شادی کی آٹھویں سالگرہ: انڈین شخص نے بیوی کو چاند پر تین ایکٹر کا پلاٹ تحفے میں دے کر حیران کر دیا

،تصویر کا ذریعہKOSINOCK JAIN
- مصنف, موہر سنگھ مینا
- عہدہ, صحافی، جے پور
انڈین ریاست راجستھان کے ضلع اجمیر سے تعلق رکھنے والی ایک کاروباری شخصیت دھرمیندر انیجا کا نام ان دنوں پورے ملک میں زیر گردش ہے۔
اور وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی اہلیہ سپنا کو چاند پر زمین کا مالک بنا دیا ہے۔
24 دسمبر کو اپنی شادی کی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر دھرمیندر نے اپنی اہلیہ کو چاند پر پلاٹ کا تحفہ دیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دھرمیندر انیجا نے بتایا کہ ’میں نے ایک سال پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ اگلی شادی کی سالگرہ کے موقع پر میں نے اپنی بیوی کو چاند پر زمین کا تحفہ دینا ہے۔ ایسا سرپرائز دینا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے میں نے بہت سی رکاوٹوں کو عبور کیا ہے۔ چاند پر زمین خریدنے کا خواب پورا ہو گیا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھرمیندر کہتے ہیں ’چاند پر زمین خریدنا آسان نہیں ہے، اگر یہ آسان ہوتا تو کوئی بھی اسے خرید سکتا اور تحفتاً دے دیتا۔‘
چاند پر زمین کہاں خریدی گئی ہے؟
دھرمیندر انیجا کی اہلیہ سپنا انیجا کا کہنا ہے کہ ’یہ تحفہ اتنا حیران کر دینے والا تھا کہ اسے حاصل کرنے کے بعد میں کئی مرتبہ خوشی سے رو پڑی۔ میں شاید دنیا کی خوش قسمت ترین خاتون ہوں جسے ایسا تحفہ ملا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں ’جب شادی کی سالگرہ کی تقریب کے دوران مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ اندازہ لگائیں کہ آپ کو کیا حیرت انگیز تحفہ ملنے والا ہے تو میں نے سوچا کہ کار، زیورات یا کوئی اسی نوعیت کی خاص چیز ہو گی۔ لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ چاند پر زمین کا اتنا خاص تحفہ ہو گا۔‘
چاند پر 14.3 شمالی عرض البلد 5.6 مشرقی طول البلد ، لیکٹ 20 پارسل 377 ، 378 اور 379 پر تین ایکڑ اراضی سپنا کے نام پر خریدی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKOSINOCK JAIN
دھرمیندر انیجا کون ہے؟
دھرمیندر انیجا اور سپنا انیجا اجمیر کے رہائشی ہیں۔ انھوں نے یہاں کے مقامی سکول اور کالج میں تعلیم حاصل کی ہے۔
گورنمنٹ کالج اجمیر میں دوران تعلیم ہی دونوں کی ملاقات ہوئی اور بعد ازاں شادی ہو گئی۔
شادی کے بعد دھرمیندر انیجا نے برازیل میں ٹور اور ٹریول کا بزنس شروع کیا۔ ان کے والدین اجمیر میں ہی رہتے ہیں۔
دھرمیندر انیجا پچھلے دس مہینوں سے اجمیر میں اپنے کنبہ کے ساتھ ہیں۔ ان کی ایک سات سالہ بیٹی ردھی بھی ہے۔
دھرمیندر کے والد رامدل انیجا ٹھیکیدار ہیں اور سپنا کے والد گیسولال ارنودیا ریٹائرڈ بینک منیجر ہیں۔
زمین خریدنے کے لیے درخواست
زمین کے کسی بھی حصے پر زمین خریدنے کے لیے ایک عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح چاند پر زمین خریدنے کے لیے بھی ایک طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
