بریگیڈیئر عثمان: ’نوشہرہ کا شیر‘ جس پر حکومتِ پاکستان نے 50 ہزار کا انعام رکھا تھا

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
انڈیا کے متعدد فوجی مورخین کی رائے ہے کہ اگر بریگیڈیئر عثمان کا قبل از وقت انتقال نہ ہوتا تو وہ انڈیا کے پہلے مسلم آرمی چیف ہوتے۔
لیکن جیسا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ خدا جنھیں چاہتا ہے انھیں جلدی بلا لیتا ہے۔ بہادروں کی عمر چھوٹی ہوتی ہے۔ بریگیڈیئر عثمان کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔
جب انھوں نے اپنے ملک کے لیے اپنی جان دی تو اس وقت ان کی 36 ویں سالگرہ میں 12 دن باقی تھے۔ لیکن اپنی مختصر زندگی میں انھوں نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو بہت سے لوگ ان کی جیسی زندگی پا کر نہیں کر سکتے ہیں۔
وہ غالباً واحد انڈین فوجی تھے جس کے سر پر پاکستان نے پچاس ہزار روپے کا انعام رکھا تھا۔ یہ اس وقت بڑی رقم ہوتی تھی۔
سنہ 1948 میں نوشہرہ کی جنگ کے بعد وہ ’نوشہرہ کا شیر‘ کہلائے جانے لگے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
بارہ برس کی عمر میں بچے کو کنویں میں ڈوبنے سے بچایا
عثمان 15 مئی 1912 کو مؤ ضلع کے بی بی پور گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد قاضی محمد فاروق بنارس شہر کے کوتوال تھے اور انھیں برطانوی حکومت نے خان بہادر کا خطاب دیا تھا۔
عثمان جب 12 برس کے تھے اور ایک کنویں کے پاس سے گزر رہے تھے تو وہاں موجود مجمع دیکھ کر رک گئے۔ پتہ چلا کہ ایک بچہ کنویں میں گر گیا ہے۔
بارہ سالہ عثمان کو کچھ نظر نہیں آیا، انھوں نے بچے کو بچانے کے لیے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔
عثمان بچپن میں ہکلایا کرتے تھے۔ ان کے والد کا خیال تھا کہ شاید اس کمی کی وجہ سے وہ سول سروسز میں منتخب نہیں ہو سکیں گے۔ لہذا انھیں پولیس میں جانے کی ترغیب دی۔ وہ انھیں اپنے ساتھ اپنے باس کے پاس لے گئے۔ اتفاق سے وہ بھی ہکلایا کرتے تھے۔
انھوں نے عثمان سے کچھ سوالات پوچھے اور جب عثمان نے ان کا جواب دیا تو انگریز افسر نے سمجھا کہ وہ ان کی نقل کر رہے ہیں۔ وہ بہت ناراض ہوئے اور اس طرح عثمان کا پولیس میں جانے کا خواب بکھر گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نہ جانے کا فیصلہ
عثمان نے فوج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے برطانیہ کے معروف فوجی تربیتی سینٹر سینڈہرسٹ میں منتخب ہونے کے لیے درخواست دی اور منتخب ہوئے۔
یکم فروری سنہ 1934 کو وہ سینڈہرسٹ سے پاس ہو کرے نکلے تو وہ اس کورس میں منتخب ہونے والے دس ہندوستانیوں میں سے ایک تھے۔ سیم مانیکشا اور محمد موسی ان کے بیچ میٹ تھے جو بعد میں انڈین اور پاکستانی فوج کے چیف بنے۔ سنہ 1947 تک وہ ایک بریگیڈیئر بن چکے تھے۔
جب برصغیر کی تقسیم ہوئی تو بطور ایک سینیئر مسلم فوجی، ہر ایک کو توقع تھی کہ وہ پاکستان جانا چاہیں گے لیکن انھوں نے انڈیا میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
