طالبان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نمائندگی کا مطالبہ، خطاب کرنے کی خواہش کا اظہار

طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے متعلق خط لکھا ہے

طالبان نے کہا ہے کہ انھیں رواں ہفتے نیو یارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں سے خطاب کرنے کا موقع دیا جائے۔

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے پیر کو ایک خط میں یہ درخواست کی۔ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی اس درخواست پر فیصلہ کرے گی۔

طالبان نے دوحہ میں مقیم اپنے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ کے لیے افغانستان کا سفیر نامزد کیا ہے۔

گذشتہ ماہ افغانستان پر قبضے کے بعد نظام سنبھالنے والے طالبان کا کہنا ہے کہ معزول حکومت کے ایلچی اب ملک کے نمائندہ نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں حصہ لینے کی طالبان حکومت کی درخواست پر ایک کمیٹی غور کر رہی ہے جس کے نو ارکان میں امریکہ، چین اور روس شامل ہیں۔ تاہم آئندہ پیر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے اختتام سے قبل تک اس کمیٹی کے ارکان کی ملاقات کا امکان نہیں ہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق اس وقت تک سابق افغان حکومت کے ایلچی غلام اسحق زئی ہی اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کریں گے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

واضح رہے کہ طالبان کے گذشتہ دور اقتدار کے دوران 1996 سے 2001 کے درمیان معذول حکومت کے سفیر ہی اقوام متحدہ میں ملک کے نمائندے کی حیثیت سے برقرار رہے تھے۔

امکان ہے کہ وہ 27 ستمبر کو اجلاس کے آخری دن تقریر کریں گے۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا وفد اب افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتا۔ طالبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی ممالک اب سابق صدر اشرف غنی کو لیڈر تسلیم نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ سابق افغان صدر اشرف غنی 15 اگست کو دارالحکومت کابل پر طالبان عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد اچانک افغانستان سے چلے گئے تھے۔ انھوں نے متحدہ عرب امارات میں پناہ لے رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سہیل شاہین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنطالبان نے دوحہ میں مقیم اپنے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ کے لیے افغانستان کا سفیر نامزد کیا ہے

منگل کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں قطر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلق قائم رکھیں۔ قطر کے حکمران شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کہا کہ ان کا بائیکاٹ صرف تقسیم اور رد عمل کا باعث بنے گا جبکہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔

قطر افغانستان کے معاملے میں ایک اہم مصالحت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس نے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی جن کے نتیجے میں 2020 میں امریکہ کی زیرقیادت نیٹو افواج کے انخلا کا معاہدے ہوا تھا۔

قطر نے طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان باشندوں اورغیر ملکی شہریوں کے انخلا میں مدد دی اور حالیہ بین الافغان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کی ہے۔