ریاست آندھرا پردیش میں ’پراسرار‘ بیماری سے سینکڑوں بیمار، تحقیقات جاری

حکام کا کہنا ہے اب تک 500 مریضوں کو ہسپتال لایا گیا تھا جن میں سے 300 کو گھر واپس بھیج دیا گیا ہے اور 19 مریضوں کو بہتر علاج کے لیے شہر کے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنریاست کے وزیر اعلی جگموہن ریڈی نے ایلورو کے سرکاری ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی

انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ایلورو علاقے میں ماہرین ایک ایسی ’پراسرار‘ بیماری پر تحقیق کر رہے ہیں جس سے اب ایک افراد ہلاک اور سینکڑوں مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

مرکزی حکومت نے اس پراسرار بیماری کا پتا لگانے کے لیے فوری طور پر طبی ماہرین کی ایک ٹیم کو آندھرا پردیش بھیجا ہے۔

مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن پارلیمان نے بتایا ہے کہ ابتدائی ٹیسٹ کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ افراد کے خون میں ’سیسہ اور نِکل یا سفید دھات کی مقدار موجود ہے‘۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں متلی، دورے پڑنے اور بے ہوشی جیسی علامات دیکھی گئی ہیں۔

یہ پراسرار بیماری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈیا کورونا وائرس کی زبردست گرفت میں ہے۔ امریکہ کے بعد انڈیا کورونا سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

ریاست آندھرا پردیش کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ وہاں آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد کورونا کی زد میں آچکے ہیں اور وہ ملک کی تیسری سب سے متاثرہ ریاست ہے۔

سنیچر کو جن سینکڑوں مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی طبیعت بگڑنے کی وجہ کورونا وائرس نہیں ہے۔ ریاست کے وزیر صحت الا کالی کرشنا سرنیواس کا کہنا ہے کہ ان تمام مریضوں کا کورونا کا ٹیسٹ نیگیٹو یا منفی آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہسپتال
،تصویر کا کیپشنڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں متلی، دورے اور بے ہوشی جیسی علامات دیکھی گئی ہیں

ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کے خون کے نمونوں میں وائرل انفیکشن کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری حکام کا متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد ’ہم نے اس امکان کو مسترد کردیا ہے کہ گندہ پانی یا فضائی آلودگی اس بیماری کا سبب بنے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا ’یہ ایک پراسرار بیماری ہے۔ مریضوں کے خون کے نمونوں کے لیب میں جائزے کے بعد ہی یہ معلوم ہوگا کہ آخرکار یہ کیا بیماری ہے۔‘

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلمیان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے مقامی صحافیوں کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ دلی کی آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے ابتدائی بلڈ ٹیسٹ کا جائزہ لیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد کے ’خون میں سیسے، نِکل اور اس نوعیت کے دیگر مادوں کے نمونے ملے ہیں۔‘

مریض

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنایلورو وہ شہر ہے جہاں 'پراسرار' بیماری کے سب سے زیادہ مریض ہیں

انڈیا کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے نائب صدر وینکھیا نائیڈو نے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے ڈائریکٹر سے بات کی ہے اور انھوں نے بتایا کہ انسانی جسم میں زہر کے پھیلاؤ کو قابو کرنے والے طبی ماہرین ایلورو شہر کے ڈاکٹروں سے رابطے میں ہیں۔

ایلورو وہ شہر ہے جہاں 'پراسرار' بیماری کے سب سے زیادہ مریضوں کی تعداد سامنے آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 500 مریضوں کو ہسپتال لایا گیا تھا جن میں سے 300 کو گھر واپس بھیج دیا گیا ہے اور 19 مریضوں کو بہتر علاج کے لیے شہر کے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلی جگموہن ریڈی نے ایلورو کے سرکاری ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی ہے۔

طبی اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ توقع ہے کہ مزید تحقیق کے لیے عالمی ادارے صحت کے ماہرین بھی ایلورو پہنچنے والے ہیں۔

ریاست میں حزب اختلاف کی پارٹی تیلوگو دیسم نے معاملے کی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پراسرار بیماری کی وجہ آلودگی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام