کابل حملہ: ’جب آپ افغانستان میں صحافت کرتے ہیں تو کوئی اچھی خبر نہیں ہوتی‘

کابل

،تصویر کا ذریعہSTR

    • مصنف, مینہ بکتاش
    • عہدہ, بی بی سی افغان سروس

بی بی سی افغان سروس کی سینیئر مدیر مینا بغتاش کہتی ہیں ’میرے لیے بطور ایک افغان جو جنگ اور ظلم کوور کرتی ہے، یہ ایک انتہائی حیران کن واقعہ تھا۔‘

’آپ کبھی سن نہیں ہوتے۔‘

مینا بغتاش کئی سالوں سے افغانستان میں جنگ کی رپورٹنگ کر رہی ہیں اور اگرچہ اس میں ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، اس ہفتے اس کہانی میں ظلم کی ایک نئی انتہا دیکھی گئی۔

دارالحکومت کابل میں مسلح حملہ آوروں نے ایک ہسپتال پر حملہ کیا جس میں بچوں اور خواتین سمیت چودہ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ہسپتال میں موجود میٹرنیٹی وارڈ میں گھسنے کے بعد وہاں خواتین اور بچوں پر فائرنگ کی جس میں دو نوزائیدہ بچے، گیارہ مائیں اور متعدد نرسیں ہلاک ہوئیں۔

اب تک 16 افراد زخمی ہیں اور اس حملے کی اب تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مینا بغتاش اور ان کے بی بی سی کے ساتھیوں نے منگل کی صبح لندن اور کابل میں اس حملے کی رپورٹنگ میں گزاری۔ وہاں سے آنے والے مناظر انتہائی دل خراش تھے۔

وہ کہتی ہیں ’ان میں ایک ویڈیو ایک فوجی کی تھی جس سے مجھے ساحل پر پہنچنے والی ایک پناہ گزین بچے کی لاش کی تصویر یاد آ گئی۔‘

’اس میں ایک فوجی ایک نوزائیدہ بچے کو اٹھائے ایمبولنس میں لے جا رہا تھا۔۔۔ اس بارے میں بات کرنا بھی آسان نہیں۔۔۔‘

کابل

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکابل حملے میں ہلاک ہونے والوں کی لواحقین ہسپتال کے باہر اشکبار نظر آ رہی ہیں

کابل میں حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے شروع ہوا۔ قریب میں لوگوں کو دو دھماکوں کی آواز آئی اور پھر فائرنگ کی۔ اس حملے میں بچ نکلنے والے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب حملہ ہوا تو ہسپتال میں 140 کے قریب لوگ تھے۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان سپیشل فورسز نے تقریباً 100 خواتین اور بچوں کو بچایا۔ اس کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری لڑائی میں تینوں حملہ آور جو کہ پولیس کی وردیاں پہن کی ہسپتال میں داخل ہوئے تھے، تینوں مارے گئے۔

مینا کہتی ہیں ’ہمیں نہیں معلوم کہ میٹرنیٹی وارڈ میں گھس کر نئی ماؤں اور نوزائیدہ بچے پر گولیاں برسانے والوں کے ذہن میں کیا چل رہا ہوتا ہے۔ مجھے اس کی سمجھ نہیں آتی۔‘

’یہ بہت برا ہے‘

اس حملے کہ تھوڑی دیر بعد ہی ایک اور کہانی سامنے آئی۔ صوبہ ننگرہار کے ضلع شیوہ میں ایک سابق پولیس اہلکار کی نماز جنازہ میں ایک خود کش حملے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے۔

شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ حملہ ایک سابق پولیس اہلکار کی نماز جنازہ میں ہوا۔

مینا کہتی ہیں کہ ’مسجد میں ہلاک ہونے والوں میں نوجوان لڑکے تھے۔‘

’ایک دم سے پورا ملک خون میں نہا گیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سب کے لیے ایک مشکل وقت ہے مگر کل ایک افسوس ناک دن تھا۔‘

اس سال کے آغاز میں فروری 2020 میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد امیدیں بڑھ رہی تھیں۔

مگر طالبان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات مسائل میں پڑ گئے ہیں۔

مگر منگل کے حملوں سے پہلے بھی امن ایک خواب ہی تھا۔

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد طالبان نے ’فتح‘ کا جشن منایا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد طالبان نے ’فتح‘ کا جشن منایا تھا

’ ہمیں لوگوں کو اس کو بھولنے نہیں دینا چاہیے۔ ہمیں اس پر توجہ دلانی چاہیے۔ میٹرنیٹی وارڈ پر حملہ، ماؤں، نرسوں، اور نوزائیدہ بچوں کو مارنا۔۔۔ یہ سب برداشت کے قابل نہیں ہے۔‘

’اپ کابل میں لوگوں سے بات کرتے ہیں تو لوگ پریشان ہیں۔ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ لوگ مر رہے ہیں۔ نوجوان مر رہے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹے اور بیٹیاں کھو رہی ہیں۔ اور اب نوزائیدہ بچے۔‘

تاہم منگل کے روز ہونے والے دونوں حملوں سے طالبان نے لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ کابل اور ننگرہار میں ہونے والے حملوں سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند تشدد میں کمی نہیں آنے دے رہے۔

مینا بغتاش صحافیوں کی ایک ایسی ٹیم کی ذمہ دار ہیں جو اکثر انتہائی مشکل حالات میں کام کر رہے ہوتے ہیں، اور اب انھیں کورونا وائرس کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ان میں سے سب کے ساتھ رابطے میں رہوں اور یہ دیکھوں کے وہ ان مشکلات کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس پہلے سے ہی پریشان افغانوں کے لیے ایک نئی پریشان ہے۔ وبا سے پہلے ہی بہت سے لوگوں کے لیے کام تلاش کرنا مشکل تھا۔

مینا کہتی ہے کہ افغانستان دنیا کے نازک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ ’یہاں جتنی غربت ہے اس کے لیے ہمارے پاس شماریات ہی نہیں ہے۔‘

اُدھر صوبہ بلخ میں افغان حکام نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی فضائی کارروائی میں کم از کم گیارہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں، جو اُن کے مطابق سکیورٹی فورسز پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

تاہم افغان طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے عام لوگ تھے۔ منگل کو بلخ ہی میں اس واقعے کے خلاف درجنوں لوگوں نے مظاہرہ بھی کیا تھا۔

مینا کہتی ہیں کہ منگل کو مقامی خبروں کے بلیٹن ان کے لیے تشدد کی طرح تھا۔ ’پہلے ہسپتال حملے کی خبریں، پھر ننگہار حملے کی خبریں اور پھر شمال میں فضائی حملہ۔‘

’افعانستان میں صحافت کرتے ہوئے کوئی ایک معاملہ نہیں ہوتا۔ کوئی اچھی خبر نہیں ہوتی۔‘

’آپ کا دل کرتا ہے کہ آپ آنکھیں اور کان بند کریں اور خبروں سے دور چلے جائیں۔ مگر صحافی ایسا نہیں کر سکتے۔ آپ کو کہانی سنانی ہے۔‘