کابل دھماکہ: افغانستان کے دارالحکومت میں تعلیمی مرکز پر خود کش حملہ، کم از کم 24 افراد ہلاک

Kabul

،تصویر کا ذریعہReuters

افغانستان کے حکام کے مطابق سنیچر کو دارالحکومت کابل کے ایک تعلیمی مرکز کے باہر ایک خود کش بم حملے میں کم از کم 24 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے مطابق یہ خود کش حملہ سنیچر کی شام کو ایک نجی تعلیمی مرکز کے باہر ہوا جہاں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔

کابل میں واقع اس تعلیمی مرکز کی عمارت میں اکثریت شیعہ مسلمان طلبا کی ہے جن کی عام طور یہاں تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے۔ دھماکے کے متعدد زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کابل دھماکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے تسلیم نہیں کی ہے۔ طالبان نے بھی اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ حکام کو اس حملے میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود کش حملہ آور نے اس تعلیمی مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

ترجمان کے مطابق وہاں پر موجود سکیورٹی گارڈز نے اس حملہ آور کو شناخت کر لیا جس کے بعد اس نے اپنے آپ کو باہر گلی میں ہی دھماکے سے اڑا دیا۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے رواں برس ستمبر میں افغان طالبان اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے تحت ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں دونوں فریقین کی جانب سے دہائیوں سے جاری تشدد اور ایک دوسرے پر حملوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ایک مقامی شحض علی رضا نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے وہ طلبا ہیں جو اس تعلیمی مرکز کی عمارت میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ علی رضا کا کہنا ہے کہ وہ دھماکے کی جگہ سے 100 میٹر دوری پر کھڑے تھے اور وہ دھماکے کی آواز سن کر وہ زمین پر گر گئے۔

ایسی پرتشدد کارروائیاں طالبان اور افغان حکومت میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ امریکہ کی طویل جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد افغان شہریوں کے حوف میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

افغانستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ جیسی شدت پسند تنظیموں اور سنی انتہا پسند گروہوں کی طرف سے شعیہ مسلم آبادی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ گروپ شیعہ مسلمانوں کی عبادات کو شریعت کے رستے سے بھٹکی ہوئی راہ سمجھتے ہیں۔

اس سے قبل بھی اس طرح کے شدت پسند گروہ شیعہ مسلمانوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

اگست 2018 میں جب کابل میں ایک ٹیوشن سینٹر پر حملہ ہوا تو اس میں آٹھ لوگ ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تعداد کم عمر افراد کی تھی۔ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مئی میں کابل کی ایک ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ میں نامعلوم مسلح افراد نے گھس کر فائرنگ کی تھی جس میں 24 خواتین سمیت بچے بھی ہلاک ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے خود کش حملے کی مذمت

پاکستان نے کابل میں تعلیمی مرکز کے باہر ہونے والے دہشتگردی کے حملے کی مذمت کی ہے۔

پاکستانکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس واقعے کو غیر انسانی اور قبیح فعل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں معصوم جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا مانگی ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر صورت کی قطعی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