امید ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت پرامن جنوبی ایشیا کے لیے کام کرے گی: انڈیا

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا نے کہا ہے وہ امید کرتا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت جنوبی ایشیا میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ’کام‘ کرے گی۔

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم پاکستان کے عوام کی جانب سے عام انتخابات کے ذریعے جمہوریت پر اپنے بھروسے کے اظہار کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔‘

دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ ماضی کو بھلاتے ہوئے دونوں ممالک کے لیے خوشحال سیاسی، معاشرتی اور معاشی مستقبل کی نئی بنیاد رکھیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں 25 جولائی منعقد ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی ہے جبکہ عمران خان نے انتخابات کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے قیام کا عندیہ دیا تھا۔

انڈین وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی نئی حکومت محفوظ، مستحکم، ترقی یافتہ اور دہشت اور تشدد سے پاک جنوبی ایشیا کے قیام کے لیے تعمیراتی کام کرے گی۔‘

یہ بھی پڑھیں!

بیان میں کہا گیا کہ انڈیا خوشحال اور ترقی پر گامزن پاکستان چاہتا ہے جس کے ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات ہوں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلہ کمشیر سمیت دیگر علاقائی مسائل کے باعث کشیدہ حالات کی ایک تاریخ رہی ہے۔

جمعرات کو عمران خان نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی تھی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

عمران خان نے انڈیا کے نام پیغام میں کہا تھا کہ اگر غربت کم کرنا چاہتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کریں ۔۔۔ ہمارے ایشو میں سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے۔

'کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی۔ ہمیں چاہیے کہ میز پر بیٹھ کر مسئلے کو حل کریں۔ یہی الزام تراشیاں چلتی رہیں تو مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ تعلقات بہتر کریں۔ آپ ایک قدم اٹھائیں ہم دو قدم اٹھائیں گے۔ آپ قدم تو لیں۔'

دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے عمران خان نے بات کی ہے اور انھیں پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

اشرف کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے ماضی کو بھلاتے ہوئے دونوں ممالک کے لیے خوشحال سیاسی، معاشرتی اور معاشی مستقبل کی نئی بنیاد رکھیں۔

اشرف غنی نے عمران خان کو دورہ کابل کی دعوت بھی دی ہے۔