انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: جموں ایئر فورس سٹیشن پر دھماکے ’دہشتگردوں کی کارروائی‘ ہے: پولیس سربراہ

،تصویر کا ذریعہANI
جموں وکشمیر کے ڈی جی پی دلباگ سنگھ نے اتوار کے روز جموں ایئر فورس سٹیشن میں ہونے والے دونوں دھماکوں کو ’دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔ ڈی جی پی سنگھ کے مطابق پولیس، فضائیہ اور دیگر ایجنسیاں اس کی تحقیقات کر رہی ہیں۔
اس سے قبل انڈین فضائیہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع دی تھی۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’اتوار کی صبح جموں ائیر فورس سٹیشن کے تکنیکی علاقے میں دو کم شدت والے دھماکے ہوئے۔ ایک دھماکے سے ایک عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا جبکہ دوسرا کھلے حصے میں ہوا۔‘
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ دھماکوں میں ائیر فورس کے دو اہلکار زخمی ہو گئے اور دونوں دھماکوں کے درمیان چھ منٹ کا وقفہ تھا۔
فضائیہ نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس واقعے میں کسی مواد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور متعلقہ سویلین ایجنسیاں تفتیش کر رہی ہیں۔
یہ دھماکے جموں ايئرپورٹ کے اس حصے میں ہوئے جو انڈین فضائیہ کے لیے مختص ہے۔
ابتدائی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ پہلا دھماکہ ائیر فورس سٹیشن کے تکنیکی علاقے میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات 2 بجے ہوا۔

،تصویر کا ذریعہANI
ادھر جموں و کشمیر پولیس کے ڈی جی پی دلباگ سنگھ نے کہا ہے کہ پولیس نے ’ایک اور حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔‘
ڈی جی پی سنگھ نے بی بی سی کے ایسوسی ایٹ صحافی رویندر سنگھ رابن کو بتایا کہ ’جموں پولیس نے ایک اور آئی ای ڈی برآمد کیا ہے جس کا وزن چھ کلو گرام ہے۔ یہ آئی ای ڈی لشکر کے ایک کارکن کے پاس پایا گیا جو اسے شہر کے ایک رش والے علاقے میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس (دھماکہ خیز مواد) کو برآمد کر کے شہر میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ ’گرفتار ملزم سے پوچھ گچھ جاری ہے اور آئی ای ڈی سے دھماکے کی اس کوشش کے سلسلے میں مزید مشتبہ افراد کے پکڑے جانے کا امکان ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر جموں ائیرپورٹ پر ہونے والے دھماکوں پر بھی کام کر رہی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جموں ہوائی اڈے پر دو دھماکوں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کو ڈرون کے ذریعے گرایا جانے کا شبہ ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ابتدائی اطلاعات
اس سے قبل انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ دھماکے کرنے کے لیے دو ڈرونز استعمال کیے گئے تھے۔ اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا کہ اس حادثے میں دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایجنسی نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واقعے کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نائب ایئر چیف، ایئر مارشل ایچ ایس اروڑا سے بات کی ہے۔ ائیر مارشل وکرم سنگھ صورتحال کا جائزہ لینے جموں پہنچ رہے ہیں۔
انڈیا کے معروف صحافی شیکھر گپتا نے اے این آئی کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ’جموں میں انڈین ايئرفورس کے ائیرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز سے بم گرائے گئے یہ انڈیا میں اس قسم کا پہلا حملہ ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بی بی سی کے ساتھی صحافی موہت قندھاری کے مطابق جموں ائیر پورٹ کا ہوائی جہاز اور ہوائی ٹریفک کنٹرول انڈین فضائیہ کے کنٹرول میں ہے، جو عام مسافروں کی پرواز کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کا تجزیہ کرنے والی ایک ٹیم نے موقع سے کچھ نمونے اکٹھے کیے ہیں۔
موہت قندھاری کے مطابق انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ٹیم وہاں موجود ہے۔ جموں و کشمیر سرحد پر بھی سکیورٹی کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب اور ہماچل پردیش میں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور چوکیوں پر گشت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
بی بی سی کے نمائندے جوگل پروہت کے مطابق اس حملے کے بارے میں تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا لیکن چونکہ فضائیہ نے اپنی ٹویٹ میں تکنیکی علاقے کا ذکر کیا ہے اس لیے یہ باعث تشویش ہے۔
جوگل کا کہنا ہے کہ اس معنی میں یہ اہم ہے کہ تکنیکی اریا فضائیہ کا مرکز ہے بلکہ یہ سب سے اہم علاقہ ہے کیوںکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تمام آلات، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ اسی جگہ پر تمام ہارڈ ویئرز رکھے گئے ہیں۔ کسی فضائیہ کے اڈے پر دو اہم حصے ہوتے ہیں، ایک تکنیکی علاقہ اور دوسرا انتظامی علاقہ۔ اس لحاظ سے یہ حملہ بہت سنگین ہے۔ اسے صرف دو چھوٹے دھماکوں کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
جوگل پروہت پٹھان کوٹ حملے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب حملہ ہوا تو وہاں کے اعلیٰ افسران نے کہا کہ ہم ائیر فورس ہیں اور ہمیں اپنے علاقوں کو فضائی حملوں سے بچانا ہے۔
جوگل کا کہنا ہے کہ ابھی جو خبریں کچھ جگہوں سے آرہی ہیں اور ان میں کہا جارہا ہے کہ یہ ڈرون حملہ ہے، اگر ایسا ہے تو یہ بہت گھمبیر معاملہ ہے۔










