حیدرآباد کی تاریخ: کیا واقعی اس تاریخی شہر کا نام بھاگیہ نگر تھا

بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ حیدرآباد کا نام تبدیل کرکے بھاگیہ نگر رکھ دیں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچار مینار کی ایک پرانی تصویر
    • مصنف, بالا ستیش
    • عہدہ, بی بی سی تیلوگو

بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ریاست حیدرآباد میں وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ ریاست کا نام تبدیل کر کے بھاگیہ نگر رکھ دیں گے۔

حال ہی میں حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے انتخابات میں کامیابی کے بعد حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔

ان انتخابات کے دوران اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سخت گیر رہنما آدتیہ یوگی ناتھ نے اپنے حامیوں کے ایک ہجوم کو بتایا کہ حیدرآباد کا نام اترپردیش کے شہروں کی طرح بدلا جاسکتا ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا ’کچھ لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر رکھا جاسکتا ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ یو پی میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے فیض آباد کا نام ایودھیا اور الٰہ آباد کا نام پریاگراج رکھ دیا۔ پھر حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر کیوں نہیں رکھا جاسکتا ہے۔‘

ان انتخابات میں بی جے پی کو اکثریت تو نہیں ملی ہے لیکن اس کی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان انتخابات کے بعد بی جے پی دوسرے نمبر پر ہے اور ریاست کی سب سے بڑی پارٹی ٹی آر ایس خود بھی اکثریت نہیں رکھتی ہے۔

اس صورتحال میں کیا حیدرآباد اور کے نام پر جو اب تنازع پیدا ہوگیا ہے کیا وہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا؟

عوام کے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا حیدرآباد کا نام کبھی بھاگیہ نگر رکھا گیا تھا؟ کیا بھاگی متی نام کی کوئی خاتون تھی جس کا بھاگیہ نگر سے کوئی تعلق تھا؟

تاریخ کی بہت سی کتابوں میں حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر ہے لیکن اس دوران اسے حیدرآباد کے نام سے جانے جانے کے ثبوت موجود ہیں۔

سنہ 1816 میں برطانوی شہری ایرون ایرو اسمتھ نے حیدرآباد کا ایک نقشہ تیار کیا تھا۔ اس نقشے میں حیدرآباد کا نام بولڈ یعنی واضح حروف میں لکھا گیا تھا۔ اس کے نیچے بھاگیہ نگر لکھا تھا اور ساتھ میں انہوں نے گولکنڈہ بھی استعمال کیا تھا۔

یعنی اس نے نقشے میں حیدرآباد کے لیے تین نام استعمال کیے ہیں: گولکنڈہ، حیدرآباد اور بھاگیہ نگر۔ یہ نقشہ نانی شیٹی شیریش کی کتاب 'گولکنڈہ، حیدرآباد اور بھاگیہ نگر' میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

ایسی صورتحال میں یہ جاننا بھی کم دلچسپ نہیں ہوگا کہ ان ناموں کا تعین کیسے کیا گیا۔ فی الحال جن دلائل کی بنیاد پر یہ کہا جارہا ہے کہ حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر تھا، ان کو تاریخ کی روشنی میں رکھ کر ہماری کوشش ہے کہ ہم ان سوالات کے جواب تلاش کریں۔

پرانا نقشہ

،تصویر کا ذریعہA SOUVENIR / YUNUS Y. LASANIA

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد اور کے نام پر جو اب تنازعہ پیدا ہوگیا ہے کیا وہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا؟

دلیل-1

بھاگیہ نگر کا نام بھاگیہ لکشمی کے مندر کے نام پر

بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے حامیوں کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے لیکن مورخین اس دلیل کو درست نہیں مانتے ہیں۔ ان مورخین کے مطابق حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے قریب کبھی کوئی بھاگیہ لکشمی مندر موجود نہیں تھا۔

ایک سینئیر اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چار مینار کے قریب مندر بنے ہوئے 30-40 سال ہوئے ہیں اس سے پہلے یہاں کوئی مندر نہیں تھا۔

