انڈیا میں دلت خواتین کی جہدوجہد کی ایک کہانی

،تصویر کا ذریعہManjula Pradeep
- مصنف, دویا آریہ
- عہدہ, بی بی سی نیوز دلی
’ان سے ملنے کے بعد ہی مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس انھیں مارنے کے لیے پستول تو ہے مگر اس میں کوئی گولیاں نہیں ہیں۔‘
یہ الفاظ 28 سالہ دلت سماجی کارکن بوونہ نارکر اپنی رہبر 52 سالہ منجولا پردیپ کے بارے میں استعمال کرتی ہیں۔ بوونہ ان درجنوں خواتین میں سے ایک ہیں جنھیں منجولا رپپ کی شکار خواتین، خاص طور پر دلت برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین، کو انصاف حاصل کرنے میں مدد کرنا سِکھا رہی ہیں۔
دلت (جنھیں ماضی میں اچھوت بھی کہا جاتا تھا) انڈیا میں ہندو ذات پات کے نظام میں پست ترین درجے پر ہوتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ برادری پسماندہ رہی ہے۔ ان کے تحفظ کے لیے قوانین تو ہیں مگر آج بھی وہ وسیع پیمانہ پر امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور دلت خواتین جو کہ انڈیا میں خواتین کا تقریباً 16 فیصد ہیں، ان کے لیے اس کا مطلب جنسی تشدد بھی ہے۔ اکثر اونچی ذات کے ہندو اس برادری کو سزا دینے یا بےعزت کرنے کے لیے ریپ کا استعمال کرتے ہیں۔
30 سال سے دلت خواتین کے حقوق کے لیے لڑ رہی منجولا پردیپ نے اس سال نیشنل کونسل آف ویمن لیڈرز کی بنیاد رکھی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ میرا ایک پرانا خواب تھا کہ میں دلت برادری میں سے خواتین لیڈر بناؤں۔ جب میں کووڈ کی وبا کے دوران جنسی تشدد کے واقعات کا اندراج کر رہی تھی تو اس وقت مجھے لگا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جائے جو خواتین کو عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد کرے۔‘
بوونہ نارکر مغربی انڈیا کی ریاست گجرات میں ایک چھوٹے سے قصبے کی رہائشی ہیں جہاں غریب دلت خواتین کو نوکریوں اور تعلیم تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘خواتین غصے میں ہیں اور انھیں انصاف چاہیے جب ان کے ساتھ جنسی تشدد کیا جاتا ہے مگر ہمارے لیے اپنے خاندانوں اور برادری میں ہی آواز اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہمیں اپنے حقوق کا ہی نہیں پتا اور نہ ہی ان قوانین کا پتا ہے جو ہمیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب جنوری 2020 میں انھوں نے منجولا پردیپ کو ایک تقریب میں تقریر کرتے سنا تو ان کی زندگی بدل گئی۔ انھیں ایسا لگا کہ انصاف تک رسائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منجولا پرجوش انداز میں بول رہی تھیں اور ان کے پاس نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اہم آئیڈیاز تھے جن میں سے ایک دیہی علاقوں کی خواتین کو گبنیاد قانونی سمجھ بوچھ دینا شامل تھا۔
منجولا کہتی ہیں کہ ’میں انھیں ننگے پاؤں والی وکیل کہتی ہوں اور یہ ریپ کی شکار خواتین کو انصاف دلانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔‘
’پورا عدالتی نظام دلت خواتین کے خلاف کام کرتا ہے۔ عدالتوں میں بہت زیادہ وکٹم شیمنگ یعنی متاثرہ شخص کو ہی شرم دلانے کی عادت ہے۔ سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ ‘اونچی ذات کے مرد اس عورت کو ریپ کیوں کریں گے؟ یہ تو اچھوت ہے۔ اس نے ضرور اسے جنسی تعلق کے لیے بلایا ہوگا۔‘
