اسد الدین اویسی: ’عمران خان آپ اپنے ملک کی فکر کریں‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER.COM/AIMIM_NATIONAL and Reuters
انڈیا میں مسلمانوں کے رہنما کہلائے جانے والے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ انڈین مسلمانوں کی نہیں اپنے ملک کی فکر کریں۔
اویسی نے کہا: 'ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے اور قیامت تک ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر رہے گا انشاءاللہ۔ ہم نے اسی وجہ سے پہلے ہی جناح کے غلط نظریے کو مسترد کردیا تھا۔'
ال آنڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی بنگلہ دیش کی ویڈیو کو اترپردیش کی بتائے جانے پر بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں ہندوستان کے مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے پاکستان میں سکھوں اور گردواروں پر حملے روکنے چاہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ANI
جنوبی ریاست تلنگانہ کے سنگاریڈی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا: 'میں پاکستان کے وزیر اعظم سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے وزیر اعظم! آپ ہندوستان کی فکر کرنا چھوڑ دیں، اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔۔۔ جناب عمران خان آپ کو اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیے۔۔۔ مسٹر خان! میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کبھی بھی ہمیں یاد نہ کریں۔۔۔'
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا: 'زمین پر کوئی طاقت ہماری ہندوستانیت اور ہماری مذہبی شناخت کو نہیں چھین سکتی کیونکہ ہندوستانی آئین نے ہمیں اس کی ضمانت دی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ کو ہماری بہت فکر ہے بھارت بھارت بھارت اور ان کو پاکستان پاکستان پاکستان۔' ان کا اشارہ بی جے پی کی جانب تھا جو کہ مبصرین کے مطابق پاکستان کے نام پر اپنی سیاست میں توانائی بھرنے کا کام کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AIMIM_NATIONAL
خیال رہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے نئے سال کی جو اپنی پہلی ٹویٹ کی وہ تو انھوں نے ڈلیٹ کر دی لیکن پھر اس کے بعد انھوں نے کم از کم دو ٹوئٹس کیں جن میں ہندوستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انھوں نے انڈین میڈیا نیوز 18 کی ایک خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'سفاک مودی سرکار کے مسلم کش ایجنڈے کے تحت ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے اور بھارتی پولیس بربریت کی نئی مثالیں قائم کر رہی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ImranKhanPTI
اس سے قبل انھوں نے دی ہندو اخبار کی ایک خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'انتہا پسند سفاک مودی سرکار ریاستی دہشت گردی پر اتری ہوئی ہے اور دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اقوام عالم آخر کب تک چپ سادھے مودی سرکار کی بربریت کا نظارہ کرتی رہیں گی۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ImranKhanPTI
مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں سیاست کا درجۂ حرارت پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات سے بڑھتا ہے۔ ہندوستان کی سیاسی جماعتیں اس کا استعمال کرتی ہیں اور اس کے شواہد بارہا دیکھے گئے ہیں۔
گذشتہ سال انڈیا کے عام انتخابات سے قبل انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدگی کا فائدہ بہت سے مبصرین کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی کو ملا جبکہ انڈیا میں حالیہ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں میں پولیس اہلکاروں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ 'پاکستان چلے جاؤ'۔ ان مظاہروں میں کم از کم دو درجن افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 20 سے زائد صرف اترپردیش میں ہوئے ہیں۔
بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے بہت سے اقدام سے ہندوستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور مایوسی ہوتی ہے کیونکہ انھیں اکثر پاکستان پہنچانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SHEHLA_RASHID
انڈیا کی سرکردہ ایکٹوسٹ شہلا رشید نے بھی عمران خان کی ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا: 'پاکستان اکثر جعلی ویڈیوز سے ہمیں مایوس کرتا ہے، حالانکہ ان مظالم کے خلاف بڑی تعداد میں اصل شواہد موجود ہیں۔'
انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف ملک کے گوشے گوشے میں مظاہرے جاری ہیں جبکہ عدالت عظمی میں اس کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کی گئی ہیں جن پر سماعت 22 جنوری کو ہوگی۔








