تیس سال پہلے جب بھارتی فوجی مالدیپ کے ہوائی اڈے پر اترے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
3نومبر 1988 کو مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم انڈیا کے دورے پر آنے والے تھے اور انہیں لانے کے لیے ایک بھارتی طیارہ دہلی سے مالدیپ کے دارلحکومت مالے کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ ابھی یہ طیارہ کچھ ہی دور پہنچا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کو اچانک ایک اہم دورے کے سلسلے میں دلی سے باہر جانا پڑا گیا اور انہوں نے صدر قیوم کو فون کر کے ان کا دورہ ملتوی کر دیا۔
صدر قیوم کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بنانے والے مالدیپ کے تاجر عبد اللہ لطفی اور ان کے ساتھی احمد اسماعیل مانِک نے طے کیا کہ بغاوت کو ملتوی نہیں کیا جائے گا۔
پہلے ان کا منصوبہ تھا کہ صدر قیوم کے ملک سے باہر جانے کے بعد ہی بغاوت کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے سری لنکا کی شدت پسند تنظیم پیپلز لبریشن آرگنائزیشن آف تمل ایلام کے کرائے کے جنگجوؤں کو سیاحوں کے بھیس میں پہلے ہی مالے پہنچا دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس وقت اے کے بینرجی مالدیپ میں بھارت کے سفیر تھے جو صدر قیوم کے طے شدہ بھارتی دورے کے سلسلے میں بھارت پہنچ چکے تھے۔
اے کے بینرجی نے بتایا 'میں دہلی میں اپنے گھر میں کمبل میں لپٹا گہری نیند سو رہا تھا کہ صبح ساڑھے چھ بجے میرے فون کی گھنٹی بجی اور مالے میں میرے سیکرٹری نے بتایا کہ مالدیپ میں بغاوت ہو گئی ہے اور لوگ سڑکوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔‘
انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ’صدر قیوم ایک محفوظ مقام پر چھپے ہوئے ہیں اور انھوں نے انڈیا سے اپیل کی ہے وہ ان کی مدد کے لیے فوراً فوج بھیجیں۔ دوسری جانب وزارتِ خارجہ میں سیکریٹری کلدیپ سہدیو کے پاس بھی فون آیا اور انھوں نے اس کی اطلاع وزیر اعظم کے دفتر میں پہنچائی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روزنامہ انڈین ایکسپریس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سوشانت سنگھ اپنی کتاب 'مشن اوورسیز: ڈیرنگ آپریشنز بائی دی انڈین ملٹری ' میں لکھتے ہیں کہ راجیو گاندھی نے کولکتہ کے اپنے دورے سے واپسی پر کلدیپ سہدیو کے ساتھ ملٹری آپریشن روم میں پہنچے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت کے نائب وزیر داخلہ پی چدمبرم نے وہاں نیشنل سکیورٹی گارڈز بھیجنے کی بات کہی لیکن فوج نے اسے منظور نہیں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُس وقت کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ آنند سواروپ ورما نے کہا انہیں اطلاع ملی ہے کہ مالے کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سینکڑوں باغیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ جس پر وہاں موجود وزیراعظم کے دفتر میں چیف سیکریٹری رونین سین نے انہیں خاموش رہنے کے لیے کہا۔ دراصل مالے میں جو کچھ ہو رہا تھا اس کی اصل اطلاعات رونین سین کے پاس تھیں۔

سوشانت سنگھ لکھتے ہیں کہ 'مالدیپ کے خارجہ سیکریٹری ذکی نے سیون آر سی آر پر سیدھے فون مِلا رکھا تھا جسے سین نے خود ہی اٹھایا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ باغیوں نے ان کے گھر کے سامنے ٹیلی فون ایکسچینج پر قبضہ کر لیا ہے۔‘
