میرٹھ: انڈہ لانے پر سکول سے اخراج اور وزیر اعلی جیسے بال کٹوانے کے احکامات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ کے ایک نجی سکول کی انتظامیہ نے طلبہ کے انڈے یا گوشت سے بنی کوئی بھی ڈش لانے پر پابندی لگا دی ہے۔
’رشبھ اکیڈمی‘ کی انتظامیہ کی جانب سے طالب علموں سے کہا گیا ہے کہ وہ صرف سبزیوں والا کھانا لائیں اور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا نہ صرف انھیں سکول سے نکال دیا جائیگا بلکہ قانونی کاروائی بھی کی جائیگی۔
سکول کی انتظامیہ نے تمام طالب علموں کو ریاست کے وزیر اعلٰی یوگی آدتیہ ناتھ کے جیسے انداز میں بال منڈوانے کا حکم بھی دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہKamran Zubairi
والدین کی جانب سے ان نوٹسز پر اعتراض کے بعد ضلعی مجسٹریٹ سمیر ورما نے ضلعی سکول انسپکٹر سے معاملے کی رپورٹ طلب کی ہے۔
اس سکول میں پہلی سے 12 ویں جماعت میں تقریباً 2800 بچے پڑھ رہے ہیں۔
سکول میں پڑھنے والے اقلیتی بچوں اور ان کے والدین نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ خاص طبقے کے بچوں کو نشانہ بناتے ہوئے داخلہ نہیں دینا چاہتی اور اسی وجہ سے پابندی کے ایسے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔
والدین اس بات سے خاص طور پر ناراض تھے کہ بچوں کو خاص طریقے سے بال کٹوانے کے لیے کہا جا رہا ہے جو انہیں منظور نہیں۔
اس بارے میں سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بہتر ماحول اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انتظامی کمیٹی کے سیکرٹری رنجیت جین نے کہا، 'لمبے بال اور نان ویج کھانے پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بعد طالب علم ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں جس کی شکایت ہم ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی سے بھی کریں گے۔ طالب علموں کی حرکتیں سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی'۔
رنجیت جین نے کہا، 'جن طالب علموں کو سکول میں رہنا ہے انہیں ان قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا جو نہیں کر سکتے وہ سکول سے نام کٹوا سکتے ہیں۔ طالب علموں کو بال بڑھانے اور داڑھی رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے'۔
دوسری جانب میرٹھ کے ضلع مجسٹریٹ سمیر ورما نے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہے اور رپورٹ ملنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔







