امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں کیا حالات ہوں گے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد جنگ سے متاثرہ اس ملک کے مستقبل کے بارے میں افغانستان کے اندر اور عالمی سطح پر یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کیا ایک مرتبہ پھر افغانستان میں نوے کی دہائی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں؟
کیا ایک مرتبہ پھر افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے؟ کیا ایک مرتبہ پھر افغانستان میں بیس سالوں میں جو ترقیاتی کام کیے گئے ہیں، وہ سب تباہ ہوسکتے ہیں؟ کیا بد امنی کی وجہ سے افغانستان سے ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی ہو سکتی ہے، اور کیا اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک یا خطے میں پڑ سکتے ہیں؟
یہ بے یقینی بھی پائی جاتی ہے کہ غیر ملکی فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں اقتدار کس کے پاس رہے گا، کیا طالبان اور افغان حکومت مفاہمت کے تحت معاملات حال کرلیں گے یا یہ خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کریں گے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
ماضی کی مثالیں سامنے ہیں جب روس کے افغانستان سے جانے کے بعد حالات کسی کے قابو میں نہیں رہے تھے اور مجاہدین آپس میں لڑنے لگے تھے اور ایسے حالات میں عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جانی نقصان زیادہ ہوتا ہے اور ملک کا انفرا سٹرکچر بھی تباہ ہوتا ہے۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ترکی کے صدر سے ملاقات کی ہے اور چند روز سے یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ترکی چونکہ نیٹو افواج کا اہم حصہ ہے اور ترکی کے صدر نے کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کے لیے دیگر ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد بھی اپنی فورسز تعینات رکھنے کی تجویز دی ہے۔
افغان طالبان نے ترکی کی اس تجویز کو ناقابل قبول سمجھا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان کی ایک ایک انچ کی حفاظت افغان خود کریں گے۔
غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کیا ہو سکتا ہے اور اس کے کیا اثرات افغانستان اور پڑوسی ممالک پر پڑ سکتے ہیں، یہ جانچنے کے لیے پہلے افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انخلا کے اعلان کے بعد افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟
امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے امریکی فوج کے 11 ستمبر کے انخلا کے اعلان کے بعد انخلا کا آغاز اس سال یکم مئی سے ہو چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق گیارہ ستمبر کا اعلان امریکہ نے نائین الیون کی مناسبت سے کیا ہے۔ اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں موجودہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے صحافی انیس الرحمان نے بی بی سی کو بتایا ملک میں کشیدگی ضرور ہے اور افغان طالبان کی پیش رفت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے مختلف صوبوں میں اضلاع کے دیہی علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے اور ان میں بیشتر وہ علاقے ہیں جہاں طالبان پہلے سے موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کے فوجی بعض علاقوں میں پیچھے ہٹے ہیں اور اس سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مفاہمت کے تحت فوجیوں نے کچھ علاقے طالبان کے آنے پر خالی کیے ہیں تاکہ انسانی جانوں کا نقصان نہ ہو۔
انیس الرحمان نے بتایا کہ افغان فورسز کے پاس فضائی حملوں کی صلاحیت ہے لیکن موجودہ صورتحال میں منصوبہ سازوں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ جنگ کرنے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں اور حکومت اپنے شہریوں اور فوجیوں کا نقصان نہیں چاہتی، اس لیے اب تک کسی بھی علاقے سے کسی بڑے حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں کچھ حقیقتیں ہیں اور کچھ مفاہمتیں ہیں اور انھی پالیسیوں پر عمل ہو رہا ہے۔
انھوں نے بغلان کا ذکر کیا جہاں ننگرہار میں عمارتوں اور پلوں کا نقصان ہوا ہے لیکن افغان حکومت کو تحمل کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بعض اضلاع میں، جیسے لغمان صوبے کے دو اضلاع، کا کنٹرول طالبان نے حاصل کر لیا ہے اور ان اضلاع میں سرکاری دفاتر میں شہریوں کی دستاویزات کو آگ لگا دی گئی ہے جس سے شہریوں کا نقصان ہو رہا ہے اور اس طرح کے واقعات سے حالات کشیدگی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUS ARMY
اس کے علاوہ افغانستان میں ایک خوف کی فضا بھی پائی جاتی ہے۔ انخلا سے پہلے افغانستان میں کسی حد تک سیاسی سطح پراستحکام پیدا ہو گیا تھا، ترقیاتی کام جاری تھے اور ملک کو ایک سمت کا تعین ہو گیا تھا، لیکن اب مبصرین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ پھر سے نوے کی دہائی جانب جاتا ہوا نظر آ رہا ہے جب افغانستان میں مختلف دھڑوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔
