چین سری لنکا اقتصادی شراکت: پورٹ سٹی پراجیکٹ سری لنکا کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالے گا یا اسے عالمی معیشت سے جوڑے گا؟

سری لنکا، چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سری لنکا کی پارلیمان نے 20 مئی کو پورٹ سٹی اکنامک کمیشن بل منظور کیا تھا اور اس نئے قانون کے نفاذ کے ساتھ چین کی مالی مدد سے بنایا گیا کولمبو میں پورٹ سٹی کا علاقہ کچھ قومی قوانین سے مستثنیٰ ہو گا اور اس کے لیے بنائی گئی خصوصی دفعات کا اطلاق یہاں ہو گا۔

مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خصوصی اقتصادی زون میں سری لنکا انویسٹمنٹ بورڈ، اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میونسپل کارپوریشن کے قوانین لاگو نہیں ہوں گے۔

سری لنکا کے صدر گوٹابھیا راجپاکسے اور ان کے بھائی اور انتہائی قریبی ساتھی مہندا راجاپکسے کو امید ہے کہ نیا قانون غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں مدد کرے گا۔

تاہم اس حوالے سے اکثر افراد نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس نئے قانون کی وجہ سے ملک کی خودمختاری خطرے میں آ گئی ہے۔ ان خدشات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پورٹ سٹی منی لانڈرنگ اور دیگر مالی فراڈ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے اس قانون کو منظور کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے بارے میں رائے عامہ یا عوامی بحث کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

چین کو 99 برسوں کی لیز دی گئی

سری لنکا کے تجارتی دارالحکومت کولمبو میں 269 ہیکٹر کے ایک کیمپس میں پھیلا یہ منصوبہ چین ہاربر انجینیئرنگ کمپنی کی جانب سے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر مالیت میں تعمیر ہو گا۔

یہ کمپنی سرکاری سطح پر چلنے والی چین مواصلاتی تعمیراتی کمپنی لمیٹڈ (سی سی سی سی) کا ذیلی ادارہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) میں اس کا کردار ہے۔

چین، سری لنکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

269 ​​ہیکٹر پر مشتمل کل اراضی میں سے 116 ہیکٹر اراضی 99 برسوں کے لیے چین کی مواصلاتی تعمیراتی کمپنی لمیٹڈ (سی سی سی سی) کو لیز پر دی گئی ہے۔ یہ سری لنکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے، جس میں بڑے پیمانے پر معاشی، تجارتی اور رہائشی منصوبے شامل ہیں۔

نئے قانون کے مطابق پورٹ سٹی اب ایک خصوصی معاشی زون ہو گا۔ اس کا انتظام اب مقامی انتظامی ادارہ نہیں چلائے گا بلکہ اس کی ذمہ داری اس ضمن میں بنائے گئے معاشی کمیشن کی ہو گی۔

فروری 2020 میں سری لنکا کے ایک نجی گروپ کے اخبار ڈیلی مرر نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سنہ 2041 تک جب اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد ہو جائے گا تو اس سے ہر سال سری لنکا کے جی ڈی پی میں 11 اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کا فائدہ ہو گا۔

خیال رہے کہ حکومت نے حال ہی میں جو بل منظور کیا ہے وہ اس سال مارچ میں پارلیمان میں پیش کیا گیا تھا۔

ڈیلی مرر کی ایک خبر کے مطابق مجوزہ اقتصادی کمیشن کے پاس کئی اختیارات ہوں گے اور وہ پورٹ سٹی کو بین الاقوامی کاروبار کے مرکز کی حیثیت سے تیار کرنے کے لیے تمام فیصلے کرے گا۔

اخبار کے مطابق کمیشن کے پاس کاروباری سرگرمیوں کے لیے لائسنس کے اجرا سے لے کر 40 سال تک ٹیکس میں چھوٹ دینے کا حق بھی شامل ہو گا۔

پروجیکٹ چین ہاربر انجینئرنگ کمپنی

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

پورٹ سٹی چین کی کالونی بن جائے گا

اس بارے میں سامنے آنے والی مزید معلومات کے مطابق کمیشن کے اراکین کی تقرری سری لنکا کے صدر کریں گے اور اس علاقے میں بڑے قومی قوانین لاگو نہیں ہوں گے جبکہ پارلیمان کا بھی اختیار نہیں ہو گا۔

غیر ملکی سرمائے کو راغب کرنے کے لیے سری لنکن حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے لیے دی گئی ٹیکس مراعات کا دفاع کرتے ہوئے کابینہ کے شریک ترجمان، ادیا گامان پیلا نے 31 مارچ کو ڈیلی فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ ’پورٹ سٹی کو دبئی، ہانگ کانگ اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی مراکز سے مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا اس منصوبے کی مدد کرنا اہم ہے۔‘

تاہم اس اقدام کو حکومت کے اندر اور حزب اختلاف کی طرف سے دو بنیادوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ قانون سری لنکا کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالے گا۔

اس کے ساتھ ہی دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ملک کووڈ 19 وبا کے بحران کا سامنا کر رہا ہے تو ایسی صورتحال میں کسی قانون پر توجہ دینا درست نہیں۔

