میر عثمان علی خان: حیدر آباد کے نظام جو ’دنیا کے امیر ترین‘ شخص ہونے کے ساتھ ساتھ کافی کنجوس بھی مشہور تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی دلی
ایک زمانے میں برطانوی حکومت کے وفادار آصف جاہ مظفر الملک سر میر عثمان علی خان نے سنہ 1911 میں حیدرآباد کی شاہی ریاست کا تخت سنبھالا تھا۔
اپنے دور میں اُن کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ ٹائم میگزین نے 22 فروری 1937 کے اپنے شمارے میں سرورق پر اُن کی تصویر چھاپتے ہوئے انھیں ’دنیا کا امیر ترین شخص‘ کہا تھا۔
ریاست حیدرآباد کا کل رقبہ 80 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ تھا جو کہ انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے کل رقبے سے زیادہ ہے۔ امیر ہونے کے علاوہ نظام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت ’کنجوس انسان‘ بھی تھے۔
سوانح نگار فریڈرک برکن ہیڈ لکھتے ہیں ’نظام کا قد چھوٹا تھا اور وہ جھک کر بھی چلتے تھے۔ اُن کے کندھے بھی چھوٹے تھے اور وہ چلنے کے لیے بھورے رنگ کی مڑی ہوئی چھڑی استعمال کرتے تھے۔ ان کی آنکھیں اجنبیوں کو تیکھے انداز میں دیکھا کرتی تھیں۔ وہ ایک 35 سال پرانی فیض کیپ یا ٹوپی پہنا کرتے تھے جس میں خشکی کی ایک پوری پرت جمع ہو جاتی تھی۔‘
’اُن کی شیروانی خاکستری رنگ کی ہوتی تھی جس کے گلے کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ وہ شیروانی کے نیچے ڈھیلا سفید پاجامہ پہنا کرتے تھے۔ ان کے پاؤں پر پیلے رنگ کے موزے ہوتے جن کے کنارے ڈھیلے ہو چکے تھے۔ وہ اکثر اپنا پاجامہ اوپر اٹھا لیتے تھے جس سے ان کی ٹانگیں نظر آتی تھیں۔ ایک ناگوار شخصیت ہونے کے باوجود وہ لوگوں پر حاوی رہتے تھے۔ بعض اوقات وہ غصے یا جوش میں اتنے زور سے چیختے کہ ان کی آواز پچاس گز دور تک سنائی دیتی تھی۔'

،تصویر کا ذریعہTULIKA BOOKS
سستی سگریٹ پینے کے شوقین
دیوان داس نے بھی اپنی مشہور کتاب ’مہاراجہ‘ میں لکھا ہے کہ ’جب بھی وہ کسی کو اپنے یہاں مدعو کرتے تھے، اسے بہت کم کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ چائے کے ساتھ بھی صرف دو بسکٹ کھانے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ ایک ان کے لیے اور دوسرا مہمان کے لیے۔‘
’اگر مہمانوں کی تعداد زیادہ ہوتی تو اسی تناسب سے بسکٹوں کی تعداد بڑھا دی جاتی تھی۔ جب بھی نظام کو ان کے جاننے والے امریکی، برطانوی یا ترک سگریٹ پیش کرتے تھے تو وہ سگریٹ کے پیکٹ سے ایک کے بجائے چار یا پانچ سگریٹ نکال کر اپنے سگریٹ کیس میں ڈال دیا کرتے تھے۔ ان کی اپنی سگریٹ سستی ’چارمینار‘ برانڈ کی ہوا کرتی تھی، جس کے 10 سگریٹ کا پیک ان دنوں 12 پیسے میں آتا تھا۔‘
ہیرے کا بطور پیپر ویٹ استعمال
حیدرآباد کے نظام کے پاس دنیا کا بڑا 282 قیراط کا ہیرا تھا جسے وہ دنیا کی بُری نظر سے بچانے کے لیے صابن کے برتن میں رکھتے تھے اور بعض اوقات پیپر ویٹ کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈومینک لیپیرے اور لیری کولنس نے اپنی کتاب ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ میں ایک دلچسپ قصہ لکھا ہے کہ ’حیدرآباد میں یہ ایک رسم تھی کہ سال میں ایک بار شاہی ریاست کے سردار نظام کو سونے کا سکہ پیش کرتے تھے جسے وہ صرف چھو کر واپس دے دیا کرتے تھے۔‘
’لیکن آخری نظام ان سکوں کو واپس کرنے کے بجائے اپنے تخت پر رکھے ہوئے کاغذ کے تھیلے میں ڈالتا تھا۔ ایک دفعہ ایک سکہ زمین پر گر گیا، نظام اسے ڈھونڈنے کے لیے ہاتھ پاؤں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور لڑھکتے سکے کے پیچھے اس وقت تک بھاگتے رہے جب تک وہ ہاتھ میں نہیں آ گیا۔‘
نظام کے بیڈروم میں گندگی
نظام نے سنہ 1946 میں سر والٹر مونکٹن کو اپنے یہاں ملازمت پر رکھا تھا۔