بین الافغان مذاکرات کس نہج پر ہیں؟
قطر کے شہر دوحہ میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے نمائندگان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کے مطابق ان مذاکرات کے لیے وقت کا تعین ان کے فوکل پرسنز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ان مذاکرات کی تفصیل سامنے نہیں لائی جا رہی۔
ایک طرف یہ مذاکرات ہو رہے ہیں تو دوسری جانب افغانستان میں افغان طالبان اور افغان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟
افغانستان کے بارے میں عالمی سطح پر جیسی بھی پالیسی سامنے آتی ہے اس کے اثرات ہمسایہ ممالک خاص طور پر پاکستان پر ضرورت پڑتے ہیں۔
ادھر پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے مذاکرات کار 'امن عمل میں سہولت کاری' کے لیے پاکستان آتے ہیں اور پاکستان اُن کے ساتھ اسی مقصد کے لیے مل کر کام کر رہا ہے۔
افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ یہ تاثر عام ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی توجہ صرف ایک مخصوص دھڑے پر ہے لیکن ایسا نہیں ہے، بلکہ پاکستان سب کے ساتھ دوستی چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جب اُن سے پوچھا گیا کہ طالبان مذاکرات کار نے عوامی طور پر یہ کہا کہ وہ مشاورت کے لیے پاکستان جا رہے ہیں، ملّا عبدالغنی برادر کئی مرتبہ پاکستان آئے ہیں اور وہ کوئٹہ بھی جاتے رہے ہیں، تو اس پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایسا 'امن عمل میں سہولت کاری' کے لیے ہوا ہے۔
'وہ افغانستان میں ہیں۔ آپ کو اُن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہم مدد کرنے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'
امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدہ فروری 2020 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے ہوا تھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کا فیصلہ بھی ہوگیا تھا کہ کب کب کیا کچھ کیا جائے گا، یعنی قیدیوں کی رہائی، بین الافغان مذاکرات، افغانستان کے بارے میں کسی یورپی ملک میں مذاکرات اور غیر ملکی افواج کے انخلا کا ٹائم فریم تک طے کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو جب امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات جاری تھے تو اس کے بعد پاکستان کی سطح پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشنز اور قائدین کی ہلاکت کی وجہ سے تنظیم مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی لیکن پھر ان دھڑوں کو یکجا کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ اگست 2020 میں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار نے تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔
یہ دھڑے اپنے اپنے طور پر شدت پسندی کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس انضمام کے موقع پر بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ 'جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی اور حزب الاحرار کے امیر عمر خراسانی نے تحریک طالبان پاکستان کے امیر ابو عاصم منصور کے ساتھ ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتے ہوئے اپنی سابقہ جماعتوں (جماعت الاحرار اور حزب الاحرار) کے خاتمے کا اعلان کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ ان کی جماعتیں تحریک طالبان پاکستان کے شرعی اصولوں کی پابند ہوں گی۔
اس انضمام کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا جن میں سیکیورٹی فورسز پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات زیادہ ہوئے ہیں۔
افغانستان کے پاکستان پر اثرات کیا ہوں گے؟
ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ افغانستان میں حالات جب بھی کسی کڑوٹ لیتے ہیں اس کے اثرات پاکستان پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی بیشتر مبصرین اور تجزیہ کار اس بارے میں تو متفق ہیں کہ غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان پر بھی اس کے اثرات ہوں گے لیکن ان کی شدت کیا ہوگی اور کتنی حد تک کتنے علاقے متاثر ہو سکیں گے اس بارے میں متضاد رائے سامنے آ رہی ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور انسداد دہشت گردی کے امور کے ماہر محمد عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں تک افغانستان کی اندورنی صورتحال کا تعلق ہے وہ واضح ہے ان میں ایک اس کا ملٹری پہلو ہے اور اس میں طالبان نے کسی حد تک پیش رفت ضرور کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب اس کے سیاسی پہلو ہیں جو انتہائی پیچیدہ ہیں۔ اس میں افغانستان کے اندر ایک نیا فیکٹر سامنے آیا ہے جو مڈل کلاس اور سول سوسائٹی پر مشتمل ہے اور وہ عنصر بڑا اہم کردار ادا کر سکتا ہے کہ وہ کیسے نئے سیاسی منظر نامے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