سری لنکا کی حکمران جماعت سری لنکا پڈوجانا پیرامونا (ایس ایل پی پی) کے رکن پارلیمان ویجے داسا راجا پاکسے نے اپریل میں میڈیا کو بتایا تھا کہ ’اس قانون کی وجہ سے پورٹ سٹی چینی کالونی بن جائے گا۔‘

کولمبو پیج نیوز ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ کمیشن چینی کمپنی کی ضروریات کے مطابق کام کرے گا اور ملک کے اندر لاگو بہت سے قوانین پورٹ سٹی میں لاگو نہیں ہوں گے۔‘

سری لنکا کے سابق وزیراعظم رانیل وکرما سنگھ نے بھی اس تشویش کا اظہار کیا کہ ’سری لنکن سنٹرل بینک کو پورٹ سٹی پر مکمل کنٹرول کیوں نہیں ملا؟ پورٹ سٹی کو سری لنکن پارلیمان کے کنٹرول سے کیوں ہٹا دیا گیا؟ اگر مناسب دفعات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو غیر قانونی دھن کا مرکز بن جائے گا۔‘

’آئین کی متعدد دفعات کی خلاف ورزی‘

اپریل میں سری لنکا کی سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی گئیں، جس میں اس بل کو آئینی بنیادوں پر چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست جمع کرنے والوں میں حزب اختلاف کے رہنما اور مشہور بدھ مت گرو اور گوتوبھیا راجپاکسا کے ساتھی موروٹھاٹھوے آنند آنند تھیرو بھی شامل ہیں، جنھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پورٹ سٹی کو چینی کالونی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

چین، سری لنکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سری لنکا کے وزیر قانون نے 18 اپریل کو ایسے الزامات کا جواب دیا۔ سری لنکا کے سرکاری اخبار ڈیلی نیوز کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’پورٹ سٹی مکمل طور پر سری لنکن ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار اس منصوبے پر راغب ہوں۔‘

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سری لنکا نے بھی اس قانون کو چیلنج کیا ہے۔ سائیکلون ٹوڈے اخبار کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سری لنکا نے کہا ہے کہ پورٹ سٹی کیس میں سری لنکا کے آئین کی متعدد دفعات کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس سے بدعنوانی، غیر قانونی پیسوں کی لین دین اور منی لانڈرنگ ہو گی۔

18 مئی کو سری لنکا کی پارلیمان کے سپیکر مہندا یاپا ابیورڈین نے سپریم کورٹ کی قراردادوں کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ کو کچھ دفعات آئینی شقوں کے مطابق نہیں لگیں لہٰذا عدالت نے کچھ تجاویز بھی دیں۔ ان قراردادوں کو قبول کرتے ہوئے حکومت نے ترمیم پر عمل درآمد کرنے کی بات کی۔

اس دن یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 19 اور 20 مئی کو اس قانون پر تبادلہ خیال اور رائے دہی کی جائے گی۔ اس کے بعد کووڈ 19 کی وبا کے پیش نظر 21 مئی کو ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

حزب اختلاف اور مذہبی رہنماؤں نے اس پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سنہالہ کے مشہور روزنامہ لنکا ڈاپی کی ویب سائٹ کے مطابق حزب اختلاف کے مرکزی رہنما لکشمن کیریلا نے پارلیمان میں کہا تھا کہ کووڈ 19 کے وقت اس طرح کا قانون پاس کرنا شرم کی بات ہے۔

سنہالا کے اخبار موبیما کے مطابق کولمبو کے آرچ بشپ کارڈنل میلکم رنجیت اور بدھ مت کے گرو ایلی گنونسا تارو نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بعد میں اس بل پر ووٹنگ کرائیں۔

لیکن حکومت کے منصوبے کے مطابق اس بل پر بحث ہوئی اور ووٹنگ ہوئی۔ حکومت کے حق میں 149 جبکہ حزب اختلاف میں 58 ووٹ پڑے۔

21 مئی کو اس بل کی منظوری کو سرکاری میڈیا میں ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا گیا جبکہ نجی ذرائع ابلاغ نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

سنہالا کے اخبار دینامینا کے مطابق ’کولمبو پورٹ سٹی سری لنکا کو عالمی معیشت سے جوڑنے کی ایک بہت بڑی کوشش ہے۔‘

نجی انگریزی اخبار آئس لینڈ نیوز پیپر نے لکھا کہ ’عوام کی اکثریت اور عدالتی منظوری کے بغیر کسی بھی قانون کو قابل قبول نہیں بنایا جا سکتا۔ آنے والے وقت میں اس قانون کو عوام کی عدالت میں دیکھا جائے گا اور آئندہ الیکشن میں اس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘

اسی دوران 26 مئی کو کولمبو پیج نے لکھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سری لنکا کے نئے قانون کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سری لنکا نے کہا ہے کہ ’جس جلدی میں یہ قانون منظور کیا گیا وہ لوگوں کے معلومات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ سری لنکا کے ممبران پارلیمان کو بھی اسے دیکھنے اور سمجھنے کے لیے اتنا وقت نہیں ملا۔ اگر ایسا ہوتا تو بہتر فیصلے ہوتے۔‘