دھرمیندر انیجا نے چاند پر زمین خریدنے کے لیے تقریباً ایک سال قبل امریکی فرم میں درخواست دی تھی۔ درخواست قبول ہونے کے بعد کمپنی کے ساتھ متعدد بار ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے رابطہ منعقد کیا گیا۔
اس عمل کے دوران کمپنی کی جانب سے ان کی معاشی اور خاندانی حیثیت کی تحقیقات کی گئیں۔ دستاویزات کے حصول کے انتہائی طویل عمل سے گزرنا پڑا۔ اس سارے عمل کو قریب قریب ایک سال کا عرصہ لگا۔
دھرمیندر انیجا کا دعوی ہے ’بہت سی جعلی کمپنیاں ہیں جو چاند پر زمین حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ لیکن ’لونا سوسائٹی انٹرنیشنل‘ دنیا کی واحد کمپنی ہے جو چاند پر زمین حاصل کرنے یا اسے فروخت کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔‘
رائلٹی بھی ملے گی مگر۔۔۔
چاند پر دو طرح کی زمین دستیاب ہے۔ کچھ پلاٹس ایسے ہیں جن کی ملکیت خریدنے والے کے پاس صرف ایک برس ہی رہتی ہے جبکہ کچھ ایسے ہیں جن میں مالکانہ حقوق 49 سالوں تک خریدنے والے کے پاس رہتے ہیں۔
دھرمیندر انیجا کا کہنا ہے کہ انھوں نے 49 سالوں کے مالکانہ حقوق پر تین ایکڑ اراضی خریدی ہے اور اب انھیں یہ اراضی بیچنے یا کسی کو منتقل کرنے کا حق حاصل ہے۔
اس زمین کی خریداری کے دوران کیے گئے معاہدے کے تحت اگر چاند پر موجود ان کی زمین پر تحقیق کی جائے گی تو اس کی مد میں حاصل ہونے والی رائلٹی کے وہ حقدار ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہKOSINOCK JAIN
’مجھے بھی تقریب میں چاند کی طرح محسوس ہوا‘
سپنا انیجا کا کہنا ہے کہ 'جب مجھے چاند پر زمین کے کاغذات کا سرپرائز ملا تو مجھے بالکل چاند جیسا ہونے جیسا محسوس ہوا۔ میں بہت خوش قسمت ہوں۔'
دھرمیندر انیجا نے اپنی اہلیہ سپنا کو ان کی آٹھویں شادی کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تحفہ دینے کے بھی خصوصی انتظامات کیے تھے۔
انھوں نے یہ ذمہ داری اجمیر کے ’راشی انٹرٹینمنٹ اینڈ ایونٹس‘ کو سونپی تھی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ چاند پر زمین حاصل کرنے کا سرپرائز بھی چاند نما ماحول میں دیں۔
راشی انٹرٹینمنٹ کے ڈائریکٹر کوسینوک جین کا کہنا ہے کہ ’جب دھرمیندر انیجا نے رابطہ کیا اور کہا کہ میں نے چاند پر زمین خریدی ہے۔ مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی، مجھے یقین نہیں آیا۔ تب دھرمیندر نے مجھے 17 صفحات پر مشتمل دستاویزات دکھائیں جس کے بعد ہمیں حیرت ہوئی۔ پارٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔‘
وہ کہتے ہیں ’دھرمیندر ایک ایسے پروگرام کا اہتمام کرنا چاہتے تھے جس میں چاند پر موجود ہونے کا احساس ہو اور اس خواہش کے حصول کے لیے ہمیں بہت زیادہ تیاریاں کرنی پڑیں۔‘
پروگرام میں زمین سے چار فٹ تک فضا میں اٹھنے والے مصنوعی بادل ، چاند اور ستارے ایل ای ڈی لائٹس سے بنے تھے۔ تقریب میں موجود مہمان بھی اپنے آپ کو چاند پر موجود ہونے جیسا محسوس کرتے رہے۔












