ارنب گوسوامی: ممبئی ہائی کورٹ نے ارنب گوسوامی کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, مایاک بھاگوت
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
ممبئی ہائی کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے جمعے کو کیس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ارنب نے عبوری ضمانت کی اپیل کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔
بدھ کو ممبئی پولیس نے انہیں ایک انٹیریئر ڈیزائنر انوے نائک کو خود کشی پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں علی باغ کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
پولیس نے ریمانڈ کے لیے اپیل کی تھی لیکن عدالت نے پولیس ریمانڈ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے ارنب گوسوامی کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔
پولیس سنہ 2018 میں ارنب کے خلاف ممبئی میں مبینہ طور پر ’خود کشی پر اکسانے‘ کے الزامات کے تحت درج کیے گئے ایک مقدمے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو ممبئی پولیس نے ارنب گوسوامی کو ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔
علی باغ کی ضلعی عدالت میں کیا ہوا؟
بدھ کی دوپہر ایک بجے ارنب گوسوامی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت کے اندر داخل ہونے کے بعد ارنب گوسوامی نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان پر تشدد کیا ہے۔ عدالت نے ارنب گوسوامی کے طبّی معائنے کا حکم دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
حکم کے مطابق معائنہ ہوا اور انھیں دوبارہ عدالت کے روبرو لایا گیا۔ ڈاکٹرز کی جانب سے کیے جانے والے معائنے کی رپورٹ کو بھی دیکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہSATISH BATE / HINDUSTAN TIMES VIA GETTY IMAGES
سماعت کے دوران ڈیڑھ گھنٹہ طبّی رپورٹ اور دوبارہ کی جانے والی جانچ پڑتال میں لگا۔
اس کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ تشدد کے الزامات کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ بادی النظر میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔
جب ارنب گوسوامی عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے ان سے کہا کہ ’سیدھے کھڑے نہ ہوں اور عجیب و غریب اشارے/ حرکات و سکنات نہ کریں‘۔
عدالت کی تنبیہ کے بعد ارنب سکون سے بیٹھ گئے۔ اس سے پہلے عدالت میں داخل ہوتے ساتھ ہی وہ چیخیں مار رہے تھے اور دعویٰ کر رہے تھے کہ پولیس نے انھیں مارا ہے۔
ان کے رشتہ دار اس دوران ریکارڈنگ کر رہے تھے۔
حکومتی وکیل نے ان کو پولیس کی تحویل میں دینے کا مطالبہ کیا۔
عدالت نے کہا کہ پولیس کے حوالے کرنے کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے لیکن پولیس وہ پیش نہیں کر سکی ہے۔ اس لیے عدالت نے انھیں پولیس کے حوالے کرنے کی اپیل کو مسترد کر دیا اور تینوں ملزمان ارنب گوسوامی، فیروز شیخ اور نتیش سرادا کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔
ان کے وکیل گوریو پارکر نے صحافیوں کو عدالت کے باہر بتایا کہ جوڈیشل ریمانڈ کا حکم ان کے موکل کی بڑی کامیابی ہے۔
ارنب گوسوامی کے خلاف کیس کیا ہے؟
یہ کیس 53 سالہ انٹیریر ڈیزائنر کی خودکشی کے بعد درج کیا گیا تھا۔ خود کشی سے قبل تحریر کیے گئے اپنے ایک خط میں انٹیریر ڈیزائنر نے الزام عائد کیا تھا کہ ارنب گوسوامی نے انھیں ریپبلک نیٹ ورک سٹوڈیو کی انٹیریر ڈیزائنگ کے عوض معاوضہ ادا نہیں کیا تھا، جس پر وہ دلبرداشتہ تھے۔
لائیو لا کے مطابق ممبئی پولیس نے ارنب گوسوامی کو آئی پی سی کی دفعہ 306 کے تحت گرفتار کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ارنب گوسوامی نے الزام لگایا ہے کہ ممبئی پولیس نے اُن کی گرفتاری کے موقع پر اُن کے علاوہ اُن کے اہلخانہ کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی کی۔
گرفتاری پر ردعمل
برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور کابینہ کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڑیکر نے ارنب گوسوامی کے خلاف ہونے والی کارروائی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس بات نے انھیں ’ایمرجنسی کے دنوں کی یاد دلا دی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’ہم ممبئی میں پریس کی آزادی پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ پریس کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ اس سے ایمرجنسی کے دنوں کی یاد آتی ہے جب پریس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا تھا۔‘
ریپبلک ٹی وی چینل کے کچھ سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں جن میں پولیس ارنب گوسوامی کے گھر میں داخل ہوتی نظر آرہی ہے اور ہاتھا پائی بھی ہوتی نظر آ رہی ہے۔
چینل پر چلائی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پولیس ارنب گوسوامی کو وین میں بیٹھا رہی ہے۔
ارنب گوسوامی کی گرفتاری کے بعد سے انڈیا کے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت سے ٹرینڈز چل رہے ہیں۔
بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے ارنب گوسوامی کی حمایت کی اور ان کی ’گرفتاری‘ پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’پپو پرو [راہل گاندھی کے حامی] کو غصہ کیوں آتا ہے؟ پینگوئنز کو غصہ کیوں آتا ہے؟ سونیا سینا کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے؟ اظہار رائے کی آزادی کی خاطر ارنب سر انھیں اپنے بال کھینچنے اور تشدد کرنے دیں۔ ہم سے پہلے جو عظیم لوگ ہوئے وہ ہنستے ہوئے تختہ دار پر چڑھ گئے۔ آزادی کا قرض چکانا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@KanganaTeam
بی جے پی کے مرکزی وزرا نے اس گرفتاری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیر قانون جے شنکر پرساد نے متواتر کئی ٹویٹس میں ارنب گوسوامی کی گرفتاری پر سخت تنقید کی جبکہ ریلویز کے وزیر پیوش گویل نے بھی اس پر مہاراشٹر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جبکہ مہاراشٹر میں برسر اقتدار شو سینا کے رہنما اور رکن پارلیمان سنجے راؤت نے کہا ہے کہ اس سے مہاراشٹر حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مہاراشٹرا کی حکومت کبھی بھی انتقام کے جذبے کے تحت کارروائی نہیں کرتی ہے۔ مہاراشٹر میں قانون کی حکمرانی ہے۔ یہاں کوئی انتشار نہیں ہے۔ پولیس پروفیشنل ہے۔ اگر ان کے پاس تحقیقات کا مقدمہ ہے اور اگر ان کے ہاتھوں میں کوئی ثبوت ہے تو پولیس کسی کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے۔‘