پرانے زمانے کی تصویروں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ پرانی تصویروں میں چار مینار کے قریب کسی مندر کے آثار موجود نہیں ہیں۔

سنہ 1944 میں شائع ہونے والی کتاب ، ’حیدرآباد آ سوینیر‘ میں چار مینار کی ایک تصویر ہے اور اس میں کوئی مندر نہیں ہے۔ اس کتاب میں اس وقت حیدرآباد میں موجود مندروں کو ذکر ہے۔

لیکن اس میں چار مینار کے قریب کسی بھی مندر کا ذکر نہیں ہے۔ یہ کتاب 1922 میں پرنس آف ویلز کی حیدرآباد آمد کے موقع پر تیار کی گئی تھی تاکہ انھیں حیدرآباد کی تاریخ سے متعارف کرایا جاسکے۔ نیچے چار مینار کی تصویر 1944 میں شائع ہونے والے شمارے سے لی گئی ہے۔

چار مینار کی ایک پرانی تصویر

،تصویر کا ذریعہA SOUVENIR / YUNUS Y. LASANIA

،تصویر کا کیپشنتاریخ کی بہت سی کتابوں میں حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر ہے لیکن اس دوران اسے حیدرآباد کے نام سے جانے جانے کے ثبوت موجود ہیں۔

دلیل- 22

حیدرآباد میں متعدد باغات ہیں اس لیے باغ نگر

بعض لوگوں کا دعوی ہے کہ اس شہر میں بہت سے باغات ہیں لہذا اس کا نام باغ نگر تھا۔

اگرچہ باضابطہ طور پر اس شہر کا نام کبھی بھی باغ نگر نہیں رہا ہے۔ لیکن مورخ ہارون خان شیروانی اس دلیل کے حق میں تھےاور انہوں نے 1967 میں پہلی بار یہ دلیل دی تھی۔

اس دلیل کو سمجھنے کے لیے جین بیپیٹسٹے ٹیورنئیر( 1689-1605) کی لکھی ہوئی کتاب پر نظر ڈالنی ہوگی۔

ٹیورنئیر نے لکھا ہے کہ گولکنڈہ کا ایک نام باغ نگر بھی تھا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ شہر قلی قطب شاہ کی ایک بیوی کی خواہش کے مطابق بنایا گیا تھا جس کا نام 'نگر' تھا۔

اگرچہ ٹیورنئیر نے باغ کا مطلب تو صحیح سمجھا لیکن شہر کے معنی سمجھنے میں ان سے غلطی ہوگئی۔ اس کا ذکر وی فورس کی اس کتاب میں موجود ہے جو انہوں نے فرانسیسی زبان سے انگریزی میں ترجمہ کی تھی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ٹیورنئیر سے غلطی ہوگئی۔ ہارون خان کی دلیل کی بنیاد بھی ٹیورنئیر کی کتاب کے وہ حصے ہیں جس میں انہوں نے حیدرآباد میں پھیلے باغ اور باغیچوں کا ذکر کیا تھا۔ لیکن مورخ نریندر لوتھر اس دلیل کو خارج کرتے ہیں۔ نریندر لوتھر حیدرآباد میں ڈسٹرکٹ اہلکار یعنی ڈی ایم بھی رہ چکے ہیں .

دلیل-3

باغوں کے نام پر نہیں بھاگیہ متی کے نام پر شہر

متعدد تاریخ داں اس دلیل سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ سلار گنج میوزیم کی جانب سے شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں اس دلیل سے اتفاق کیا گیا ہے۔ مورخ نریندر لوتھر نے 23-1922 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’آن دا ہسٹری آف بھاگیہ متی‘ میں اس دلیل کی حمایت کی ہے۔

مؤرخ محمد قاسم فارستہ نے انڈیا میں مسلم حکمرانی کے عروج پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سلطان نے اپنی ایک خاتون بھاگیہ متی کو پسند کرنا شروع کردیا تھا۔ پہلے انہوں نے شہر کا نام بھاگیہ نگر اور بعد میں حیدرآباد رکھ دیا تھا۔ دوسری جانب شیخ اے فیضی نے لکھا ہے کہ سلطان نے اس شہر کا نام ایک پرانی چڑیل کے نام پر رکھا تھا۔

