پاکستان کے ذریعے انڈیا افغانستان تجارت: ’ایسی کوئی پیشرفت نہیں‘

سرحد

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے زمینی راستے کے ذریعے افغانستان اور انڈیا کے درمیان تجارت بحال کرنے پر مذاکرات کے آغاز پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ بات بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے کہی۔

پاکستان کی جانب سے تردید افغانستان میں امریکہ کے سفیر جان باس کے اس دعوے کے بعد کی گئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے زمینی راستے کے ذریعے افغانستان اور انڈیا کے درمیان تجارت بحال کرنے پر مذاکرات کے آغاز پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

امریکی سفیر نے بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت پاکستان نے چند ماہ قبل انڈیا اور افغانستان کے درمیان تجارت کے لیے زمینی راستہ کھولنے کے حوالے سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان، انڈیا کو زمینی راستے کے ذریعے افغانستان سے تجارت کی اجازت نہیں دیتا اور اعتراض اٹھاتا ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ سے جڑے تکنیکی اور سٹریٹجک مسائل کو پہلے حل ہونا چاہیے۔

جان باس کا کہنا تھا کہ کچھ ماہ قبل پہلی مرتبہ پاکستانی حکومت نے اپنے زمینی راستے کے ذریعے انڈیا اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے اپنے افغان ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

افغانستان میں امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے اور دونوں سمتوں میں بڑھتی ہوئی تجارت سے وسطی اور جنوبی ایشیا میں تعلقات بہتر ہوں گے۔

افغان صدر اشرف غنی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے

انڈیا کے سابق سیکریٹری خارجہ سلمان حیدر نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے آج کل کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ حالات بہتر ہوں لیکن ’مجھے نہیں لگتا کہ اس (تجارت) بارے میں کوئی بڑا فیصلہ ہو چکا ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان نے بھی انڈیا سے تعلقات بہتر کرنے کا کہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کافی عرصے سے کچھ ہوا نہیں ہے تو امید ہے کہ کوئی پیش رفت ہو۔

ایک سوال کے جواب میں سلمان حیدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالات بہتر کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم ’یہ معاملہ کہاں تک پہنچا ہے اور کہاں تک پہنچ سکتا ہے اس بارے میں کہنا مشکل ہے۔‘

سیربین سے بات کرتے ہوئے انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتہ جنتا پارٹی کے ترجمان سید ظفر اسلام نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی جب وزیر اعظم بنے تو پڑوسی ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا جس کا مقصد پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنا تھا۔

’لیکن اگر آپ دیکھیں تو پاکستان نے دوستی کا ہاتھ دوستی سے نہیں ملایا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ حال ہی میں ایک امریکی اخبار میں خبر آئی تھی کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے انڈیا آرمی چیف کو خیر سگالی کا پیغام بھجوایا تھا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