بریگیڈیئر عثمان کی سوانح لکھنے والے میجر جنرل وی کے سنگھ کہتے ہیں: 'محمد علی جناح اور لیاقت علی دونوں نے انڈیا میں ان کے قیام کے فیصلے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ان دونوں نے بریگیڈیر عثمان کو فوری طور پر ترقی دینے کا لالچ بھی دیا لیکن عثمان نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔
مسلمان ہونے کے باوجود ان میں کوئی مذہبی تعصب نہیں تھا۔ انھوں نے اپنی، رواداری، انصاف پسندی اور ایمانداری سے اپنے ماتحتوں کا دل جیت لیا۔'

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
قبائلیوں کا جھنگڑ پر قبضہ
اکتوبر 1947 میں قبائلیوں نے پاکستانی فوج کی مدد سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر حملہ کر دیا۔
26 اکتوبر تک وہ سری نگر کے نواحی علاقوں تک بڑھتے چلے گئے۔ اگلے روز انڈیا نے ان کو روکنے کے لیے اپنی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
50 پیرا بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر عثمان نوشہرہ میں ڈٹے ہوئے تھے لیکن قبائلیوں نے ان کے آس پاس کے علاقے، خاص طور پر شمال میں، کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
عثمان ان حملہ آوروں کو وہاں سے ہٹا کر چنگاس تک کا راستہ صاف کر دینا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس زیادہ فوجی نہیں تھے، اس لیے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
24 دسمبر کو قبائیلیوں نے اچانک حملہ کرکے جھنگڑ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد ان کا اگلا ہدف نوشہرہ تھا۔ انھوں نے اس شہر کو چاروں طرف سے گھیرنا شروع کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
بریگیڈیئر عثمان کے لیے سب سے بڑا چیلینج
چار جنوری کو عثمان نے بٹالین کو حکم دیا کہ وہ جھنگڑ روڈ پر سے قبائلیوں کو ہٹانا شروع کریں۔ یہ حملہ ناکام رہا اور قبائلی اپنی جگہ سے ذرا بھی نہ ہلے۔
اس کے بعد قبائیلیوں نے نوشہرہ پر اُسی شام حملہ کر دیا جسے انڈین فوجیوں نے ناکام بنا دیا۔
دو روز بعد انھوں نے شمال مغرب سے دوسرا حملہ کیا مگر وہ بھی ناکام رہا۔ پھر اسی شام قبائلیوں نے پانچ ہزار جنگجووٴں اور توپخانے کے ساتھ حملہ کر دیا۔ بریگیڈیئر عثمان کی فوج نے تیسری بار پھر اپنا پورا زور لگا کر قبائلیوں کو نوشہرہ پر قبضہ کرنے میں ناکام کر دیا۔
بریگیڈیئر عثمان کی سوانح لکھنے والے جنرل وی کے سنگھ نے بتایا کہ، 'قبائلیوں کے حملے ناکام کرنے کے باوجود گیریسن کے فوجیوں کا حوصلہ بہت بلند نہیں تھا۔ تقسیم کے بعد پھیلنے والے فرقہ وارانہ تعصب کی وجہ سے کچھ فوجی اپنے مسلم کمانڈر کی وفاداری کے بارے میں پراعتماد نہیں تھے۔ عثمان کو نہ صرف اپنے دشمنوں کے منصوبوں کو تباہ کرنا تھا بلکہ اپنے فوجیوں کا یقین بھی جیتنا تھا۔ ان کی شاندار شخصیت، لوگوں سے متعلق نظام اور پیشہ آور برتاؤ سے چند روز میں ہی حالات بدل گئے۔ عثمان نے بریگیڈ میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے جے ہند کہنے کی روایت کا آغاز کروایا۔'

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
کَریئپا کی فرمائش
