ریپ ہوا پھر لاش جلائی گئی: انصاف کے لیے چار روز سے احتجاج جاری

انڈیا
،تصویر کا کیپشنریپ کے خلاف خواتین سڑکوں پر
    • مصنف, سلمان راوی
    • عہدہ, بی بی سی نئی دلی

انڈیا کے دارالحکومت نئی دلی میں ایک نو سالہ بچی کے مبینہ گینگ ریپ، قتل اور زبردستی لاش کو جلائے جانے کی واردات کے خلاف گزشتہ چار دن سے شدید احتجاج جاری ہے۔

اس ہولناک واردات کا نشانہ بننے والی ہندو لڑکی کے والدین نے ایک ہندو سادھو اور تین دیگر افراد پر اُس وقت حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جب وہ بچی گھر سے پانی لینے کے لیے نکلی تھی۔

لڑکی کی ماں نے کہا ہے کہ جب انھوں نے اپنی بچی کی لاش کو زبردستی جلانے پر احتجاج کیا تو انھیں دھمکیاں دی گئی اور شمشان گھاٹ کا گیٹ بند کر دیا گیا۔

انتباہ: کچھ لوگوں کے لیے یہ خبر ناگوار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بچی ہندوؤں کے پسماندہ طبقے دلت برادری سے تعلق رکھتی تھی جنہیں ہندو معاشرے میں کچھ عرصے قبل تک اچھوت تصور کیا جاتا تھا۔ اس بچی کے والدین مسلمانوں کے ایک صوفی بزرگ کے مزار کے باہر بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں۔ دلی شہر کے ننگل علاقے میں یہ مزار ایک شمشان گھات کے بالکل سامنے واقع ہے۔

یہ بچی اپنے والدین کی واحد اولاد تھی۔

لڑکی کی ماں نے مزید بتایا کہ اتوار کی شام کو انھوں نے اپنی بچی کو شمشان گھات سے پانی لانے کے لیے بھیجا جو ان کی جھونپڑی سے صرف چند سو میٹر دور ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد جب بچی گھر واپس نہ آئی تو میں اسے دیکھنے کے لیے نکلی۔ شمشان گھاٹ پر میں نے اس زمین پر پڑا پایا۔ اس کے ہونٹ نیلے ہو رہے تھے، اس کی ناک سے خون نکل رہا تھا، اس کے کلائیوں اور ہاتھ پر نیل پڑے ہوئے تھے اور اس کے کپڑے گیلے ہو رہے تھے۔'

احتجاج انڈیا

،تصویر کا ذریعہSOPA IMAGE

،تصویر کا کیپشننریندر مودی نے اب تک اس واردات کی مذمت نہیں کی ہے

انھوں نے بتایا کہ شمشان گھٹ پر ایک ہندو سادھو اور اس کے تین چیلوں نے انھیں پولیس نہ بلانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ پولیس والے لڑکی کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے جسم کے اعضاء نکال کر بیچ دیں گے۔

بچی کی ماں نے الزام لگایا کہ ان چاروں افراد نے شمشان گھاٹ کا گیٹ بند کر دیا تاکہ وہ وہاں سے نہ نکل سکیں، انھیں ڈرایا دھمکایا اور پیسے کا لالچ بھی دیا۔

بچی کے والد نے کہا کہ جب وہ ڈیڑھ سو کے قریب گاؤں والوں کے ہمراہ شمشان گھاٹ پہنچے تو ان کی بچی کی لاش تقریباً جل چکی تھی۔

گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے پولیس کو بلایا اور جلتی ہوئی چتا پر پانی ڈالا تاکہ بچی کی لاش جلنے سے بچائی جا سکے لیکن صرف اس کی ٹانگیں ہی بچ پائیں جس سے پوسٹ مارٹم میں ریپ کی تصدیق کیا جانا ممکن نہیں رہا۔

پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ والدین کے بیانات پر ملزمان کے خلاف گینگ ریپ، قتل اور زبردستی کریا کرم کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ایک معصوم بچی کے ساتھ اس دردناک واردات نے گزشتہ برس ایک اور دلت کم سن بچی کے ساتھ چار اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کے گینگ ریپ اور قتل کی واردات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہ واقع اتر پردیش کی ریاست کے علاقے ہتھار میں پیش آیا تھا۔

اس واقع کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی تھی کیونکہ پولیس نے والدین کے احتجاج کے باوجود بچی کی لاش کو زبردستی جلا دیا تھا۔

ہندو مذہب کے ذات پات کے عقائد میں دلتوں کو سب سے کم تر تصور کیا جاتا ہے اور وہ انڈیا میں سب سے زیادہ غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں۔

ملک کی 20 کروڑ دلت آبادی کی اکثریت انتہائی غریب ہے اور ان کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہونے کے باوجود انھیں روز مرہ زندگی میں اونچی ذات کے ہندوؤں اور حکام کی طرف سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دلت خواتین کو غربت، ذات پات کی تقسیم اور عورت کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ننگال کے شمشان گھاٹ کے باہر بدھ کو سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اس واردات کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے اور وہ ملزمان کو موت کی سزائیں دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین کچھ پولیس اہلکاروں کو معلطل کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے جنہوں نے مبینہ طور پر مقتولہ کے گھر والوں کو ڈرایا اور دھمکایا تھا۔

دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے بچی کے گھر جا کر اس کے والدین سے تعزیت کی اور انھیں ہر ممکن مدد اور انصاف کا یقین دلایا۔

گینگ ریپ اور قتل کی اس واردات کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے اب تک اس بارے میں مذمتی بیان جاری نہ کرنے پر ان کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کے پتلے کو آگ لگائی۔

گزشتہ چند روز سے دلت برداری کے رہنما احتجاج میں شرکت کر رہے ہیں اور سرگرم کارکن اور عام شہری سوشل میڈیا پر اپنے غم و غصے کا مسلسل اظہار کر رہے ہیں۔

بہت سے لوگ اس واردات کو ذات پات سے جڑے جرائم میں شمار کر رہے ہیں کیونکہ چار ملزمان میں سے ایک ہندو سادھو ذات کا برھمن ہے۔

دلی میں سنہ 2012 میں ایک نوجوان لڑکی کو بس کے اندر گینگ ریپ کا نشانہ بنائے جانے کی واردات کے بعد سے ریپ اور جنسی زیادتیوں کے جرائم پر ملک بھی میں تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

سنہ 2012 میں دن دھاڑے ایک مسافر بس میں ہونے والی اس واردات کی خبریں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی تھیں اور پورے ملک میں اس پر شدید عوامی رد عمل سامنے آیا تھا۔ اس عوامی رد عمل کے نتیجے میں ریپ کے قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں لیکن خواتین کے خلاف جرائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

ریپ کے جرائم کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس ظالمانہ جرم کا نشانہ بننے والی ہر چار خواتین میں ایک کم عمر بچی ہوتی ہے۔ ریپ کی زیادہ تر وارداتوں میں جرم کا شکار ہونے والی عورت مجرمان کو جانتی ہے۔