مونکٹن کا خیال تھا کہ نظام کا آزادی کے حصول کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ایک تو اُن کی پوری ریاست زمین سے گھری ہوئی تھی، اُن کے پاس سمندر تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور دوسرا وہ مسلمان تھے جن کی اکثریت رعایا ہندو آبادی پر مشتمل تھی۔

،تصویر کا ذریعہHIND POCKET BOOKS
فریڈرک برکن ہیڈ مونکٹن کی سوانح عمری ’دی لائف آف وسکاونٹ مونکٹن آف برینچلے‘ میں لکھتے ہیں ’نظام نے ایک ناقابل عمل زندگی گزاری۔ وہ کبھی حیدرآباد سے باہر نہیں آئے اور نہ ہی وہ اپنے کسی وزیر سے ملے۔ اگرچہ وہ کئی بڑی عمارتوں کے مالک تھے مگر انھوں نے مونکٹن کو کام کرنے کے لیے ایک گندہ اور چھوٹا سا کمرہ دیا جہاں دو پرانی کرسیاں اور میزیں پڑی تھیں۔‘
’اسی کمرے میں ایک چھوٹی سی الماری تھی جس کے اوپر پرانے بکس اور دھول سے بھری دستاویزات رکھی ہوئی تھیں۔ یہی نہیں مکڑی کے جالے اس کمرے کی چھت سے لٹکے ہوئے تھے۔ نظام کا نجی بیڈروم بھی اتنا ہی گندا تھا بوتلوں، سگریٹ کے ڈبوں اور کچرے سے بھرا ہوا، جسے سال میں صرف ایک بار نظام کی سالگرہ پر ہی صاف کیا جاتا تھا۔‘
بھارت کا حصہ نہ بننے کا اعلان
شروع میں انگریزوں نے نظام کے ذہن میں یہ غلط فہمی پیدا کی کہ ان (انگریزوں) کے جانے کے بعد وہ (نظام) اپنی آزادی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ لیکن جب دوسری عالمی جنگ میں کانگریس اور مسلم لیگ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سنہ 1942 میں برطانوی ایم پی سٹیفورڈ کرپس کو انڈیا بھیجا گیا تو وائسرائے لن لنلیتھگو کے دباؤ نے انھیں اپنی سوچ بدلنے پر مجبور کر دیا۔
کرپس نے واضح کیا کہ نظام کی آزادی کا کوئی دعویٰ انڈیا کے راجاؤں اور سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ اس وضاحت نے نظام کو مشکل میں ڈال دیا کیونکہ وہ سنہ 1914 سے مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں سے برطانیہ کی لڑائی میں ان کی حمایت کر رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود نظام نے تین جون 1947 کو ایک حکم نامہ جاری کیا جس سے انڈیا کی آزادی کے بعد ایک آزاد اور خودمختار حیدرآباد ریاست کی اپنی منشا ظاہر کر دی۔
اتنا ہی نہیں انھوں نے 12 جون کو وائسرائے کو ایک ٹیلی گرام بھیجا اور واضح اعلان کیا کہ حیدرآباد کسی بھی حالت میں آزاد ہندوستان کا حصہ نہیں بنے گا۔ 11 جولائی کو انھوں نے ایک وفد دہلی بھیجا جس میں ان کے وزیر اعظم میر لائق علی، نواب آف چھتاری محمد احمد سعید خان، ان کے وزیر داخلہ علی یاور جنگ، سر والٹر مونکٹن اور حیدرآباد کی ہندو اور مسلم برادریوں کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا۔
جان زبرریکیی اپنی کتاب ’دی لاسٹ نظام‘ میں لکھتے ہیں کہ ’انھوں نے نظام کی رضامندی سے تجویز پیش کی کہ انڈیا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جانا چاہیے جس کے تحت امورِ خارجہ، دفاع اور مواصلات کی ذمہ داری انڈین حکومت کے پاس ہونی چاہیے۔ وفد نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن، سر کونراڈ کور فیلڈ اور وی پی مینن سے ملاقات کی۔ لیکن بات چیت اس وقت ٹھپ ہو گئی جب انڈیا نے حیدرآباد کو بھارت میں ضم کرنے کی شرط لگا دی۔‘
قاسم رضوی نے نظام کے اتحادیوں کا محاصرہ کروایا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تقریبا ڈھائی ماہ بعد نظام نے انڈیا کے ساتھ معاہدے کو اپنی زبانی منظوری دے دی اور عندیہ دیا کہ وہ اگلے دن اس پر دستخط کریں گے۔ لیکن 28 اکتوبر کی صبح نظام کے قریبی ساتھی قاسم رضوی کے حامیوں نے مانکٹن، نواب چھتاری اور سر سلطان احمد کے گھروں کو گھیر کر دھمکی دی کہ اگر نظام نے معاہدہ منسوخ نہیں کیا تو اُن کے گھر جلا دیے جائیں گے۔