جنوری 1948 میں ہی مغربی کمان کا چارج لینے کے بعد انڈین فوج کے لیفٹنینٹ جنرل کریئپا نے نوشہرہ کا دورہ کیا۔
میجر ایس کے سنہا کے ساتھ وہ نوشہرہ کی ہوائی پٹی پر اترے۔ عثمان نے ان کا استقبال کیا اور اپنی بریگیڈ کے فوجیوں سے انھیں ملوایا۔
ارجن سبرامنیم اپنی کتاب 'انڈیاز وارس' میں لکھتے ہیں 'واپس لوٹنے سے پہلے کریئپا بریگیڈیئر عثمان کی جانب مڑے اور کہا کہ میں آپ سے ایک تحفہ چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ نوشہرہ کے نزدیک سب سے اونچے علاقے کوٹ پر قبضہ کریں، کیوں کہ دشمن وہاں سے نوشہرہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ ایسا کر پائے کوٹ پر قبضہ کر لیجیے۔ عثمان نے کریئپا سے وعدہ کیا کہ ان کی فرمائش کو چند روز میں پورا کر دیں گے۔'

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
’بول چھترپتی شواجی مہاراج کی جے‘
کوٹ کا علاقہ نوشہرہ سے نو کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ یہ قبائلیوں کے لیے ایک طرح سے کیمپ کا کام کرتا تھا۔
عثمان نے کوٹ پر قبضہ کرنے کے آپریشن کو 'کپر' نام دیا اور انھوں نے کوٹ پر دو بٹالیئنز کے ساتھ دو طرفہ حملہ کیا۔
فضائی فوج نے جموں ایئر بیس سے پرواز بھر کر فضائی امداد دی۔ قبائلیوں کو یہ محسوس کرایا گیا کہ حملہ اصل میں جھنگڑ پر ہو رہا ہے۔ اس کے لیے گھوڑوں اور خچروں کا انتظام کیا گیا۔
انڈین فوجیوں نے مراٹھوں کا نعرہ 'بول چھترپتی شواجی مہاراج کی جے' بولتے ہوئے قبائلیوں پر حملہ کیا۔
کوٹ پر قبضہ
کوٹ پر حملہ یکم فروری 1948 کی صبح چھ بجے کیا گیا اور سات بجے تک یہ لگنے لگا تھا کہ کوٹ پر انڈین فوجیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔
بعد میں پتا چلا کہ بٹالین نے گاؤں کے گھروں کی اچھی طرح تلاشی نہیں لی تھی اور وہ کچھ قبائلیوں کو پہچان نہیں پائے تھے جو سو رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں قبائلیوں نے جوابی حملہ کر دیا۔ آدھے گھنٹے کے اندر قبائلیوں نے کوٹ پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
عثمان کو اس کا اندازہ پہلے سے تھا۔ انھوں نے پہلے سے دو دستے بچا رکھے تھے۔ ان دو فوجی دستوں کو آگے بڑھایا گیا اور زبردست گولہ باری اور فضائی حملوں کے درمیان دس بجے کوٹ پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا گیا۔
اس لڑائی میں قبائلیوں کے 156 لوگ مارے گئے جبکہ انڈین فوج کے سات فوجی ہلاک ہو گئے۔
چھ فروری 1948 کو کشمیر کی جنگ کی سب سے اہم لڑائی لڑی گئی۔ صبح چھ بجے عثمان کلال پر حملہ کرنے والے تھے لیکن تبھی پتا چلا کہ قبائلی اسی روز نوشہرہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ اس حملے میں قبائلیوں کی طرف سے 11,000 لوگ شامل تھے۔
بیس منٹ تک گولیوں کے تبادلے کے بعد تین ہزار پٹھانوں نے تیندھار پر حملہ کر دیا۔ تقریباً اتنے ہی لوگوں نے کوٹ پر بھی حملہ کر دیا۔ اس کے علاوہ پانچ ہزار لوگوں نے آس پاس کے علاقے کنگوٹا اور ریدیاں کو اپنا ہدف بنایا۔
پلٹن نمبر دو نے اس حملے کو مکمل بہادری کے ساتھ جھیلا۔ ستائیس لوگوں کی پلٹن میں چوبیس ایسے تھے جو مارے گئے یا بری طرح زخمی ہو گئے۔
