ہندو نام 'پریاگ راج' لیکن یادیں الہ آباد کے نام سے ہی تازہ رہیں گی

آلہ آباد

،تصویر کا ذریعہAFP Contributor

71 برس پہلے تقسیم ہند کے وقت سرحد کی دونوں جانب ہجرت ہوئی تو انڈیا کے مختلف شہروں سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان کا رخ کیا لیکن آبائی شہروں کی یادوں کو آج تک نہیں بھول سکے جن میں ایک شہر آلہ آباد بھی شامل ہے۔

اب انڈیا کے اس مشہور شہر کا نام الہ آباد سے بدل کر ہندوؤں کے قدیم شہر کے نام پر 'پریاگ راج' کر دیا گیا ہے تاہم کسی شہر کو ہندو یا مسلمان تو کیا جا سکتا ہے کہ لیکن پرانے نام سے جڑی یادوں کو نہیں مٹایا جا سکتا۔

ایسی کی یادیں محمد سلیمان کی ہیں جنھوں نے سنہ 1948 میں تقریباً آٹھ سال کی عمر میں انڈیا سے پاکستان ہجرت کی تھی۔

اپنے آبائی شہر آلہ باد کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں ’ہمارے ہاں بریانی پکتی نہیں تھی، ہم پلاؤ کھاتے تھے۔۔۔۔ یہاں کراچی آ کر پتا چلا کہ بریانی بھی ہوتی ہے، وہ دہلی والوں کی ہوتی تھی۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

برِصغیر میں آزادی سے قبل کی کہانیاں سناتے ہوئے آلہ باد کے بارے میں محمد سلیمان نے بی بی سی اردو کے شجاع ملک کو بتایا کہ ’کوئی ایسی ہندو مسلم مناقشت نہیں تھی، ہمارے تایا پولیس میں ملازم تھے تو ان کے گھر پر جو محافظ ہوتے تھے وہ زیادہ تر ہندو ہی ہوا کرتے تھے۔ تو کبھی ہم نے ان سے ڈر یا خوف محسوس نہیں کیا۔‘

محمد سلیمان کہتے ہیں ’آلہ باد جو لکھا جاتا ہے وہ ہم لکھتے ہیں آ،ل، اور ہ۔۔۔ ہم جو اللہ لکھتے ہیں وہ مختلف ہے۔ ہندوؤں کے اوتار سے یا جو بھی رہے ہوں، ان کا نام تھا آلہ اودل اور یہ شہر ان ہی کے نام پر ہے۔ آباد جو ہے وہ مسلمانوں کا لگ گیا۔۔۔ بس اتنا قصور ہے اس کا۔ بہرحال ان کو اختیار ہے جو نام بھی رکھیں اپنے شہر کا۔‘

انڈیا کے کئی علاقوں سے ہندو مسلم کشیدگی کے اطلاعات ملتی ہیں لیکن محمد سلیمان کو اپنے شہر پر اس لیے بھی فکر ہے کہ وہاں کبھی رشتوں کے درمیان مذہب رکاؤٹ نہیں بنا۔

انھوں نے کہا کہ’آلہ باد میں ہندو مسلم فساد آج تک ہوئے ہیں۔ پنڈٹ جواہر لال نہرو اور ان کی بیٹی اندرا گاندھی ہمیشے آلہ باد سے ہی کھڑے ہوتے تھے اور کبھی انھوں نے وہاں جا کر انتخابی مہم نہیں چلائی کہ ہمیں ووٹ دو، ان کو ووٹ پھر بھی مل جاتے تھے۔‘

آلہ آباد

،تصویر کا ذریعہSANJAY KANOJIA

محمد سلمان کے خیال میں آلہ باد ان تنازع سے دور ہی رہا تھا۔ ’ہندو مسلمان فساد میرے شہر میں آج تک نہیں ہوا، اب ہو جائیں تو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔‘

خیال رہے کہ اتر پردیش ریاست کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ 2019 کے کمبھ میلے سے پہلے اس شہر کا نام تبدیل کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے اور منگل کو آلہ آباد کا نام بدل کر دیا گیا۔

اس پر حزب اختلاف نے اسے ہندو ووٹ بینک کی سیاست سے تعبیر کیا تھا اور اس کی مخالفت کی تھی۔

دلی سے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق کانگریس نے بھی بی جے پی کی حکومت کے فیصلے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ آلہ آباد کا نام بدلنے سے اس شہر کی تاریخ پر اثر پڑے گا۔ ان کا موقف ہے کہ اس شہر نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حزب اختلاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس مقام پر ہندوؤں کا کمبھ میلہ لگتا ہے اس کا نام پہلے سے ہی پریاگ راج ہے اور اگر حکومت نام بدلنا ہی چاہتی ہے تو وہ انھیں دو الگ الگ شہر بنا سکتی ہے۔

موجودہ آلہ آباد شہر مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے سنہ 1574 میں بسایا تھا۔ یہ شہر گنگا اور جمنا کے سنگم پر واقع ہے۔

کوشامبی اور پریاہگ کا قدیم نام ہندوؤں کی مقدس کتابوں میں آیا ہے اور اس کے مطابق یہ گنگا جمنا اور سروستی کے سنگم پر واقع تھا۔ سرسوتی دریا کا اب وجود نہیں ہے لیکن ہندوؤں کی دو مقدس ترین دریاؤں کے سنگم پر اب بھی ہر برس میلے لگتے ہیں۔

ایک برس قبل اتر پردیش کی حکومت نے ریاست کے مشہور ریلوے سٹیشن مغل سرائے کا نام بدل کر ہندوتوا کے ایک رہنما دین دیال اپادھیائے کے نام پر رکھ دیا تھا۔

مرکز میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد ملک کی تاريخ کے مسلم حکمرانوں کے ایک ہزار سالہ دور کو ہندو تہذیب و تمدن کے لیے ایک سیاہ دور کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ تاریخ کی نئی تشریح کی جا رہی ہے اور سبھی مسلم حکمرانوں کو ظالم، حملہ آور اور غا‏رت گر کے طور پر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہندوتوا کے اس نظریے کو پڑھے لکھے اور متوسط طبقے میں خاصی قبولیت حاصل ہے۔ نام بدلنے اور ماضی کے مسلم حکمرانوں کی علامتوں اور نشانات کو ختم کرنے جیسے اقدامت کو ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ تاریخ کی غلطیوں کو دور کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