سنہ 1687 میں شائع ہونے والی کتاب ’دا ٹریلوز ان ان ٹو دا لیونٹ‘ میں ڈچ اہلکار جین دے تھیونوٹ نے لکھا ہے ’سلطنت کی دارالحکومت بھاگیہ نگر تھی، ایرانی لوگ اسے حیدرآباد کہتے تھے۔‘

17 ویں صدی میں ڈبلیو ایم مارلنڈ کی جانب سے تدوین کی جانے والی کتاب ’ریلیشنس آف گولکونڈا‘ میں لکھا ہے ’ہر برس اپریل کے مہینے میں بعض طوائفیں بھاگیہ نگر جاتی تھیں۔ وہاں وہ بادشاہ کے اعزاز میں رقص کرتی تھیں۔ یہ مجھے ایک عجیب بات لگتی تھی۔‘ کتاب کے فٹ نوٹ میں لکھا ہے کہ بھاگیہ نگر کا مطلب گولکنڈہ کا نیا دارالحکومت حیدرآباد ہے۔

نریندر لوتھر نے استدلال کیا کہ اگر باغ لفظ کا استعمال صحیح ہے تو اس شہر کا نام باغنگرم ہونا چاہیے۔ نریندر لوتھر نے اس دلیل کو صحیح ثابت کرنے کے لیے 16 ویں صدی کی کتاب نجومی باباجی پنتھلو کی کتاب ’رائے واچکم‘، کا حوالہ دیا ہے جس میں اس شہر کو بگنگرم بتایا گیا ہے۔ نریندر لوتھر کے مطابق رائے واچکم کی ایک کاپی ابھی بھی تامل ناڈو کی پڈوکوٹائی لائبریری میں موجود ہے۔

چارمینار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن۔ پرانی تصویروں میں چارمینار کے قریب کسی مندر کے آثار موجود نہیں ہیں

دلیل-4

بھاگیہ نگر ایک فارسی لفظ کا ترجمہ ہے

حیدرآباد 1591 میں وجود میں آیا۔ 1596 میں اس کا نام فرکھنڈا بنیاد رکھا گیا تھا۔ اس فارسی لفظ کا مطلب تھا ’لکی سٹی‘ یعنی بھاگیہ نگر۔

بعض افراد کی دلیل ہے کہ سنسکرت کے لفظ 'بھاگیہ' یعنی قسمت کا استعمال فرکھنڈا بنیاد کے لیے کیا جانے لگا۔ اس وجہ سے فارسی نام سے زیادہ سنسکرت و تیلوگو میں بھاگیہ نگر کا استعمال زیادہ ہونے لگا۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس میں کوئی بھاگیہ متی نامی خاتون تھیں؟ اگر ہاں، تو وہ کون تھی؟

بھاگیہ متی کے بارے میں تاریخی دعوے اور خیالی تصورات آپس میں اس قدر گھل مل گئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بات کی کافی شواہد موجود ہیں کہ ایسی ایک خاتون تھیں لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سارے ایسے شواہد اور دعوے بھی موجود ہیں ہیں جنہوں نے اس طرح کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔

ویسے بھاگیہ متی کے بارے میں سب سے مشہور کہانی یہ ہے کہ قطب شاہی خاندان کے پانچویں بادشاہ محمد قلی ایک ہندو لڑکی بھاگیہ متی سے محبت کرتے تھے۔

بھاگیہ متی چنچلم نامی ایک گاؤں میں رہتی تھی۔ اسی گاؤں میں موجودہ چارمینار کھڑا ہے۔ بھاگیہ متی سے ملنے کے لئے محمد قلی گولکنڈہ سےدریا عبور کرکے آتے تھے۔

چار مینار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس شہر کا نام کبھی بھی باغ نگر نہیں رہا ہے