عامر رانا کے مطابق پاکستان کے لیے جو سب سے بڑی فکر کی بات ہے وہ ملک کی اندرونی سیکیورٹی کی صورتحال ہو گی اور افغان طالبان کے پاکستان میں طالبان کے ساتھ جو تعلقات ہیں اور اس کے علاوہ افغان طالبان کے یہاں مدارس کے ساتھ روابط سے حالات پیچیدہ ضرور ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد امکان ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو اور اس کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں مختلف گروہ اپنی اپنی پوزیشن بھی مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کے مطابق افغانستان میں سب سے بڑا گروہ افغان طالبان کا ہے اور اب اس وقت طالبان کابل کے قریب اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں لیکن بظاہر ایسا نظر نہیں آتا کہ طالبان کابل پر حملہ کر سکیں گے۔
افغان طالبان کے علاوہ دیگر گروہ جیسے القاعدہ اور داعش سے تعلق رکھنے والے شدت پسند بھی انھی علاقوں میں متحرک ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا تھا جہاں تک پاکستان پر اس کے اثرات کا تعلق ہے تو پاکستان حکومت کی کوشش ہوگی کہ اس کے اثرات کم سے کم سامنے آئیں اور اس کے لیے گذشتہ پانچ سال سے اس کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں پاک افغان سرحد پر خار دار تار لگائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے قوانین ختم کرکے ان علاقوں کا انضمام صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ کر دیا گیا ہے جس کے بعد ملک کا قانون وہاں نافذ ہوگیا ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوگی۔
ان سے جب پوچھا کہ افغان طالبان کے تعلقات پاکستان طالبان سے بہتر رہے ہیں اور یہ ایک دوسرے کی حمایت کر سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان افغانستان میں اقتدار میں آتے ہیں یا نہیں یہ ابھی واضح نہیں ہے لیکن یہ بات معلوم ہے کہ افغان طالبان افغانستان کے ان علاقوں میں مضبوط ہیں جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان کی ان پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے جس کے تحت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہےاور بار بار افغان طالبان نے پاکستان طالبان کو تشدد کی کارروائیوں سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بریگیڈئیر محمود شاہ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے اندر تشدد کے جو واقعات پیش آتے ہیں ان میں بیشتر واقعات کے پیچھے مبینہ طور پر افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارت ملوث ہوتے ہیں اور اگر 'افغان طالبان مضبوط ہوتے ہیں تو یہ کارروائیاں نہیں ہو سکیں گی۔'
افغانستان کے پڑوسی اور دیگر ممالک کیا چاہیں گے؟
اس ساری صورتحال پر امریکہ، روس، چین، ایران، ترکی اور خاص طور پر پاکستان نظر رکھے ہوئے ہیں کہ حالات کیا کروٹ لیتے ہیں اور ایسی صورتحال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔
افغان صحافی انیس الرحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں تمام ممالک کی نظریں افغانستان پر ہیں اور بدلتے حالات کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔
تجزیہ کار محمد عامر رانا کا کہنا ہے موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار اہم ہوگا اور دیگر ممالک بھی پاکستان پر انحصار کیے ہوئے ہیں اور اس وقت تمام ممالک بشمول امریکہ، روس، چین، ترکی، ایران اور دیگر سٹیک ہولڈرز ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ افغانستان کے حالات دوبارہ نوے کی دہائی کی سطح پر پہنچ جائیں۔
محمد عامر رانا کا کہنا تھا کہ ترکی کی کوشش ہوگی کہ جو پوزیشن ترکی کی نیٹو کے اندر ہے، وہ پوزیشن مضبوط ہو اور چین کی کوشش بھی ہوگی کہ موجودہ حالات میں کسی اور ملک کی پوزیشن زیادہ مضبوط نہ جو اس ریجن میں چین کے لیے خطرہ بن سکیں۔
امریکہ کب آیا ، کیا کھویا کیا پایا؟
افغانستان میں امریکہ نے لگ بھگ دو دہائیوں تک جنگ لڑی ہے اور اس دوران امریکی اور نیٹو افواج نے متعدد کارروائیاں کیں۔ امریکہ نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ اس وقت امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد کیا تھا۔ بظاہر یہ حملہ القاعدہ اور افغان طالبان کے خلاف کیا گیا تھا لیکن اس حملے میں بڑے پیمانے پر افغان شہریوں کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
ان دو دہائیوں میں امریکہ کے کوئی 22000 فوجی حملوں کا نشانہ بنے میں جن میں 2400 ہلاک ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جنگ، تعمیر نو اور بحالی کے کاموں کے لیے امریکی کانگریس نے کوئی 144 بلین ڈالر کی رقم منظور کی تھی۔ اس امریکی حملے کے نتیجے میں افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ ایک منتخب حکومت قائم کر دی گئی تھی۔