اب اس نظام میں مقابلہ کرنے کی معلومات سے لیس نارکر ایسا محسوس کرتی ہیں انھیں طاقت مل گئی ہے۔ انھوں نے ایک مقامی دلت حقوق کی تنظیم میں شرکت اختیار کر لی ہے اور ان کے علاقے میں اگر وہ کسی ریپ کیس کا سنتی ہیں تو وہاں پہنچنے والی وہ پہلی خاتون ہوتی ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دلت خواتین کے رپورٹ ہونے والے ریپ کیسز کی تعداد میں 2014 سے 2019 کے درمیان 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مگر محققین کا کہنا ہے کہ دلت خواتین کے زیادہ تر ریپ کیس رپورٹ نہیں ہوتے۔ عام مسائل میں فیملی سے سپورٹ نہ ملنا اور پولیس کی جانب سے اونچی ذات کے مردوں کے خلاف شکایات کا اندراج کرنا عام رکاوٹیں ہیں۔
اسی لیے اپنی تربیت میں منجولا ریپ کی شکار خواتین کی ہمت بڑھانے پر بہت توجہ دیتی ہیں اور انھیں ایک مفصل پولیس رپورٹ کی اہمیت سمجھاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ سوچ انھیں اپنے تجربے سے حاصل ہوئی ہے جب وہ ایک بچی ہو کر جنسی تشدد کا شکار تھیں اور انھیں احساس تنہائی محسوس ہوا تھا۔ وہ صرف چار سال کی تھیں جب ان کے محلے میں چار مردوں نے انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے اس دن پیلے رنگ کا فراک پہننا ہوا تھا۔ مجھے آج بھی ان کے چہرے یاد ہیں اور یہ بھی یاد ہے کہ انھوں نے کیا تھا۔ اس ریپ نے مجھے بدل کر رکھ دیا تھا اور میں ایک خاموش طبعہ اور خوفزدہ بچی بن گئی۔ میں اجنبیوں سے خوف کھاتی تھی اور جب بھی کوئی میرے گھر آتا تو میں چھپ جاتی تھی۔‘
انھوں نے اس حملے کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اسے اپنے والدین کے بھی شیئر نہیں کر سکیں۔ ان کی والدہ خود ایک نوجوان تھیں، جن کی 14 سال کی عمر میں ایک ایسے شخص سے شادی کر دی گئی تھی جو ان سے 17 سال بڑا تھا۔ اور ان کے والد اس لیے ناخود تھے کیونکہ وہ ایک بیٹا چاہتے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے والد میری ماں کو مارتے تھے، میرا مذاق اڑاتے تھے اور مجھے بدصورت کہتے تھے۔ انھوں نے مجھے ایسا محسوس کروایا کہ وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے اور مجھے نہیں چاہتے۔‘
ان کے والد کا اب انتقال ہو چکا ہے۔ وہ اتر پردیش میں پیدا ہوئے تھے اور گجرات کام کی غرض سے آئے تھے۔ انھوں نے اس نئے شہر میں اپنی دلت شناخت چھپانے کے لیے اپنا فیملی نام بدل لیا تھا۔ انھوں نے اپنی بیوی اور بیٹی کو اپنا پہلا نام پردیپ بطور ان کے فیملی نام دیا۔
مگر پھر بھی منجولا کہتی ہیں کہ ان کی ذات اور شناخت چھپی نہیں رہی۔ وڈوڈرا جیسے بڑے شہر میں بھی انھیں امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہManjula Pradeep
وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نو سال کی تھی تو میری ایک استاد نے بچوں کو صفائی پر درجہ بندی کرنے کے لیے کہا اور اگرچہ میں کلاس میں صاف ترین میں سے ایک تھی مجھی آخری درجہ دیا گیا کیونکہ دلتوں کو غیر پاک سمجھا جاتا ہے۔‘
پڑھائی کے بعد انھوں نے سوچا کہ وہ سماجی کارکن بنیں اور قانون پڑھیں۔
دیہی علاقوں میں جانے کی وجہ سے ان میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ دلتوں کے لیے آواز اٹھائیں۔ 1992 میں وہ نوسارجن میں شامل ہونے والی پہلی خاتون بنیں جو کہ دلت حقوق کی ایک تنظیم ہے۔ ایک دہائی کے بعد انھوں نے الیکشن جیتا اور وہ اس کی سربراہ بن گئیں۔
وہ اب ریپ کی شکار خواتین کو ایک اہم موضوع بنا سکی ہیں۔ اب تک وہ 50 سے زیادہ ریپ کی شکار خواتین کی مدد کر چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایک اور منجولا نہیں چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ ان خواتین کی اپنی شناخت برقرار رہے۔‘











