’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والی انڈین لڑکی کی ضمانت منظور کر لی گئی

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, صحافی، بنگولورو
انڈیا میں شہریت کے قانون کے متنازعہ قانون (سی اے اے) کے خلاف ریلی میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والی 19 سالہ لڑکی جن پر بغاوت کا الزام عائد کیا تھا، بنگلورو کی عدالت نے ان کی ’ڈیفالٹ ضمانت‘ منظور کر لی ہے۔
عدالت کے مطابق پولیس مقدمہ درج کرنے کے 90 دن کے اندر اندر چارج شیٹ درج کرنے میں ناکام رہی ہے اس لیے امولیہ لیونا نورونہا کی ضمانت منظور کی جا رہی ہے۔
بنگلورو کالج کی طالبہ، امولیا نیونا نورونہا نے نعرہ لگاتے ہوئے، اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی سمیت سب کو حیران کر دیا تھا۔ انھوں نے 'ہندوستان زندہ باد کا نعرہ' بھی لگایا تھا لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔
اسی بارے میں مزید پڑھیے
ان کے وکیل پرسانا آر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’رسمی کارروائی کل مکمل ہو گئی تھی جس کے بعد مجسٹریٹ آج ان کی رہائی کے آرڈر جاری کرنے والے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ایک آسان سا حکم نامہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھیں دوبارہ اس جرم کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے اور دوسروں کے علاوہ گواہوں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرناٹک میں ہونے والی سی اے اے مخالف ریلیوں میں احتجاج کے لیے آنے والے نوجوانوں میں امولیا نے خاصی مقبولیت حاصل کرلی تھی کیوں کہ وہ کناڈا زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی اچھی طرح سے تقریریں کر سکتی تھیں۔
امولیا کی گرفتاری کے بعد ایک طالبعلم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان مظاہروں میں نعرے لگانے اور تقاریر کے جذباتی انداز کے باعث سب انھیں پسند کرتے تھے۔
20 فروری کو جب انھیں فریڈم پارک کے جلسے میں تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا تو امولیا نے فورا ہی 'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ لگا کر تقریر کی شروعات کی اور اس کے فوراً بعد 'ہندوستان زندہ باد' کا نعرہ لگایا اور پھر ایسے ہی دوسرے ممالک کے نام لینے شروع کیے جو انھوں نےاپے فیس بک پر بھی پوسٹ کیے ہیں۔
16 فروری کی پوسٹ میں کیا لکھا تھا؟
’ہندوستان زندہ باد
پاکستان زندہ باد
بنگلہ دیش زندہ باد
سری لنکا زندہ باد
نیپال زندہ باد
افغانستان زندہ باد
چین زندہ باد
بھوٹان زندہ باد
جتنے بھی ملک ہیں سب زندہ باد۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ بچوں کو سکھاتے ہیں کہ قوم کا مطلب ہے وہاں کی سرزمین۔ لیکن ہم بچے آپ کو بتا رہے ہیں کہ قوم کا مطلب وہاں رہنے والے لوگ ہیں۔ تمام شہریوں کو بنیادی سہولیات ملنی چاہییں۔ سب کو اپنے بنیادی حقوق سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملنا چاہیے۔
حکومتوں کو اپنے شہریوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہر وہ ملک زندہ باد جو اپنے شہریوں کی ضروریات کا خیال کر رہا ہے۔
میں صرف زندہ باد کا نعرہ لگا کر کسی دوسری قوم کا حصہ نہیں بن گئی۔ قانون کے مطابق، میں ایک انڈین شہری ہوں۔ میرا فرض ہے کہ میں اپنی قوم کا احترام کروں اور ملک کے عوام کے لیے کام کروں۔ میں وہ کروں گی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ آر ایس ایس (ہندو تنظیم ) والے کیا کریں گے۔
سنگھیوں کو یہ پڑھ کر غصہ آئے گا۔ آپ اپنے تبصروں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ مجھے جو کہنا ہے وہ میں کہوں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن پاکستان زندہ باد سن کر سب حیران رہ گئے۔ ریلی کے مقبول مقرر اویسی نماز ادا کرنے کے لیے سٹیج سے باہر جا رہے تھے لیکن جیسے ہی امولیا نے نعرہ لگایا وہ فوراً سٹیج پر واپس گئےاور انھیں یہ کہتے سنا گیا کہ وہ اس طرح کی چیزیں نہیں بول سکتیں۔'
دوسرے منتظمین نے مائیک کو امولیا سے دور کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نعرے لگاتی رہیں۔ جلد ہی انھیں پولیس سٹیشن لے جایا گیا اور دوسروں کے ساتھ ان پر بھی ملک کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کر دیا گیا تھا۔
امولیا کی گرفتاری کے فورا بعد ہی چکماگالو میں ان کے گھر پر حملہ کردیا گیا اور کچھ افراد نے ان کے والد سے پوچھ گچھ کی تھی اور انھیں یہ کہنے پر مجبور کیا تھا کہ وہ امولیا کو گھر واپس نہیں آنے دیں گے۔
بی جے پی کے آرگنائزنگ سکریٹری بی ایل سنتوش نے ٹویٹ کیا: ’سی اے اے قانون کے خلاف اس مظاہرے کو دیکھیں، بنگلورو میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والی بائیں بازو کی کارکن۔۔۔ پاگل پن نے اس احتجاج کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ کہنے کا وقت آ گیا ہے کہ بس بہت ہو چکا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
امولیا کو 20 مئی کو رہا ہو جانا چاہیے تھا جو ان کی گرفتاری کے بعد ٹھیک 90 دن بنتے ہیں۔ لیکن کووڈ 19 کے باعث اس میں تاخیر ہوئی اور در حقیقت ان کی ضمانت کے لیے مجسٹریٹ کورٹ کا آرڈر اسی دن موصول ہوا جس دن سیشن عدالت نے ان کی ضمانت مسترد کردی تھی۔
سیشن کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا: ’اگر درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے تو وہ مفرور ہوسکتی ہیں یا پھر وہ اسی طرح کے جرم میں دوبارہ ملوث ہوسکتی ہیں جس سے بڑے پیمانے پر ملک کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘
لاک ڈاؤن نے ان کے وکیلوں کو ہائیکورٹ سے انصاف مانگنے پر مجبور کردیا کیونکہ سیشن عدالت نے ان کے مقدمے کی سنوائی کو اہم نہیں سمجھا۔
بعدازاں سیشن عدالت میں واپس جانے کے اندیشے کے سبب ان کے وکلا نے ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
پرسانا بتاتے ہیں 'لہذا ہم نے ہائی کورٹ سے درخواست واپس لے لی۔ اس دوران چونکہ 90 دن ختم ہوچکے تھے اس لیے ہمارے پاس سیکشن 167 (2) سی آر پی سی کے تحت مجسٹریٹ عدالت واپس جانے کا آپشن موجود تھا۔ ہم نے 26 مئی کو آن لائن پٹیشن منتقل کی۔ لیکن ان ای میلز پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ساتھ ہی ہم نے 29 مئی کو مقدمہ مجسٹریٹ کورٹ میں منتقل کر دیا۔'
ان کا کہنا تھا' 90 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد کا ہر دن غیر قانونی حراست ہے۔ 2014 میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس دن دفعہ 167 (2) کے تحت درخواست دائر کی جائے گی اسی دن اس کی سماعت ہونی چاہیے اور اسے نمٹا دیا جانا چاہیے۔ پولیس نے 3 جون کو چارج شیٹ داخل کی۔ اس کے بعد سماعتیں ہوئیں اور عدالت نے ضمانت کا حکم جاری کیا۔'












