آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین ریلوے کو ایک مسافر لڑکی کے لیے 535 کلومیٹر تک راجدھانی ایکسپریس کیوں چلانی پڑی؟
تین اور چار ستمبر کی درمیانی شب فوٹو جرنلسٹس بڑی تعداد میں رانچی ریلوے سٹیشن پر جمع تھے۔ یہاں کچھ ریلوے پولیس کے افسر اور اہکار بھی موجود تھے۔
صحافیوں کے اس مجمعے میں رانچی کے علاقے دھروا کے رہائشی مکیش چوہدری بھی اپنے بیٹے امن کے ہمراہ وہیں کھڑے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کا انتظار کر رہے تھے جو راجدھانی ایکسپریس سے واپس آ رہی تھیں۔
رات پونے دو بجے کے قریب کہیں ٹرین کے ہارن کی آواز سنائی دی، ٹرین کے انجن کے برقی قمقمے نے پلیٹ فارم کو روشن کیا اور یوں راجدھانی ایکسپریس کی آمد ہوئی۔
کچھ ہی لمحوں میں ٹرین پلیٹ فارم پر رک گئی اور لوگوں نے کوچ نمبر بی 3 کی جانب دوڑ لگا دی جس میں انانیہ چوہدری بیٹھی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انانیہ کے والد مکیش چوہدری پہلے بوگی میں داخل ہوئے اور جب باہر آئے تو ان کے ہمراہ ان کی بیٹی بھی تھیں۔
انانیہ کو دیکھتے ہی تمام کیمرے فلیش کرنے لگے اور فوٹو جرنلسٹس نے خوب تصاویر اتاریں۔ ساتھ ہی مکیش چوہدری نے سامان اٹھایا اور اپنی بیٹی اور بیٹے کو ہمراہ لیے سکوٹر پر گھر کو روانہ ہو گئے۔
یہ سب ہوا کیوں؟
دراصل رانچی پہنچنے والی اس ٹرین میں انانیہ چوہدری ہی اکلوتی مسافر تھیں جنھوں نے دلتونگنج سے رانچی تک کا 535 کلومیٹر کا سفر اکیلے ہی طے کیا۔
ایسا رانچی ریلوے ڈویژن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی ٹرین صرف ایک ہی مسافر کے ساتھ اتنا طویل سفر طے کر کے آئی ہو۔ تاہم اس دوران ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کا ایک جوان لڑکی کی حفاظت پر معمور رہا۔
تو کیا صرف انانیہ نے ہی راجدھانی ایکسپریس کی ٹکٹ خریدی تھی؟ اس کا جواب ہے، نہیں۔
اس ٹرین میں کل 930 مسافر تھے جن میں سے 929 کو دلتونگنج سٹیشن پر اتار دیا گیا۔ ریلوے کی جانب سے تمام مسافروں کے لیے رانچی کے لیے بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔
تاہم انانیہ نے بس کے ذریعے سفر کرنے سے انکار کر دیا اور جب بارہا سمجھانے کے باوجود بھی وہ نہ مانیں تو انھیں ایک متبادل راستے سے رانچی پہنچایا گیا جس میں 15 اضافی گھنٹے صرف ہو گئے۔ یہ وجہ تھی کہ رانچی ریلوے سٹیشن کے باہر ایک ہجوم موجود تھا۔
یہ مسئلہ پیدا کیوں ہوا؟
ہوا کچھ یوں کہ موہنداس کرم چند گاندھی کو اپنا آئیڈیل ماننے والے تانا بھگت اپنے کچھ مطالبات منوانے کی غرض سے توری جنکشن کے نزدیک رانچی-دلتونگنج ریلوے ٹریک پر دھرنا دیے بیٹھے تھے جس کے باعث اس ٹریک سے ٹرینوں کی آمدورفت ممکن نہیں تھی۔
یہی وجہ تھی کہ راجدھانی ایکسپریس کو دلتونگنج سٹیشن پر روکا گیا تھا۔ انانیہ کی آنکھ صبح ساڑھے دس بجے کے قریب اپنے والد کی کال سے کھلی کی تو اس وقت ٹرین رکی ہوئی تھی۔
اس کے بعد کا قصہ جاننے کے لیے ہم نے انانیہ چوہدری سے رابطہ کیا اور ان کی زبانی یہ روداد جانی۔
’یہ لڑائی میں اپنے لیے نہیں نظام کے لیے لڑ رہی تھی‘
انھوں نے بتایا کہ 'میں اوپر والی برتھ پر سو رہی تھی اس لیے جب ٹرین رکی تو مجھے پتا نہیں چل سکا۔ میں نے اپنے والد کو نیند میں ہی بتا دیا کہ ٹرین تاخیر سے رانچی پہنچے گی کیونکہ اس وقت یہ کہیں رکی ہوئی ہے۔ اس وقت ایک عمر رسید انکل نے کہا کہ ٹرین کچھ دیر سے نہیں پانچ گھنٹے سے یہاں رکی ہے تو میں حیران رہ گئی۔'