بچے ہوئے تین فوجیوں نے تب تک لڑنا جاری رکھا جب تک ان میں سے مزید دو مارے نہیں گئے۔ صرف ایک فوجی بچا تھا۔
انتہائی مشکل حالات میں انڈین فوج کی اضافی کُمُک وہاں پہنچ گئی اور حالات پلٹ گئے۔
اگر وہ وہاں چند منٹ دیر سے پہنچتے تو تیندھار انڈین فوج کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا۔ ابھی تیندھار اور کوٹ پر حملہ جاری تھا کہ پانچ ہزار پٹھانوں کے دستے نے مغرب اور جنوب مغرب کی جانب سے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ ناکام رہا۔ اس ناکامی کے بعد پٹھان پیچھے ہو گئے اور لڑائی کا رخ بدل گیا۔

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
عثمان راتوں و رات قومی ہیرو بن گئے
نوشہرہ کی جنگ کے بعد بریگیڈیئر عثمان کا ہر جگہ نام ہو گیا اور رات و رات وہ قومی ہیرو بن گئے۔ اس خطے کے کمانڈنگ افسر، میجر جنرل کلونت سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کر کے نوشہرہ کی کامیابی کا پورا سہرا کمانڈر بریگیڈیئر محمد عثمان کے سر باندھا۔
جب عثمان کو اس بارے میں پتا چلا تو انھوں نے کلونت سنگھ کو ایک خط لکھ کر اعتراض کا اظہار کیا۔
انھوں نے لکھا کہ 'اس جیت کے لیے فوجیوں کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے جنھوں نے اتنی بہادری سے لڑتے ہوئے ملک کے لیے اپنی جان تک دے دی۔'
دس مارچ 1948 کو میجر جنرل کلونت سنگھ نے جھنگڑ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ اور بریگیڈیئر عثمان نے اپنے فوجیوں تک وہ مشہور حکم پہنچایا جس میں لکھا تھا 'پوری دنیا کی نگاہیں آپ کے اوپر ہیں۔ ہمارے ملک کے لوگوں کو آپ سے امیدیں ہیں اور ہماری کوششوں سے ان کی توقعات وابستہ ہیں۔ ہمیں انھیں ناامید نہیں کرنا چاہیے۔ ہم بنا خوف کے جھنگڑ پر قبضہ کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ انڈیا آپ سے امید کرتا ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔'
جھنگڑ پر دوبارہ قبضہ نہ ہونے تک پلنگ پر نہ سونے کا عہد
اس مشن کو 'آپریشن وجے' کا نام دیا گیا۔ آپریشن 12 مارچ کو شروع ہونا تھا لیکن زبردست بارش کی وجہ سے اس مشن کو دو روز کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ جب انڈین فوجی قبائلیوں کے بنکر میں پہنچے تو وہاں کھانا پک رہا تھا۔ اور کیتلیوں میں چائے ابالی جا رہی تھی۔ ان کو آگ بجھانے کا موقع بھی نہیں مل پایا۔ 18 مارچ کو جھنگڑ انڈین فوج کے کنٹرول میں آ گیا تھا۔
جنرل وی کے سنگھ نے بریگیڈیئر عثمان کی سوانح میں لکھا ہے کہ 'دسمبر 1947 میں انڈین فوج کے ہاتھ سے جھنگڑ نکل جانے کے بعد بریگیڈیئر عثمان نے عہد کیا تھا کہ وہ تب تک پلنگ پر نہیں سوئیں گے جب تک جھنگڑ دوبارہ انڈین فوج کے قبضے میں نہیں آجاتا۔ جب جھنگڑ پر قبضہ حاصل کر لیا گیا تو بریگیڈیئر عثمان کے لیے ایک پلنگ منگوایا گیا۔ لیکن اس وقت صدر دفتر میں کوئی پلنگ موجود نہیں تھا، اس لیے نزدیک کے ایک گاوٴں سے ایک پلنگ ادھار لیا گیا اور بریگیڈیئر عثمان اس رات اس پلنگ پر سوئے۔'

