غزنی طالبان کے قبضے میں: ’طالبان کے شہر میں داخل ہوتے ہی میں نے گھر سے قومی پرچم اُتار دیا، کتابیں اور ٹی وی چھپا دیے‘

- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی ، اسلام آباد
’رات بھر جاری شدید لڑائی کے بعد جب علی الصبح یہ اطلاع ملی کہ غزنی شہر پر طالبان کو قبضہ ہو چکا ہے تو میں نے فی الفور اپنے گھر کی چھت سے ڈش انٹینا اُتارا اور اس کے بعد گھر میں موجود بڑا ٹی وی سیٹ، کتابیں اور لیپ ٹاپ چھپا دیے۔‘
غزنی کے شہری صلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گذشتہ 24 گھنٹوں میں شہر میں پیش آنے والے واقعات پر بی بی سی سے بات کی ہے۔
طالبان نے صوبہ غزنی کے مرکزی شہر غزنی پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں شہریوں کے مطابق رات بھر افغان فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد جمعرات کی صبح طالبان جنگجو شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے غزنی کے طالبان کے قبضے میں جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دشمنوں نے (شہر کا) کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘
افغانستان میں سوشل میڈیا پر وائرل چند تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزنی کے گورنر، پولیس سربراہ اور دیگر حکام شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد گاڑیوں کے ایک قافلے میں غزنی سے کابل کی طرف سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
طالبان کے میڈیا ونگ کے مطابق سرینڈر کرنے والے افغان حکام کو بحفاظت قافلے کی صورت میں کابل جانے کے لیے روانہ کیا گیا ہے تاہم اُن کے مطابق غزنی شہر کے باہر بعض طالبان جنگجوؤں نے اس قافلے کی یہ جاننے کے لیے تلاشی لی کہ آیا سرکاری حکام نے اپنی گاڑیوں میں اسلحہ یا پیسے تو نہیں چھُپا رکھے۔

سوشل میڈیا پر بعض افغان شہری غزنی کے حکام پر تنقید بھی کر رہے ہیں اور ان کے شہر سے نکلنے کو 'فرار' ہونے سے تشبیہ دے رہے ہیں۔
صلاح الدین کے مطابق گذشتہ رات طالبان جنگجوؤں اور افغان فورسز کے درمیان شدید لڑائی ہوئی اور حکومتی فورسز نے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ’رات بھر کی لڑائی کے بعد صبح خاموشی ہوئی اور بعد میں پتہ چلا کہ طالبان شہر کے اندر داخل ہوگئے ہیں۔‘
’طالبان کے داخل ہوتے ہی گھروں اور دکانوں سے افغان پرچم اُتا دیے گئے‘
صلاح الدین کے مطابق افغانستان کے دیگر شہروں کی طرح غزنی میں بھی اکثر لوگوں نے گذشتہ کچھ عرصے سے اپنے گھروں اور دکانوں پر افغانستان کے قومی پرچم لگا رکھے تھے مگر طالبان کے شہر میں داخل ہونے کی خبر موصول ہوتے ہی سہمے ہوئے شہریوں نے یہ پرچم اُتار دیے۔
اُن کے مطابق اب غزنی شہر میں جگہ جگہ طالبان کے سفید پرچم نظر آ رہے ہیں ’جو طالبان جنگجو خود مختلف مقامات پر لگا رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا کہ رات بھر کی لڑائی کے بعد صبح چونکہ سکون ہو چکا تھا اس لیے شہری گھروں سے نکلے اور اب شہر میں ’ڈر کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی تقریباً بحال ہو چکے ہیں۔‘
طالبان کی جانب سے غزنی شہر میں گورنر کے دفتر اور کئی دیگر اہم سرکاری مقامات پر کنٹرول کے بعد ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جن میں طالبان جنگجو ان اہم مقامات پر پوزیشن سنبھالے دکھائی دے رہے ہیں۔
اگرچہ غزنی شہر کئی مہینے سے محصور تھا اور لگ بھگ دو ماہ قبل طالبان جنگجو شہر کی مضافات تک پہنچ گئے تھے لیکن شہر پر کنٹرول حاصل کرنے لیے ان جنگجوؤں نے بڑا حملہ گذشتہ شب ہی کیا اور صبح تک وہ شہر میں داخل ہونے اور اہم عمارتوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

’کتابیں، ٹی وی سیٹ اور لیپ ٹاپس چُھپا دیے‘
صلاح الدین کے مطابق غزنی شہر میں اکثر لوگ ٹی وی چینلز ڈش انٹینا کے ذریعے دیکھتے ہیں اور طالبان کی شہر میں موجودگی کا سن کر بہت سے شہریوں نے راتوں رات گھر کی چھتوں سے ڈش انٹیناز بھی اُتار لیے ہیں۔
صلاح الدین کہتے ہیں کہ صبح کے وقت اُنھوں نے بھی اپنے گھر کی چھت سے ڈش انٹینا اُتارنے کے بعد گھر میں موجود بڑے ٹی وی سیٹ، کتابیں اور لیپ ٹاپس بھی چُھپا لی ہیں۔
اُن سے پوچھا گیا کہ اگرچہ طالبان اپنے دور میں ٹی وی، ڈش انٹینا کے خلاف تھے اور ایسی چیزیں جلا دیتے تھے لیکن اُنھوں نے کتابیں کیوں چُھپائی؟ وہ کہتے ہیں کہ ’میری کتابوں میں بعض انگریزی کی کتابیں بھی تھیں، جن میں نیلسن منڈیلا اور کئی دیگر معروف شخصیات کی کتابیں تھیں اور ہم نے اس لیے یہ کتابیں چُھپائی کہ ایسا نہ ہو طالبان یہ کتابیں دیکھ کر بُرا نہ مانیں۔‘
صلاح الدین کے مطابق اُن کے ایک ہمسائے کے گھر میں بھی طالبان داخل ہوئے اور اُن گھر کی بالائی منزل پر افغان فورسز کے خلاف پوزیشن سنبھال لی۔ طالبان جنگجو اکثر علاقوں میں عوام کی گھروں میں گُھس کر وہاں سے افغان فورسز کے لڑائی کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’طالبان اس لیے عام لوگوں کے گھروں میں پناہ لیتے ہیں کیونکہ وہاں پر فورسز فضائی حملے نہیں کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’پیسے خواتین کے حوالے کر دیے‘
صلاح الدین کے مطابق اُن کے گھر میں خرچے کے لیے کچھ پیسے پڑے تھے جو اُنھوں نے گھر کی خواتین کے حوالے کر دیے ہیں اور اُنھیں بتایا ہے کہ اپنے ان پیسوں کو سنبھال کر رکھیں۔
’ہمارے گھر میں دو خواتین ہیں، ایک میری اہلیہ اور دوسری بھابی۔ پیسے الگ الگ کر کے دونوں کو دیے ہیں اور کہا ہے کہ انھیں اپنے جسم سے لگا لو۔ اگر ایک فضائی بمباری میں یا گولی سے مری، تو دوسری کے پیسوں سے کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا۔‘
صلاح الدین کے مطابق اُن کے گھر کی خواتین اور بچے حیران اور پریشان ہیں اور بار بار اُن سے یہ پوچھتے ہیں کہ ’اب کیا ہوگا؟‘
اپنے گھر کے اندر ماحول کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ رات بھر سارے گھر والے لڑائی کی شدت، فضائی حملوں اور ڈر کی وجہ سے سو نہ پائے اور اب صبح بھی کوئی نہیں سویا ہے۔ تاہم اُن کے مطابق اب اس لیے گھر میں بھی نارمل حالت ہوگئی ہے کہ ’کم از کم گولیوں کی آوازیں اب سُنائی نہیں دے رہی ہیں۔‘













