نظام دکن کا ہیرے جڑا سونے کا لنچ باکس چوری

انڈیا کے جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس سابق حکمران نظام دکن کے ہیرا جڑے طلائی ٹفن کریئر کی چوری کی جانچ کر رہی ہے۔
چوروں نے اس کے علاوہ یاقوت اور سونے کی بنی ایک چائے کی پیالی، طشتری اور چمچہ بھی چوری کر لیا ہے۔
تین کلو وزنی ان اشیا کی قیمت تقریباً 70 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
یہ اشیا آخری نظام میر قاسم علی خان کی ملکیت تھیں۔ ایک زمانے میں وہ دنیا کے امیر ترین شخص تھے۔
اس چوری کا پیر کی صبح کو پتہ چلا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ چوری اس سے پہلے والی رات کو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک تلوار ایک اور میوزیم سے دس سال قبل چوری ہو گئی تھی۔
پولیس نے بی بی سی تیلگو کو بتایا کہ انھیں دو لوگوں پر چوری کا شبہ ہے۔
انڈیا کے معروف اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق پولیس نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ چوروں نے سی سی ٹی وی کیمرے سے چھیڑ چھاڑ کی تاکہ ان کی چوری کی کوئی ریکارڈنگ نہ ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جس شیشے کی الماری میں یہ چیزیں رکھی ہوئی تھیں ان کے شیشوں کو سکریو کھول کر نکالا گیا ہے۔
یہ چیزیں نظام میوزیم میں تھیں جس کا افتتاح سنہ 2000 میں کیا گیا تھا۔ اس کے نوادرات میں میر عثمان علی خان کو سنہ 1937 میں دیے گئے بیش قیمتی تحائف شامل ہیں۔
عثمان علی خان انڈیا کی سب سے بڑی ریاست حیدرآباد کے حکمران تھے۔ ان کا انتقال 1967 میں ہوا تھا۔
ان کے مشہور زمانہ خزانے میں یعقوبی یعنی سفید ہیرا بھی شامل تھا جو ایک انڈے کے برابر تھا اور اسے دنیا میں موجود پانچواں سب سے بڑا ہیرا کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ دوسرے جواہرات بھی ان کے خزانے میں شامل تھے۔