بعد میں نظام کے وزیر اعظم میر لائق علی نے اپنی کتاب ’دی ٹریجڈی آف حیدرآباد‘ میں لکھا ’نظام کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اب ان کی نہیں چلے گی۔ انھیں مقبول رہنماؤں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا پڑے گا۔ حیدرآباد کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے۔‘
وسنت کمار باوا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’معاہدے پر مذاکرات کے آخری مراحل میں مانکٹن نے حیدرآباد کے ملٹری کمانڈر جنرل ایل ایدروس سے پوچھا کہ اگر انڈیا حیدرآباد پر حملہ کرتا ہے تو کتنے دنوں تک اس کی فوج اس کا مقابلہ کر سکے گی۔ ایدروس کا جواب چار دن سے زیادہ نہیں تھا، اس پر نظام نے درمیان میں ٹوکتے ہوئے کہا چار نہیں صرف دو دن۔‘
ماؤنٹ بیٹن نے نظام سے ملنے کے لیے اپنا نمائندہ بھیجا
مارچ 1948 میں جب ماؤنٹ بیٹن کو معلوم ہوا کہ انڈیا حیدرآباد پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جسے اس نے ’آپریشن پولو‘ کا نام دیا ہے، تو انھوں نے انڈیا اور حیدرآباد کے درمیان تصفیے کے لیے مذاکرات کی کوششیں تیز کر دیں۔ جب اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تو ماؤنٹ بیٹن نے نظام کو مذاکرات کے لیے دہلی بلایا۔ نظام نے آنے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے ماؤنٹ بیٹن کو حیدرآباد آنے کو کہا۔
ماؤنٹ بیٹن نے اپنے پریس اتاشی ایلن کیمبل جانسن کو وہاں بھیجا۔ بعد میں جانسن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’نظام کے بات کرنے کے انداز کی وجہ سے یہ گفتگو مشکل ہو گئی۔ وہ ایک پرانے زمانے کے حکمران تھے جو سخت مزاج اور تنگ نظریات کے مالک تھے۔ اس کے بعد وہ رضاکار رہنما قاصم رضوی سے ملنے گئے جنھیں انہوں نے ایک سخت انسان پایا۔‘

،تصویر کا ذریعہPAN MACMILLAN AUSTRALIA
بعد میں کے ایم منشی نے اپنی کتاب ’دی اینڈ آف این ایرا‘ یعنی ’ایک دور کا خاتمہ‘ میں بھی لکھا کہ ’رضوی اکثر اپنی تقریروں میں انڈیا پر لعنت بھیجتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ کاغذ پر قلم سے لکھی عبارت سے بہتر ہے کہ ہاتھ میں تلوار لے کر مرا جائے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ رہیں گے تو خلیج بنگال کی لہریں نظام کے قدم چومیں گی۔ ہم محمود غزنوی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ہم نے فیصلہ کر لیا تو ہم لال قلعہ پر اسفجاہی پرچم لہرائیں گے۔
اپنی حمایت میں اضافے کے لیے نظام نے مئی کے شروع میں اچانک کمیونسٹ پارٹی پر سے پابندی اٹھا لی۔ اس فیصلے نے حکومت ہند کے حلقوں میں کچھ تشویش پیدا کر دی۔ ماؤنٹ بیٹن کی انڈیا سے روانگی سے ایک ہفتہ قبل حکومت ہند نے نظام کو ایک حتمی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کو ضم کرنے کا فیصلہ رائے شماری کے بعد کیا جانا چاہیے۔ نظام نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
پاکستان کی انڈیا پر حملہ کی افواہیں

،تصویر کا ذریعہTULIKA BOOKS
وی پی مینن نے اپنی کتاب ’دی سٹوری آف دی انٹیگریشن آف انڈین سٹیٹس‘ میں لکھا کہ ’اس دوران حیدرآباد میں رضاکاروں نے ہندوؤں پر ظلم کرنا شروع کر دیے اور انھوں نے اُن مسلمان پناہ گزینوں کو آباد کرنے کی مہم چلائی جو تقسیم ہند کے بعد در بدر ہو گئے تھے، تاکہ انھیں اکثریت میں لایا جا سکے۔ یہ افواہیں پھیلائی جانے لگیں کہ لاکھوں مسلمان نظام کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور اگر انڈیا نے حیدرآباد پر حملہ کیا تو پاکستان اس کے خلاف جنگ چھیڑ دے گا۔
اس کے بعد واقعات تیزی سے تبدیل ہوئے۔ اگست کے آخر تک انڈین فوج نے حیدرآباد کو تقریباً گھیر لیا تھا اور شہر میں داخل ہونے کے احکامات کا انتظار کرنے لگی۔ 21 اگست کو حیدرآباد کے خارجہ اُمور کے نمائندے ظہیر احمد نے اقوام متحدہ سے اپیل کی اور سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ اس معاملے میں ثالثی کرے۔ اس معاملے پر غور کرنے کے لیے 16 ستمبر کا انتخاب کیا گیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
نظام کی فوج انڈین فوجیوں کا مقابلہ نہ کر سکی
اگرچہ لیفٹیننٹ جنرل راجندر سنگھ کی قیادت میں انڈین فوجیوں کے حملے کا امکان کئی ہفتوں سے ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن حیدرآباد کے 25 ہزار نفری پر مشتمل فوج اس حملے کے لیے خود کو تیار نہیں کر سکی۔ اس کے نقشے پرانے ہو چکے تھے اور منگوائے گئے ہتھیار فوجیوں تک نہیں پہنچ سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جان زبرریکیی لکھتے ہیں ’ہزاروں رضاکاروں نے انڈین ٹینکوں پر پتھروں اور نیزوں سے حملہ کیا۔ کراچی میں مظاہرین انڈیا پر حملے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ لیکن اس سب سے دو دن پہلے بانی پاکستان محمد علی جناح کی وفات ہو گئی تھی۔ لہٰذا پاکستان کی جانب سے ایسی کسی مداخلت کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔‘
لندن کے ٹائم اخبار میں ایک اداریہ شائع ہوا جس میں انڈیا کی جانب سے اپنے پڑوسی کے خلاف طاقت کے استعمال پر تنقید کی گئی۔ 17 ستمبر 1948 کو نظام کے وزیر اعظم میر لائق علی نے ایک ریڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ ’آج صبح کابینہ نے محسوس کیا کہ اپنے سے بڑی فوج کے خلاف انسانی خون بہانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حیدرآباد کے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ عوام بہت بہادری سے حالات کی تبدیلی کو قبول کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTULIKA BOOKS
سڈنی کاٹن کی سوانح عمر ی لکھنے والے عمر خالدی اپنی کتاب ’میمورز آف سڈنی کاٹن‘ میں لکھتے ہیں ’اس وقت نظام مصر فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہے تھے جہاں شہنشاہ فاروق کے ایک محل میں ان کے قیام کے انتظامات کیے گئے تھے۔‘
’بدلے میں نظام نے انھیں حیدرآباد سے لے جائے گئے 10 کروڑ پاؤنڈز میں سے 25 فیصد دینا تھا۔ نظام جس وقت اپنی آخری نماز پڑھ رہے تھے اسی وقت ان کے محل پر انڈین فوجیوں نے قبضہ کر لیا اور وہ ہوائی اڈے تک نہ پہنچ سکے جہاں سو روپے کے نوٹوں کے بنڈلوں سے بھرا ہوا ایک جہاز پرواز بھرنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔‘
انڈیا کے ساتھ انضمام کی منظوری

،تصویر کا ذریعہTULIKA BOOKS
حیدرآباد کے سپاہیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد نظام کے سب سے بڑے معاون رضوی اور لائق احمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں لائق احمد برقعہ پہن کر حراست سے فرار ہو گئے اور ممبئی سے کراچی جانے والی فلائٹ لینے میں کامیاب ہو گئے۔
لیکن نظام اور ان کے خاندان کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔ نظام عثمان علی خان کو ان کے محل میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ نظام نے ایک اور حکم نامہ جاری کیا کہ ’اب سے آئین ہند حیدرآباد کا بھی آئین ہو گا۔‘
اس طرح حیدرآباد 562ویں شاہی ریاست کے طور پر انڈیا میں ضم ہو گیا۔ 25 جنوری 1950 کو نظام نے حکومت ہند کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے مطابق حکومت ہند نے انھیں ہر سال 42 لاکھ 85 ہزار 714 روپے پریویپرس دینے کا اعلان کیا۔
نظام نے یکم نومبر 1956 تک حیدرآباد کی ’ریاست کے سربراہ‘ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ریاستوں کی تنظیم نو بل کے تحت ان کی شاہی ریاست کو تین حصوں مہاراشٹر، کرناٹک اور نئی تشکیل شدہ ریاست آندھرا پردیش میں تقسیم کیا گیا۔ نظام نے 24 فروری 1967 کو آخری سانس لی۔