ان کے ان سفر کو دیکھتے ہوئے ان کے والد ابراہیم نے موسی دریا پر 1578 میں ایک شاہرہ بھی بنوا دی تھی۔ 1580 میں قلی نے بھاگیہ متی سے شادی کی اور بھاگیہ متی کا نام بدل کر حیدر محل کردیا۔

اس کہانی کا عجیب و غریب پہلو یہ ہے کہ جب یہ پُل بنایا گیا تھا تو محمد قلی محض 13 برس کے تھے۔ اس لیے قلی کے لئے پل تعمیر کرنے کی بات درست نہیں لگتی۔ ان کی بھاگیہ متی سے مجبت اور ندی کے اوپر پل کی تعمیر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یہ دو ایسی باتیں ہوسکتی ہیں جن کی آپس میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ مورخین کے مطابق یہ پل گولکنڈہ قلعہ کو ابراہیم پٹنم سے جوڑنے کے لئے تعمیر کیا گیا تھا لیکن کسی طرح اس کا نام دونوں کی محبت سے جوڑ دا گیا۔

لیکن محبت کی اس کہانی میں بہت سارے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ملتے۔ کیا بھاگیہ متی ایک رقاصہ تھیں؟ یا وہ ایک عام عورت تھی؟ یا وہ ایک رکھیل تھی یا دیوداسی؟ کیا قلی نے اس سے شادی کی تھی؟ یا وہ دونوں ایک ساتھ رہتے تھے؟ اگر اس نام کی کوئی خاتون نہیں تھی تو کیا یہ صرف خیالی تصور ہے؟ کیا واقعی انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا تھا؟ کیا انہوں نے اپنا نام حیدر محل رکھا تھا؟

یا قلی انہیں پیار سے محل کہ کر بلاتے تھے؟ ان کی وفات کے بعد ان کی یاد میں کوئی مقبرہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہاں یہ دھیان میں رکھنے والی بات ہے کہ تارامتی کے لیے ایک مقبرہ تعمیر کیا گیا تھا۔ ایسے تمام سوالوں کے جواب نہیں ملتے ہیں۔ قلی کے درباری شاعر ملا وجہی نے بھی اپنی کتاب ''قطب مشتری'' میں بھاگیہ متی کی محبت کی کہانی کا ذکر ہے۔

اس کہانی کے مطابق شہزادہ قلی نے بھاگیہ متی کو خواب میں دیکھا تھا۔ نیند سے اٹھنے کے بعد وہ ان کی تلاش میں گئے اور انہیں بھاگیہ متی ملی ۔ ظاہر ہے کہ ایسی کہانیاں تاریخ کا حصہ نہیں ہیں بلکہ افسانوی کہانیاں ہیں۔

نریندر لوتھر نے پروفیسر مسعود حسین خان کے حوالے سے لکھا ہے کہ قلی کی نظموں ميں بھاگیہ متی کا بالواسطہ ذکر ہے۔ ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ بھاگیہ متی کی خواہش پر حیدرآباد شہر بنایا گیا تھا اور انہیں کے نام پر اس شہر کا نام حیدرآباد رکھا گیا۔

حیدرآباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبعض لوگوں کا دعوی ہے کہ اس شہر میں بہت سے باغات ہیں لہذا اس کا نام باغ نگر تھا

نیا شہر کیوں بسایا گیا؟

گولکنڈہ کا علاقہ کافی سمٹ گیا تھا تو نئے شہر کو بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ قلی کے والد ابراہیم نے گولکنڈہ قلعے سے 30 کلومیٹر مغرب میں جاکر ابراہیم پٹنم بسایا۔ یہ شہر آج بھی اسی نام سے موجود ہے۔ لیکن دوسرے شہر کی تعمیر کی ضرورت کیوں پڑی اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

بحرحال جب قلی نے شاہی اقتدار سنبھالا تو نئے شہر کی تعمیر ہوئی۔ انہوں نے اس شہر کی تعمیر کی ذمہ داری اپنے پیشوا میر مومن کو دی جو ایران کے اسپان شہر میں پلے بڑھے تھے۔