سین نے ان سے کہا کہ وہ فون نہ رکھیں کیونکہ ایسا کرنے سے ٹیلی فون ایکسچینج کے سوئچ بورڈ کی لائٹ بند ہو جائے گی اور باغیوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کسی سے فون پر بات کر رہے ہیں اور اس طرح یہ ٹیلی فون اگلے اٹھارہ گھنٹے تک کریڈل پر نہیں رکھا گیا۔
اس میٹنگ میں پہلے یہ طے پایا کہ چھاتہ بردار بریگیڈ کے فوجیوں کو پیرا شوٹ کے ذریعے مالے میں اتارا جائے۔ لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ انہیں ایسے مقام کی ضرورت تھی جہاں چھاتہ بردار فوجی اگر اتریں تو وہ زمین پر اتریں نہ کہ سمندر کے پانی پر۔
اُن کے محفوظ اترنے کے لیے فٹبال کے بارہ میدانوں جتنے رقبے کی ضرورت تھی جو مالے میں ممکن نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس بات کا قوی امکان تھا کہ تیز بہاؤ والے پانی میں فوجیوں کے پیرا شوٹ نہیں کھل پاتے اور وہ ایک بھاری پتھر کی مانند سمندر کی سطح پر گرتے۔
اس میٹنگ میں موجود لوگوں کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ مالے کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ جو ہل ہلے کے جزیرے پر واقع ہے اس کے ربن وے کی لمبائی کتنی ہے حالانکہ اسے ایک انڈین کمپنی نے بنایا تھا۔
اس پر راجیو گاندھی نے سین سے کہا کہ وہ انڈین ایئر لائنز کے ان پائلٹوں سے اس بارے میں رابطہ کریں جو مالے تک پروازیں لے کر جاتے ہیں۔
اس میٹنگ کے بعد آرمی کے ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل روڈرگز، بریگیڈیئر فاروق بُل بلسارا کو فون کر کے چھاتہ برداروں کو تیار رہنے کے لیے کہا تو پتا چلا کہ بریگیڈیئر فاروق نے پہلے مالدیپ کا نام تک نہیں سنا تھا۔ اور انٹیلی جینس آفیسر لائبریری سے ایک نقشہ اٹھا کر لایا تو انہیں معلوم ہوا کہ مالدیپ بارہ سو جزیروں پر مشتمل ایک ملک ہے جو انڈیا کے جنوبی کنارے سے سات سو کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحرحال اس آپریشن میں مالدیپ میں تعینات بھارتی سفیر بینرجی کو ساتھ لیجانے کا فیصلہ کیا گیا جو علاقے کو اچھی طرح جانتے تھے۔
اس وقت تک مالے کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر باغیوں کا قبضہ نہیں ہوا تھا اس لیے وہیں چھاتہ بردار فوجی اتارے گئے۔ اس وقت ہوائی اڈے پر گہرا اندھیرا تھا۔ ہوائی اڈے پر قبصہ کرنے کے بعد بلسارہ نے صدر قیوم سے رابطہ کیا۔
صدر قیوم نے بتایا کہ ان کے خفیہ مقام کو اب باغیوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور باہر گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ جب بھارتی فوجی اس مقام پر پہنچے تو شدید فائرنگ جاری تھی۔ صدر قیوم کے محافظ بھارتی فوجیوں کو ان کے پاس لے کر پہنچے اور ان سے سیدھے ہوائی اڈے چلنے کے لیے کہا گیا لیکن انہوں نے جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نیشنل سکیورٹی سروس کےہیڈکوارٹر لے جایا جائے۔
آپریشن کے بعد جب بلسارہ اور بینرجی سکیورٹی سروس کے ہیڈکوارٹر پہنچے تو عمارت کی چاروں طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور وہاں کے حالات بتا رہے تھے کہ باغیوں نے اس پر قبضہ کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔ جب قیوم وہاں پہنچے تو کچھ پریشان تھے لیکن پوری طرح کنٹرول میں نظر آئے۔ انہوں نے سب کا مدد کے لیے شکریہ ادا کیا اور راجیو گاندھی سے بات کرنے کی درخواست کی۔
جس کے بعد ان سے انڈین وزیراعظم راجیو گاندھی کی بات کرائی گئی۔







