ماحولیاتی تبدیلی اور کوپ 26: کیا انڈیا اپنے صفر کاربن اخراج کے اہداف حاصل کر سکتا ہے؟

Students in India have been taking part in Global Climate Strikes

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شروتی مینن
    • عہدہ, بی بی سی رئیلٹی چیک

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس کوپ 26 میں انڈیا میں 2070 تک صفر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یہ ہدف گلاسگو میں ہونے والے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی بعد کی تاریخ ہے۔

انڈیا دنیا میں چین اور امریکہ کے بعد ماحول میں کاربن ڈائی اکسائڈ خارج کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔

انڈیا اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور معیشت کے کوئلے اور تیل پر بھاری انحصار کے باعث اس کا ماحول میں کاربن ڈائی اکسائڈ کا اخراج تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کو اس وقت تک کم نہیں کیا جا سکتا جب تک اس میں کمی لانے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے جائیں۔

انڈیا نے اب تک کن اخراج میں کمی لانے کا وعدہ کیا ہے؟

انڈیا نے ماحول میں نقصان دہ گیس کے اخراج میں مجموعی طور پر کمی کا ہدف مقرر کرنے کی مزاحمت یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ صنعتی ممالک کو اس بوجھ کا بہت زیادہ حصہ اٹھانا چاہیے کیونکہ انھوں نے گزرتے وقت کے ساتھ ماحول میں نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں بہت زیادہ حصہ ڈالا ہے۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ 'اخراج کی شدت' کا ہدف، جو کسی ملک کی اقتصادی ترقی کی عکاسی کرتا ہے، کا دوسرے ممالک سے موازنہ کرنے کا ایک بہتر طریقہ ہے۔

Your device may not support this visualisation

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ انڈیا 2030 تک اپنی معیشت کی کاربن اخراج کی شدت میں 45 فیصد کمی کرے گا۔ انڈیا کا کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کا یہ ہدف اس کے سنہ 2005 سے 2030 کے گذشتہ ہدف سے بہت زیادہ ہے جس میں انڈیا نے 33 سے 35 فیصد کمی لانے کا اعادہ کیا تھا۔

تاہم کاربن کی اخراج میں کمی لانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مجموعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کی وجہ بننے والی گیسوں کے اخراج میں کمی ہو گی۔

حالیہ برسوں میں انڈیا کے تیزی سے ترقی ہوئی معیشت کا دارومدار اس کے فوسل فیولز پر انحصار کے باعث ہے۔ جو کہ ملک کے زیادہ تر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث ہے۔

Chart showing CO2 emissions by fuel type in India

موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر گیسوں کے صفر اخراج کا ہدف، جہاں دنیا کا کوئی ملک ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کی مجموعی مقدار میں اضافہ نہیں کر رہا، 2050 تک درجہ حرارت میں 1.5 سینٹی گریڈ اضافے تک محدود کرنے کے لیے کم از کم ضرورت ہے۔

اور اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے دنیا کے 130 ممالک نے عوامی سطح پر وعدہ کیا ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سنہ 2030 تک اپنی 'فوسل فیول' یعنی کوئلہ، تیل وغیرہ کے استعمال سے حاصل ہونے والی توانائی میں کم لا کر دیگر ذرائع سے اپنی توانائی کی صلاحیت کو پانچ سو گیگاواٹس تک بڑھائے گا۔

Coal supplies power to around 70% of India's electric grid

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ ایک مشکل ہدف ہے کیونکہ انڈیا کی اس وقت دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کی صلاحیت 100 گیگا واٹس ہے اور اس نے گذشتہ برس اسے اگلے سال تک 175 گیگا واٹس تک لے جانے کا حدف مقرر کیا تھا۔

اسی طرح سنہ 2015 میں انڈیا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2030 تک اپنی پیدا کی جانے والی بجلی کا 40 فیصد بنا فوسل فیول یعنی تیل اور کوئلہ کے استعمال کے بغیر حاصل کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے

Chart on India's renewable energy target and what's achieved so far

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ ہدف اب بڑھا کر 50 فیصد کر دیا ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق سنپ 2019 میں انڈیا 23 فیصد بجلی دیگر ذرائع سے حاصل کر رہا تھا۔

کیٹ سے منسلک سینٹی بکسٹر کا کہنا ہے کہ انڈیا جیسے ترقی پذیر ممالک کو اپنی معیشت کو کاربن سے پاک کرنے اور پیرس معاہدے تک تحت درجہ حرارت میں 1.5 سیٹی گریڈ کے اصافے تک محدود رکھنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔

مس بکسٹر کہتی ہے کہ 'انڈیا کا کاربن سے پاک ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کے ایسے اہداف ہیں جو یہ نشاندہی کر سکیں کہ اسے کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے کہاں مدد درکار ہے یا درحقیقت اسے کتنی مدد درکار ہے۔'

کیا انڈیا کے جنگلات پھیل رہے ہیں؟

انڈیا نے کئی مرتبہ اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے ایک تہائی حصے میں جنگلات اگانا چاہتا ہے۔ لیکن اس نے اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے اور اس میں کام کی رفتار بھی انتہائی سست رہی ہے۔

البتہ جنوبی انڈیا کے کچھ علاقوں میں شجر کاری کے کچھ اقدامات اٹھائے گئے ہیں جبکہ انڈیا کا شمال مشرقی حصہ حال ہی میں جنگلات سے محروم ہوا ہے۔

جنگلات میں اصافہ کاربن سینک کے طور پر کام کرتا ہے یعنی جنگلات میں اضافے سے کاربن کے اخراج کے اثرات کو واضح حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا 2030 تک اتنے درخت لگانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ماحول سے 2.5 سے 3 بلین ٹن اضافی کاربن ڈائی اکسائڈ کو جذب کر سکیں۔

Satellite image showing India's green cover

گلوبل فورسٹ واچ تنظیم جو یونیورسٹی آف میری لینڈ، گوگل، امریکی جیولوجیکل سروے اور ناسا کے اشتراک سے کام کرتی ہے کے ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں سنہ 2001 سے 2020 تک 18 فیصد جنگلات کی کمی ہوئی ہے۔

لیکن انڈیا کی حکومت کے اپنے سروے کے اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2001 سے 2019 کے درمیان ملک میں 5.2 فیصد جنگلات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایسا اس لیے ہے کہ گلوبل فارسٹ واچ کی رپورٹ میں صرف وہ پودے اور درخت شامل ہیں جو پانچ میٹر سے زیادہ اونچے ہیں جبکہ انڈیا کے سرکاری اعداد و شمار میں ایک خاص رقبے میں درختوں کی تعداد شامل ہے۔

اس تحریر کے لیے اضافی تحقیق ڈیوڈ براؤن نے کی ہے۔