لحاظہ انہوں نے اپنے شہر جیسا شہر بنانے کی کوشش کی اور ایران سے ماہرین کو مدعو کیا اور انہیں شہر کی تعمیر کا کام سونپا۔

حیدرآباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد 1591 میں وجود میں آیا

چنچلم کیا ہے؟

آج جس جگہ چارمینار موجود ہے اس کے پاس کبھی چنچلم نام کا گاؤں ہوتا تھا۔ حیدرآباد کو اسی گاؤں کے آس پاس بنایا گیا تھا۔ آج اسے پرانا حیدرآباد کا شہر کہا جاتا ہے۔

تاہم مورخین کا خیال ہے کہ حیدرآباد کا نام بہت مختصر مدت کے لیے بھاگیہ نگر تھا۔ حیدرآباد کی تخلیق کے 12 سال بعد سنہ 1603 میں نئے سکے جاری کیے گئے تھے اور ان سکے پر واضح طور حیدرآباد کا نام لکھا ہوا ہے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ باضابطہ طور پر اگر حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر رکھا بھی گیا تو بہت ہی کم وقت کے لئے ہوتا۔

چار مینار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبھاگیہ متی کے بارے میں تاریخی دعوے اور خیالی تصورات آپس میں اس قدر گھل مل گئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔

اس سے متعلق اوربھی دلائل ہیں:

قطب شاہی شیعہ مسلمان تھے۔ پیغمبر محمد کے داماد علی کا دوسرا نام حیدر تھا اور ان کے نام پر ہی شہر کا نام حیدرآباد رکھا گیا۔ بیشتر مورخین کی بھی یہیرائے ہے۔

ایک دلیل یہ بھی کہ بھاگیہ متی نے اسلام کو قبول کرنے بعد اپنا نام حیدر محل رکھ لیا تھا۔ اس لیے شہر کا نام حیدرآباد رکھا گیا۔

بھاگیہ متی سماجی طور پر نچلے طبقے سے تعلق رکھتی تھیں اور ایک رقاصہ تھیں اس لیے قلی شاہ کو بعد میں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوا اور انہوں نے شہر کا نام بدل کر حیدرآباد رکھا۔

یہ بھی پڑھیے

حیدرآباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد 1591 میں وجود میں آیا۔ 1596 میں اس کا نام فرکھنڈا بنیاد رکھا گیا تھا۔ اس فارسی لفظ کا مطلب تھا 'لکی سٹی' یعنی بھاگیہ نگر

بعض افراد کے مطابق شعیہ اور سنی برادریوں کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے اس شہر کا نام حیدرآباد رکھا گیا۔

اس طرح کی تمام دلائل دی جاتی ہیں لیکن واضح معلومات موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر 15 سے 20 برس سے زیادہ وقت تک نہیں رہا ہوگا۔

نانی شیٹی شیریش کا کہنا ہے '' گولکنڈہ کے چار دروازیں ہیں۔ اس کے فتح دروازے کو پہلے بھاگیہ نگر دروازہ کہا جاتا تھا۔ ڈچ مسافر ڈینیل ہاورڈ نے 1692 میں اس بارے میں لکھا ہے۔

شیریش نے بی بی سی تیلوگو کو بتایا ’شہر کا نام گولکنڈہ تھا۔ بعد میں یہ بھاگیہ نگر بنا اور اس کے بعد حیدرآباد۔ پہلے اس کا جو بھی نام رہا ہو، اس بنیاد پر اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ درست نہیں ہے۔ مثال کے طور پر دلی کا نام پہلے شاہ جہان آباد تھا لیکن اب اس کا نام دلی ہے، کوئی اسے شاہ جہان آباد نہیں کہتا ہے۔ حیدرآباد کا نام کچھ وقت کے لیے بھاگیہ نگر ضرور تھا لیکن 20 سال سے بھی کم کے لیے۔۔ لوگ اب اسے حیدرآباد کے نام سے جانتے ہیں اور اسے حیدرآباد کہتے ہیں۔‘