کابل یونیورسٹی حملہ: ’اس سال جنگ نے مجھ سے بہت سارے دوست چھین لیے، آخر یہ سب کب رُکے گا‘

کابل

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, خدائے نور ناصر
    • عہدہ, بی بی سی پشتو

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیر کے روز کابل یونیورسٹی پر ہونے والے حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں اور اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرتے ہوئے اس حملے میں ملوث اپنے دو جنگجوؤں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

دیگر کئی طلبہ کے ساتھ رقیہ بھی پیر کے روز کابل یونیورسٹی میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئیں۔

اُن کی بچپن کی دوست زوہال کو یہ خبر اس وقت ملی جب رقیہ کی نماز جنازہ بھی ادا کر دی گئی تھی اور اُن کی تدفین ہو رہی تھی۔

زوہال احد بی بی سی کی کابل میں رپورٹر ہیں اور رقیہ اور ان کے درمیان بچپن کی دوستی تھی اور اس وقت بیتے ہوئے لمحات انھیں آج بھی یاد ہیں۔ اُن کے مطابق رقیہ سے اُنھوں نے بچپن میں رقص کرنا سیکھا تھا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

’وہ انتہائی خوش مزاج تھیں۔ ہم نے بچپن ایک محلے میں گزارا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے اس وقت رقص کرنا اُنھوں نے ہی سکھایا تھا۔ پھر 15 سال پہلے ہم جدا ہو گئے تھے اور پھر شاذ و نادر ہی ملاقات ہوتی تھی۔‘

زوہال کے مطابق اُن کی ملاقاتیں اب اکثر اوقات شادی بیاہ کے تقاریب میں ہی ہوتی تھیں اور رقیہ سے اُن کی آخری ملاقات کورونا سے پہلے ایک شادی کی تقریب میں ہوئی تھی۔

آخری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے زوہال کہتی ہیں کہ اُس ملاقات میں رقیہ کے ساتھ اُن کے کام کے بارے میں بات چیت ہوئی۔

’رقیہ کو میری بی بی سی جاب کے بارے میں پتا چلا تھا تو وہ بہت خوش تھی اور مجھے کہہ رہی تھی کہ مجھے آپ پر فخر ہے۔‘

اس سے پہلے ایک ٹویٹ میں زوہال احمد نے رقیہ کی خون میں لت پت تصویر بھی شئیر کی تھی۔

زوہال نے اس تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ ’رقیہ میری بچپن کی دوست اور رشتہ دار تھی۔ میں نے سنا کہ وہ بھی آج کے حملے میں ہلاک ہوئی اور بعد میں نے اُس کی تصویر دیکھی۔ اُس کی نوٹ بک پر اُس کی لاش۔۔۔ اس سال جنگ نے مجھ سے بہت سارے دوست چھینے۔ آخر یہ سب کب رکے گا؟‘

کابل

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AhadZuhal

یقین نہیں آ رہا کہ زندہ کیسے بچ گئی

کابل یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کی ایک اور طالبہ شبنم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی حملے کے وقت یونیورسٹی میں موجود تھیں۔

’ہم نے پہلے فائرنگ کی آواز سنی تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں خودکش حملہ آور گھس آئے ہیں۔ ہمیں وہاں سے فوراً نکلنے کے لیے کہا گیا لیکن جب ہم باہر جانے کے لیے کسی دروازے کی طرف جاتے تو اُسے بند کردیا جاتا تھا۔ بعد میں ایک دروازہ ملا اور ہم اپنے کئی کلاس فیلوز کے ساتھ باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔‘

طالبہ شبنم کے مطابق وہ کئی گھنٹوں کے بعد گھر پہنچیں تاہم انھیں گھر پہنچنے کے بعد بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے زندہ بچ گئیں ہیں۔

کابل یونیورسٹی میں سکیورٹی کے متعلق بات کرتے ہوئے شبنم کہتی ہیں کہ یونیورسٹی میں داخل ہوتے وقت کوئی تلاشی نہیں ہوتی اور صرف یونیورسٹی کے کارڈز چیک کیے جاتے ہیں۔

’میں خود بھی صحافت کی طالبہ ہوں تو سچ بتاؤں گی اور سچ یہ ہے کہ ہر روز آتے وقت ہمارے بیگز کی تلاشی نہیں ہوتی، صرف کارڈز دیکھے جاتے ہیں اور وہ بھی دور سے۔‘

کابل یونیورسٹی

،تصویر کا ذریعہWAKIL KOHSAR

حملہ آوروں نے یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کر دی

کابل یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم صدیق اللہ ثمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے حملہ آوروں کو یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا اور انھوں نے داخل ہوتے ہی طالب علموں پر فائرنگ شروع کی۔

’ہماری کلاس ختم ہونے کے بعد ہم کچھ عرصے کے لیے دھوپ میں کھڑے تھے کہ اچانک حملہ آور یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ حالانکہ وہ ہم سے دور تھے، لیکن ہم نے اُنھیں داخل ہوتے اور فائرنگ کرتے دیکھا۔‘

صدیق اللہ ثمر کے مطابق حملہ آوروں نے یونیورسٹی میں قانون کے ڈپارٹمنٹ کا رخ کیا اور ہلاک ہونے والے طلبہ میں سے زیادہ تر کا تعلق اسی ڈپارٹمنٹ سے ہے۔

صدیق اللہ کا کہنا ہے کہ بعض طالب علم یونیورسٹی سے بھاگتے وقت بھی زخمی ہوئے کیونکہ اُن کے مطابق ہزاروں طالب علم ایک جگہ یونیورسٹی کے دروازوں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