کم تھی لیکن سیاسی اور تجارتی ڈھانچے پر دونوں کی اچھی گرفت تھی۔
گجرات میں ایک عرصے سے پارسیوں، قبائلیوں، کھشتریوں اور سمندری مسافروں کی خوراک میں نان ویج کھانے کا ایک اہم مقام رہا ہے۔ ان کی نئی نان ویج ڈشز بھی کافی مقبول ہیں۔
ملک میں سب سے طویل ساحلی سرحد گجرات میں ہے اور سمندری غذا بھی ریاست کے لیے خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
گورنگ جانی کہتے ہیں کہ ’ساحل کے قریب رہنے والے لوگ دہائیوں سے سمندری غذا کھا رہے ہیں لیکن سمندر سے وابستہ تاجروں کا تعلق بنیا اور جین متوں سے ہے۔‘
ساحلی لوگوں کے علاوہ ریاست کا ایک خاصہ رقبہ قبائلی ہے جہاں لوگ گوشت کھاتے رہے ہیں۔
آزادی سے پہلے گجرات اور کاٹھیاواڑ کی ریاستوں میں بھی گوشت کھایا جاتا تھا۔ اس وقت ان علاقوں میں شکار غیر قانونی نہیں تھا۔
ایران سے آکر گجرات میں آباد ہونے والے پارسی بھی گوشت اور کباب کے اپنے اپنے روایتی پکوان لے کر آئے تھے۔ اور ساحل کے قریب رہنے کی وجہ سے ان کی غذا میں مچھلی بھی شامل رہی ہے۔
صحافی ویر سنگھوی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ملک میں سب سے بہترین نان ویجیٹیرین ڈشز گجراتی ہیں جنھیں گجرات کے مسلم معاشرے مثلاً کھوجا اور میمن وغیرہ نے دیا ہے۔‘
جانی کہتے ہیں کہ ’جب گجراتی تھالی کی بات ہوتی ہے تو اعلیٰ طبقے کے اثر و رسوخ کی وجہ سے صرف سبزی تھالی کی بات ہوتی ہے۔ گجراتی تھالی میں نان ویج کھانا بھی ہوتا ہے لیکن اسے غائب کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ گجراتی چینلز پر آنے والے کوکنگ شوز میں کبھی بھی نان ویج ڈشز کی ترکیب نہیں دکھائی جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’سیاست میں فرقہ پرست طاقتیں اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ نئی نسل نان ویجیٹیرین کھانے کی طرف مائل ہو رہی ہے، اس لیے نسل کو ایسی پالیسی سے کیسے جوڑا جائے جو ہندوتوا کو پروان چڑھاتی ہو۔ اور اسی لیے سبزی خوری کو سیاسی طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ہندوتوا کا مسئلہ گجراتی ہونے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔





