افغانستان میں طالبان: کابل کی دیواروں پر مٹتی تصاویر اور نوجوانوں کے ’ٹوٹتے خواب‘

A blackened mural painting showing a female face in Kabul
،تصویر کا کیپشنکابل کی دیواروں پر بنی ہوئی بڑی بڑی ہوئی تصویروں (میورلز) پر عورتوں کی تصویروں کو سیاہ کیا جا رہا ہے

کابل کی دیواروں پر بنی بڑی بڑی تصاویر (میورلز) جو عام افغانوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں اور مستقبل کے بارے میں ان کی امیدیں بھی ظاہر کرتی ہیں۔۔۔ یہ تصویریں ایک زمانے میں اس شہر کی زندگی کی خصوصیت تھیں۔

لیکن اب طالبان نے حکم دیا ہے کہ ایسی تصویروں میں خواتین کے چہرے سیاہ کیے جائیں، اور آرٹ ورک کو سیاہ اور سفید نعروں سے بدل دیا جائے۔

یہ اقدامات ایک جھلک پیش کرتے ہیں کہ نیا افغانستان کیسا ہو گا۔ اور ان حالات سے فنکار پہلے ہی خوفزدہ ہیں۔

"We are the future of Afghanistan" - a mural by the grassroots organisation Art Lords in Kabul

،تصویر کا ذریعہOmaid H. Sharifi/Twitter

،تصویر کا کیپشنفن کے فروغ لے لیے بنائی گئی تنظیم ’آرٹ لارڈز‘ کی تیار کی گئی کابل کی ایک دیوار پر تصویر (میورل) میں لکھا ہے کہ ’ہم افغانستان کا مستقبل ہیں‘

سنہ 1990 کی دہائی میں جب افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت بنی تھی تو فن کو ’تخریب کاری‘ قرار دیا گیا تھا، سوائے مذہبی نغموں کے، موسیقی پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کتابیں اور ثقافتی نوادرات، بامیان کے کھڑے بدھوں کی طرح، تباہ کردیے گئے تھے۔ اور ہر قسم کے فنکارانہ اظہار پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

پچھلے مہینے طالبان کے اقتدار میں دوبارہ سے آنے کے بعد سے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی دکھائی دے رہی ہے۔

براہ راست موسیقی کے پروگرام پیش کرنے کو ایک بار پھر غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے، اور انہی طالبان نے میورلز کے آرٹ کو جو کبھی کابل کی سڑکوں پر افغان زندگی کی بہترین عکاسی کرتے تھے، ان کے بارے حکم دیا ہے کہ اُنھیں وائٹ واش کر دیا جائے۔

A defaced mural in Kabul depicting women's right, peace and freedom of expression
،تصویر کا کیپشنکابل کی ایک دیوار پر وہ تصویر جسے اب مسخ کردیا گیا ہے۔ اس پر ’خواتین کے حقوق، امن اور آزادی اظہارِ رائے‘ کو پیش کیا گیا تھا

ایک آرٹ ایکٹوسٹ اور ’آرٹ لارڈز‘ کے شریک بانی عمید شریفی نے کہا کہ 'یہ کام شروع ہو چکا ہے۔ طالبان نے ہماری دیواروں پر ان تصویروں کو مٹانا شروع کردیا ہے۔‘

آرٹ لارڈز ایک گراس روٹ آرگنائزیشن ہے جس نے کابل میں ورکشاپ چلائیں تاکہ لوگوں کو دیواروں اور سٹریٹ آرٹ بنانے میں مدد ملے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

شریفی نے ٹوئٹر پر کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کی عکاسی کرنے والے دیوار پر بنے میورلز کو سیاہ اور سفید پیغام کے ساتھ بدل دیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 'دشمن کے پروپیگنڈے پر بھروسہ نہ کریں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

پچھلے کچھ دنوں میں کابل کے اردگرد بڑی بڑی دوکانوں کے فرنٹ پر خواتین کی تصاویر کو پینٹ کر کے چھپایا گیا یا توڑ پھوڑ کی گئی۔

لباسِ عروسی کے اشتہارات میں خواتین کے چہروں کو چھپانے کے لیے ایک کابل سیلون کو وائٹ واش کیا گیا۔

Paintings showing women being whitewashed in Kabul

،تصویر کا ذریعہMalik Mudassir

،تصویر کا کیپشنایک ایسا اشتہار جس میں خواتین کے چہرے نظر آرہے تھے اسے وائٹ واش کردیا گیا ہے

طالبان، جو اسلام کی ایک سخت گیر توصیح کرتے ہیں، نے براہ راست موسیقی پر بھی پابندی لگا دی ہے، جسے وہ گناہ سمجھتے ہیں۔

پچھلے ماہ ایک مشہور لوک گلوکار فواد اندرابی کو بغلان صوبے کے اندراب گاؤں میں ان کے گھر سے اٹھایا گیا اور پھر سر میں گولی مار دی گئی۔

ثقافتی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کریما بینون نے ایسی خبریں سننے کے بعد 'شدید تشویش' کا اظہار کیا اور طالبان پر زور دیا کہ وہ فنکاروں کو ملک چھوڑنے دیں تاکہ وہ جلاوطنی میں اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

Pictures of an ad featuring a woman, being taken down in Kabul

،تصویر کا ذریعہMalik Mudassir

،تصویر کا کیپشنایسے اشتہارات جن میں خواتین کے چہروں کو دکھایا گیا تھا انھیں کابل کی دوکانوں سے ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے

اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان چھوڑنے والے شریفی نے کہا کہ فنکار اپنے گھروں سے باہر نکلنے اور اپنی سماجی اور معاشی حالت کے کمزور ہونے سے واقعی خوفزدہ ہیں۔

انھیں ’طالبان نے کہا تھا کہ وہ اپنا پیشہ تبدیل کریں۔'

A mural painting depicting a girl's face - happy in times of peace, and shattered in times of war
،تصویر کا کیپشنشریفی کا کہنا ہے کہ ’افغان بچیوں کے خواب چکنا چور کردیے گئے ہیں۔‘

لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شریفی نے مزید کہا کہ وہ نہ صرف اپنے ساتھی فنکاروں کے ساتھ ہیں، بلکہ افغانوں کی ایک پوری نسل، خاص طور پر بچوں اور نوجوان خواتین، جنھوں نے ایک مختلف مستقبل کی امید کی تھی، ان کے ساتھ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ہم نے انھیں امید دی لیکن اس وقت پوری دنیا نے انھیں مایوس کیا۔ ہم نے سوچا کہ وہ سکول جا سکتی ہیں، وہ یونیورسٹی جا سکتی ہیں، وہ منتخب ہو سکتی ہیں، وہ جو چاہیں کر سکتی ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔'

’ان کی امیدیں، ان کے خواب اب ٹوٹ گئے ہیں۔‘