'نیچے اتری تو دیکھا کہ ٹرین دلتونگنج سٹیشن پر کھڑی ہے اور توری میں ٹریک بند ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مجھے اس لیے بھی حیرت تھی کہ مغل سرائے میں ہی یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ ٹرین متبادل راستے سے رانچی جائے گی تو پھر ٹرین پرانے راستے سے ہی دلتونگنج کیسے پہنچ گئی؟ میرے اس سوال کا جواب کسی اہلکار کے پاس نہیں تھا۔'
انانیہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وزیرِ ریلوے کو ٹویٹ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا۔ اور پھر 12 بج کر 50 منٹ پر ایک اور ٹویٹ کیا۔ تب تک دوسرے مسافر پلیٹ فارم پر اتر کر ہنگامہ کرنے لگے تھے۔
انانیہ کے مطابق کچھ گھنٹوں بعد ریلوے اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ ٹرین احتجاج کے باعث آگے نہیں جا پائے گی اس لیے رانچی تک پہنچنے کے لیے مسافروں کے لیے بسوں کا انتظام کر لیا گیا ہے۔
انانیہ کہتی ہیں کہ 'تمام مسافر بس کے ذریعے سفر کرنے پر آمادہ ہو گئے لیکن میں اڑ گئی۔ میں نے کہا کہ اگر میں نے ٹرین کا کرایہ بھرا ہے تو میں یہ سفر بھی ٹرین کے ذریعے ہی طے کروں گی۔ '
انھوں نے بتایا کہ 'ریلوے کے حکام نے پہلے مجھے منانے کی کوشش کی۔ پھر مجھے ڈرایا۔ مجھ سے میرے گھر والوں کے فون نمبر مانگے تاکہ ان سے رابطہ کر سکیں۔ میں نے کہا کہ جب ٹکٹ میں نے خریدا ہے تو بات بھی میں ہی کروں گی۔
'اب میں ٹرین میں اکلوتی مسافر رہ گئی تھی۔ حکام نے مجھے ٹیکسی کے ذریعے گھر جانے کی پیش کش بھی کی لیکن میں نہیں مانی کیونکہ یہ لڑائی میں اپنے لیے نہیں نظام کے لیے لڑ رہی تھی۔'
انانیہ کہتی ہیں کہ چند گھنٹوں بعد ریلوے کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ ٹرین رانچی برستہ گایا-گومو جائے گی۔ اس میں زیادہ وقت لگے گا۔ کیونکہ میں ٹرین میں اکلوتی مسافر تھی اس لیے ایک آر پی ایف کا جوان میری حفاظت کی لیے ٹرین میں موجود تھا۔
'شام چار بجے ٹرین دلتونگنج سے روانہ ہوئی اور برستہ گومو رانچی پہنچی۔ میری ٹویٹ کے جواب میں ریلویز کی جانب سے دھنبد شہر کے ڈویژنل ریلوے مینجر کو شام سات بجے ٹیگ کیا گیا۔ تب تک ٹرین گومو کی جانب گامزن تھی۔
'یہ وہ ریلوے کا نظام ہے جو میرے نزدیک غلط ہے۔'
انانیہ چوہدری کون ہیں؟
انانیہ رانچی کے علاقے دھروا کی رہائشی ہیں اور بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں قانون کی طالبہ ہیں۔
ان کے والد ہیوی انجینیئرنگ کارپوریشن (ایچ ای سی) میں کام کرتے ہیں۔ انانیہ نے اپنی والدہ کو چھوٹی سی عمر میں کھو دیا تھا۔
انانیہ بتاتی ہیں کہ 'رانچی میں گریجوایشن تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے بی ایچ یو سے قانون پڑھنے کا فیصلہ کیا اور یہ عہد کیا کہ کسی بھی غلط بات کی ہر قیمت پر مخالفت کرنی ہے۔'
ریلوے حکام کا کیا مؤقف ہے؟
رانچی ریلوے ڈویژن کے سینیئر ڈی سی ایم اونیش کمار نے میڈیا کو بتایا کہ 'راجدھانی ایکسپریس کو رانچی ہر صورت آنا تھا کیونکہ ٹرین کی واپسی یہیں سے ہونی تھی اور لوگوں نے ٹکٹ بھی لے رکھی تھیں۔ ریلوے کی جانب سے مسافروں کو بسوں کی سہولت اس لیے دی گئی تھی کیونکہ متبادل راستے سے رانچی پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔'
اونیش کمار کے مطابق 'انانیہ چوہدری بس سے سفر کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں اس لیے وہ ٹرین سے آئیں۔ ہمارے نزدیک اس میں ایک مسافر کے لیے ٹرین چلانے جیسی کوئی بات نہیں ہے۔'