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
توپ کے گولے سے ہوئے ہلاک
بریگیڈیئر عثمان تین جولائی 1948 کو ہلاک ہو گئے۔ انڈیا کی زمینی فوج کے بعد میں نائب بننے والے جنرل ایس کے سنہا اس واقعے کے وقت وہاں موجود تھے۔
انھوں نے بتایا کہ 'ہر شام ساڑھے پانچ بجے بریگیڈیئر عثمان اپنے اہلکاروں سے ملا کرتے تھے۔ اس روز میٹنگ آدھا گھنٹا قبل بلائی گئی اور جلد ختم ہو گئی۔ پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر قبائلیوں نے بریگیڈ صدر دفتر پر گولے برسانے شروع کر دیے۔ چار گولے خیمے سے قریب پانچ سو میٹر کے فاصلے پر شمال میں گرے۔
وہاں موجود ہر شخص پناہ کے لیے بھاگا۔ عثمان نے سِگنلرز کے بنکر کے اوپر چٹان کے پیچھے آڑ لی۔ ان کی توپوں کا جواب دینے کے لیے ہم نے بھی بمباری شروع کی۔'
اچانک عثمان نے میجر بھگوان کو حکم دیا کہ وہ توپ کا رخ مغرب کی جانب کریں اور پوائنٹ 3150 پر نشانہ لگائیں۔ میجر بھگوان یہ سن کر اس وقت تھوڑا حیران ہو گئے کیوں کہ دشمن سے تو جنوب کی جانب سے فائر ہو رہا تھا۔ لیکن انھوں نے عثمان کے حکم کی تعمیل کی اور توپوں کا رخ اس جانب کر دیا جدھر عثمان نے اشارہ کیا تھا۔
وہاں قبائلیوں کی آرٹلری آبزرویشن پوسٹ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں سے گولیاں چلنی بند ہو گئیں۔
جنرل ایس کے سنہا نے آگے بتایا کہ 'گولیاں اور بمباری رکتے ہی لیفٹنینٹ رام سنگھ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تباہ ہو چکے ایریئلز کی مرمت کرنے لگے۔ عثمان بھی بریگیڈ کمانڈ کی پوسٹ کی جانب بڑھنے لگے۔ میں اور میجر بھگوان سنگھ ان کے پیچھے تھے۔ ہم ابھی چند کی قدم آگے بڑھے ہوں گے کہ ایک گولے کی آواز سنائی دی۔ انھوں نے میری بازو پکڑ کر مجھے پیچھے کھینچ لیا۔
تب تک عثمان کمانڈ پوسٹ کے دروازے تک پہنچ چکے تھے اور وہاں پہنچ کر سگنل والوں سے بات کر رہے تھے۔ تبھی 25 پاوٴنڈ کا ایک گولا نزدیک ایک چٹان پر آ کر گرا۔ اس کے اڑتے ہوئے ٹکڑے بریگیڈیئر عثمان کے جسم میں دھنس گئے۔ ان کی اسی جگہ موت ہو گئی۔ اس پوری رات گولہ باری ہوئی اور جھنگڑ پر تقریباً 800 گولے داغے گئے۔

،تصویر کا ذریعہBharatrakshak.com
نہرو جنازے میں شامل ہوئے
بریگیڈیئر عثمان کی موت پر پورے گیریژن میں ماتم چھا گیا۔ جب انڈین فوجیوں نے سڑک پر کھڑے ہو کر اپنے بریگیڈیئر کو رخصت کیا تو سبھی آنکھیں نم تھیں۔
تمام فوجی اس افسر کے لیے رو رہے تھے جس نے بہت کم عرصے میں انھیں اپنا بنا لیا تھا۔ پہلے ان کے جنازے کو جموں لایا گیا، پھر وہاں سے دلی لے جایا گیا۔
ملک کے لیے جان دینے والے اس فوجی کے اعزاز میں ہوائی اڈے پر بھیڑ اکٹھا تھی۔ حکومت نے قومی اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات اد کیں۔ انھیں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں دفنایا گیا۔
اس وقت انڈیا میں گورنر جنرل لارڈ ماوٴنٹ بیٹن اور انڈین وزیرا عظم جواہر لال نہرو بھی ان کے جنازے میں شامل ہوئے۔ اس کے فوراً بعد ہی بریگیڈیئر عثمان کو مہاویر چکر دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔









