افغانستان میں طالبان: کابینہ میں توسیع، ذبیح اللہ مجاہد کی پاکستان اور ایران کی افغان داخلی معاملات میں مداخلت کی تردید

طالبان، افغانستان

،تصویر کا ذریعہEPA

افغانستان میں طالبان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران جیسے ممالک افغانستان کے داخلی اُمور میں مداخلت نہیں کر رہے اور افغان حکومت ملک کی بہتری کے لیے ایسے ممالک کے مشوروں کا خیر مقدم کرتی ہے۔

منگل کو کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی طرح دوسرے ممالک بھی اُن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

’سفارتی سطح پر ایسے ادارے ہیں جو چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور اور وہ اس حق میں نہیں ہیں کہ کہ ہمارے داخلی کاموں میں مداخلت کریں یا داخلی سطح پر رکاوٹیں پیدا کریں، بلکہ یہ ممالک خیر خواہی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خیر خواہی کے مشوروں کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے چند روز قبل یہ بیان سامنے آیا تھا کہ پاکستان طالبان سے شمولیتی حکومت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

طالبان، افغانستان

،تصویر کا ذریعہReuters

خواتین کی تعلیم

ذبیح اللہ مجاہد نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کہا کہ اُنھیں جلد از جلد سکول جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزارتِ تعلیم نے مرد اساتذہ اور طلبہ کو سیکنڈری سکولوں میں دوبارہ تدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس میں خواتین اساتذہ اور طالبات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ 'ہم چیزوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ یہ جلد از جلد ہوگا۔'

پریس کانفرنس کے علاوہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ لڑکیوں کے سکول چھٹی جماعت تک اور لڑکوں کے سکول بارہویں جماعت تک کھلے ہوئے ہیں۔

کابینہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/MJalal700

کابینہ میں مزید وزرا کی تقرری

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے طالبان کی کابینہ میں باقی رہ جانے والی وزارتوں پر بھی وزرا کے ناموں کا اعلان کیا۔

تاہم ایک مرتبہ پھر کسی خاتون کو کوئی قلمدان نہیں دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے حال ہی میں بند کی جانے والی اُمورِ نسواں کی وزارت کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ وزرا کی تقریبِ حلف برداری نہیں ہوگی کیونکہ وہ 'عوام کی خدمت' کے لیے فوری طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم نئی کابینہ میں ایک اہم نام ڈاکٹر محمد حسن غیاثی کا ہے جنھیں نائب وزیر برائے صحت تعینات کیا گیا ہے جو نسلی اعتبار سے ہزارہ ہیں۔

کابینہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/MJalal700

اس کے علاوہ طالبان کے وزیرِ تجارت تاجک ہیں اور پنجشیر سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ اسی محکمے کے نائب وزیر سرِپل صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اور ازبک ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان کی عبوری کابینہ کے بارے میں پہلے یہ کہا گیا تھا کہ اس میں پشتونوں کو اہمیت دی گئی ہے جبکہ غیر پشتون افراد کو برائے نام ہی شامل کیا گیا ہے۔

نئے اعلان کردہ ناموں میں کون کون شامل ہے؟

پنجشیر سے حاجی نورالدین عزیزی کو قائم مقام وزیرِ تجارت، بغلان کے تاجر حاجی محمد بشیر کو نائب وزیرِ تجارت، سرِ پُل کے حاجی محمد عظیم سلطان زادہ کو نائب وزیر دوم برائے تجارت نامزد کیا گیا ہے۔

اسی طرح وزارتِ صحت کے لیے تین ناموں کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ڈاکٹر قلندر عباد کو قائم مقام وزیرِ صحت، ڈاکٹر عبدالباری عمر کو نائب وزیرِ صحت اور ڈاکٹر محمد حسن غیاثی کو نائب وزیر دوم برائے صحت مقرر کیا گیا ہے۔

طالبان نے محکمہ داخلی سلامتی میں ملّا محمد ابراہیم کو نائب وزیر مقرر کیا ہے جبکہ ملّا عبدالقیوم ذاکر کو نائب وزیرِ دفاع کا قلمدان دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ انجینیئر نذر محمد متمن کو قومی اولمپکس کمیٹی کا قائم مقام چیئرمین بنایا گیا ہے۔

انجینیئر مجیب الرحمان کو نائب وزیر برائے توانائی، حاجی غلام غوث کو نائب وزیر برائے قدرتی آفات، ڈاکٹر محمد فقیر کو مرکزی ادارہ شماریات کے قائم مقام سربراہ، حاجی گل محمد کو نائب وزیر برائے سرحدی اُمورِ، گل زرین کوچی کو نائب وزیر برائے سرحدی اُمور، کمانڈر ارسلا خروٹی کو نائب وزیر برائے پناہ گزین افراد مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ لطف اللہ خیر خواہ کو نائب وزیر برائے اعلیٰ تعلیم اور انجینیئر نجیب اللہ کو محکمہ جوہری توانائی کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔

بینر
لائن

’اثاثے غیر منجمد کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں‘

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پریس کانفرنس میں مزید اعلان کیا کہ طالبان افغانستان کے بیرونِ ملک موجود اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کے لیے ’تمام سفارتی روابط‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ نے طالبان کے عروج کے بعد افغان حکومت کے تقریباً 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے (جنھوں نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا) فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

طالبان، افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی محکمہ خزانہ نے اصرار کیا ہے کہ وہ طالبان پر عائد پابندیوں کو کم نہیں کرے گا اور نہ ہی اسلامی گروہوں کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی پر پابندیاں ختم کرے گا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے افغان حکومت کے خاتمے کے بعد سے تقریباً 44 کروڑ ڈالر تک طالبان تک رسائی روک دی ہے۔

تاہم پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ 'نازک موڑ' پر افغانوں کی مختلف اقدامات کے تحت مدد کریں جس میں اُن کے اثاثے غیر منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے پریس نمائندگان سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے منجمد اثاثوں کو افغانوں کے لیے غیر منمجد کرنا اعتماد سازی کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے مثبت رویے کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔'

انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

اسی دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ طالبان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور احترام کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

طالبان، افغانستان

،تصویر کا ذریعہEPA

ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا دینوشیکا دیسانیاکے نے کہا کہ 'ہم نے تشدد کی لہر دیکھی ہے جس میں بدلے کے لیے حملے، خواتین پر پابندیاں، اور مظاہروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن شامل ہیں۔'

اُنھوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ اس کی انسانی حقوق کونسل کو فوراً افغانستان میں بین الاقوامی قوانین کے تحت جرائم اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور ان کے ثبوت اکٹھے اور محفوظ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور آزاد طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان نے حالیہ مہینوں میں پنجشیر اور دیگر صوبوں میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

تاہم طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ ان علاقوں میں خود جا کر حقائق معلوم کر سکتے ہیں۔