ورات کوہلی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی، ایک شخص گرفتار

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کی مایوس کن پرفارمنس پر انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کی دس ماہ کی بیٹی کو مبینہ طور پر ریپ کی دھمکی دینے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اس شخص کو بدھ کے روز انڈیا کے شہر حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مسلسل دو میچ ہارنے پر انڈین ٹیم کو آن لائن شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب انڈیا کو اپنے پہلے میچ میں روایتی حریف پاکستان سے شکست ہوئی۔

یاد رہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ انڈیا ورلڈ کپ میں پاکستان سے کوئی میچ ہارا ہے۔

اس ٹورنامنٹ کے لیے انڈیا کو ’فیورٹ‘ قرار دیا گیا تھا تاہم انڈین ٹیم سیمی فائنل میں پہنچنے سے پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی جس پر انڈیا میں شائقین کرکٹ کافی غصے میں دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات اکثر تناؤ کا شکار رہتے ہیں اور کرکٹ میچ کی وجہ سے اکثر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان سے شکست کے بعد انڈین بولر محمد شامی کو بھی آن لائن شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ چند سوشل میڈیا صارفین نے ان پر جان بوجھ کر پاکستان کو رنز دینے کا الزام لگایا اور انھیں غدار قرار دیا۔

جب وراٹ نے ایک پریس کانفرنس میں محمد شامی کی حمایت کرتے ہوئے ٹرولنگ کرنے والوں کا آڑے ہاتھ لیا تو کچھ انڈین صارفین کو یہ بات پسند نہ آئی اور انھوں نے وراٹ کوہلی اور ان کی اہلیہ انوشکا شرما پر بھی غصے کا اظہار کرتے ہوئے انھیں برا بھلا کہا۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ انوشکار شرما کو ماضی میں بھی ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انھیں انڈین ٹیم کی بری کارکردگی کا ذمہ دار ٹھرایا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والی گرفتاری ان ٹوئٹر اکاؤنٹس کے خلاف ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جن سے وراٹ اور انوشکا کے لیے توہین آمیز پیغامات پوسٹ کیے گئے تھے۔

کوہلی کے مینیجر نے ایک گمنام ہینڈل سے پوسٹ کی گئی ریپ کی دھمکی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تھی جبکہ دلی خواتین کمیشن نے بھی پولیس کو چھوٹی بچی کے خلاف دھمکی کے بارے میں نوٹس بھیجا تھا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والے شخص کی عمر 23 برس ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئیر اور حیدر آباد کا رہائشی ہے۔

ریپ کی مبینہ دھمکی کے سکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس شخص نے مبینہ طور پر ٹوئٹر پر اپنا نام بدل کر خود کو پاکستان کا رہائشی ظاہر کرنے کی کوشش کی تاہم حقائق کی جانچ کرنے والی ایک انڈین ویب سائٹ نے بعد میں اس شخص کی اصل شناخت ظاہر کی۔