اتراکھنڈ میں گلیشیئر پھٹنے سے ڈیم تباہ: 203 افراد لاپتہ، 14 ہلاکتوں کی تصدیق

ڈیم

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں ایک گلیشیئر کے ڈیم سے ٹکرانے کے بعد آنے والے شدید سیلاب کی زد میں آ کر کم از کم 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 203 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

حکام کی جانب سے اس واقعے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ تریویندرا سنگھ نے کہا ہے کہ اب تک 14 افراد کی میتیں مل چکی ہیں جبکہ مزید افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں یہ واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا جب ڈیم تباہ ہونے سے ایک قریبی گاؤں زیر آب آ گیا جس کے بعد اردگرد کے دیہات خالی کروا لیے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں سیلاب کے پانی کو علاقے میں داخل ہوتے اور تباہی پھیلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں رشی گنگا بجلی گھر کا منصوبہ تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جبکہ تپوانو ڈیم کو بھی خاصا نقصان پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ترویندر سنگھ روات نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ اب تک سات لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 125 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جب کی تلاش کی عمل جاری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جائے حادثہ سے 180 کے قریب بھیڑ اور بکریاں بھی پانی میں بہہ گئی ہیں۔

________________________________________________________________________

گلیشیئر پھٹنے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

نوین سنگھ کھڈکا

بی بی سی کے نامہ نگار برائے ماحول

اس دور دراز علاقے میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے، اس بات کا کوئی حتمی جواب تلاش کرنا آسان نہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔

گلیشیئر کے ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے اس حصے میں تقریباً ایک ہزار گلیشیئر ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر آئس بلاکس ٹوٹے جس نے ان کے اندر بڑی مقدار میں پانی چھوڑا اور اس وجہ سے برفانی تودہ گرنے سے پتھر اور مٹی نیچے آئی۔

گلیشیئرز کے ماہر ڈی پی دھوبل نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم انھیں ڈیڈ آئس کہتے ہیں کیونکہ وہ پیچھے ہٹنے والے گلیشیئرز سے الگ ہو جاتے ہیں اوران پر عام طور پر پتھروں کے ملبے کی تہہ ہوتی ہے۔'

’یہ ایک قوی امکان ہے کہ کیونکہ وہاں بڑی مقدار میں پتھر اور مٹی بہہ رہا تھا۔‘

کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ برفانی تودا گرنے کے بعد کسی برفانی جھیل سے ٹکرایا ہو گا جس کے پھٹنے کے نتیجے میں سیلاب آیا لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام پر کسی ایسے پانی کی اطلاع نہیں۔

ڈاکٹر دھوبل کہتے ہیں ’لیکن آپ کو کچھ معلوم نہیں کہ ان دنوں برفانی جھیلیں کتنی جلدی تشکیل پاتی ہیں۔‘

عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں تیزی سے پگھلنے والے گلیشیئرز کا مطلب یہ ہے کہ برفانی جھیلیں خطرناک حد تک پھیل رہی ہیں اور بہت ساری نئی جھلیں بن گئی ہیں۔

جب ان میں پانی کی سطح ایک خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہے تو وہ پھٹ جاتی ہیں اور انسانی آبادیوں اور انفراسٹرکچر کو بہا لے جاتی ہیں۔ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات اس خطے میں ہو چکے ہیں۔

ایک اور امکان یہ ہے کہ برفانی تودے یا لینڈ سلائیڈ نے کچھ دیر کے لیے دریا کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے پانی کی سطح میں اضافے کے بعد یہ پھٹ پڑا۔

سنہ 2013 میں کدرناتھ اور اتراکھنڈ کے متعدد علاقوں میں سیلاب کے بعد بھی ایسے کئی نظریات سامنے آئے۔

ڈاکٹر دھوبل کہتے ہیں ’لیکن ہم نے کچھ وقت بعد اس بات کی تصدیق کی کہ اس سیلاب کی بنیادی وجہ چھوراباری برفانی جھیل کا پھٹنا تھا۔‘

______________________________________________________________________________

اتراکھنڈ حکام نے کہا ہے کہ ڈھولی گنگا دریا میں سیلاب کی وجہ جاننے کے لیے ماہرین کو کام پر لگا دیا گیا ہے۔

امدادی سرگرمیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ترویندر سنگھ نے بتایا کہ ’ابھی تک ضرورت کے مطابق تمام وسائل دستیاب ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے لیے درکار ہیلی کاپٹر موجود ہیں جن کو ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے گا۔ ریسکیو ٹیمیں بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں۔‘

رشی گنگا پن بجلی پروجیکٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

دوسری جانب انڈو تبتن بارڈر پولیس کے ڈی جی ایس ایس دیسوال نے انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’امدادی کاموں کے دوران نو سے دس لاشیں نکالی گئیں ہیں۔‘

پولیس حکام کے مطابق تپوان کے مقام پر ایک سرنگ میں پھنسے 16 افراد کو بھی بچا لیا گیا ہے۔

دھولی گنگا دریا کے قریب رہنے والے سنجے سنگھ رانا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’یہ(سیلاب) اتنی تیزی سے آیا کہ کسی کو خبردار کرنے کا وقت ہی نہیں ملا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے محسوس ہوا کہ شاید ہم بھی بہہ جائیں گے۔‘

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر مملکت سے بات کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی نریندر مودی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’قوم وہاں موجود سب افراد کی سلامتی کے لیے دعا گو ہے۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں مدد کے لیے ملک کی فضائیہ کو تیار کیا جا رہا ہے۔

امدادی ٹیمیں

،تصویر کا ذریعہAFP

پڑوسی ریاست اترپردیش نے قریب کے کچھ علاقوں کو سیلاب کے لیے ہائی الرٹ کر دیا ہے تاہم اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار نے فیس بک پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 'سری نگر سے آگے دریا کا بہاؤ معمول پر ہے اور دیوپریاگ اور نچلے علاقوں کے لوگوں کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'پولیس پوری طرح سے امداد اور امدادی کاموں میں مصروف ہے'۔

واضح رہے کہ مغربی ہمالیہ میں واقع اتراکھنڈ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ یہاں سنہ 2013 میں مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب میں تقریباً 6000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