ایم ایل ون منصوبہ: خستہ حال ریلوے لائن پاکستان کی تقدیر کیسے بدل سکتی ہے؟

    • مصنف, عمردراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان میں 150 سال پرانی ریلوے لائن اپنے ہاتھ میں معاشی ترقی کی ان گنت کنجیاں رکھتی ہے مگر اپنی 73 سالہ تاریخ میں پاکستان ان میں سے ایک بھی حاصل نہیں کر پایا۔ کراچی سے پشاور تک جانے والی 1800 کلومیٹر سے زیادہ طویل مین ریلوے لائن ایک یا ایم ایل ون اسے وراثت میں ملی لیکن آج تک پاکستان نہ تو اس میں کوئی خاطر خواہ اضافہ کر پایا اور نہ ہی کوئی بہتری لائی جا سکی۔

پاکستان ریلوے کے افسران کہتے ہیں کہ 'بس اتنا ہے کہ کسی نہ کسی طرح ڈرائیور ان پٹڑیوں پر سے ٹرین کو گرنے نہیں دیتے۔'

دنیا میں جہاں ٹرینوں کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر چکی ہے، ایم ایل ون پر ریل گاڑی بمشکل 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے اور وہ بھی کہیں کہیں۔ اس کی رفتار اوسط 65 کلومیٹر اور کہیں 15 کلو میٹر فی گھنٹہ تک گر جاتی ہے۔

اس ریلوے لائن پر روزانہ ایک سمت میں صرف 34 ریل گاڑیاں چلتی ہیں جبکہ کسی بھی ریلوے کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار یعنی مال گاڑیاں سالانہ محض آٹھ ملین ٹن سامان اٹھا سکتی ہیں۔ ملک کی کل مال برداری میں ریل کا حصہ صرف چار فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایم ایل ون کی پٹڑیاں جن سو سالہ پرانی بنیادوں پر بچھی ہیں وہ اس سے زیادہ رفتار اور وزن دونوں برداشت نہیں کر سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریلوے مسلسل نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔

تاہم اگر 1872 کلومیڑ طویل اسی ایم ایل ون کی صلاحیت کو بڑھا دیا جاتا یا اب بھی بڑھا دیا جائے تو یہ نا صرف ریلوے بلکہ پاکستان کی تقدیر کو آنے والے برسوں میں یکسر بدل کر رکھ سکتی ہے۔

چین کے تعاون سے اب ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستانی حکومت نے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن یعنی بہتری کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ یہ منصوبہ سی پیک یعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چھ اعشاریہ آٹھ ارب امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے ساڑھے آٹھ سال میں مکمل ہو گا۔

ایم ایل ون منصوبے کو پاکستان کے لیے ایک 'گیم چینجر' تصور کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل پر کراچی اور لاہور کے درمیان فاصلہ صرف 10 گھنٹے میں طے ہو گا جبکہ لاہور سے اسلام آباد پہنچنے میں صرف ڈھائی گھنٹے لگیں گے۔

پاکستان ریلوے کی ترجمان اور ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز قرۃ العین نے بی بی سی کو بتایا کہ منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد مال بردار گاڑیاں سالانہ 35 ملین ٹن سامان اٹھا سکیں گی اور مال برداری میں ریلوے کا حصہ حالیہ چار فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سمت میں روزانہ چلنے والی ریل گاڑیوں کی تعداد 34 سے بڑھ کر 171 ہو جائے گی جبکہ کراچی سے روزانہ آنے اور جانے والی مسافر ٹرینوں کی تعداد 40 سے بڑھ کر 80 ہو جائے گی۔

'اس منصوبے سے پاکستان ریلوے اپنا وہ خواب پورا کر پائے گا جس میں وہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح جدید خطوط پر ریل کو چلائے۔ اس کے بعد پاکستان میں ریل کے مسافروں کی تعداد ساڑھے پانچ کروڑ سے بڑھ کر دس کروڑ ہو جائے گی۔'

ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کو تو فائدہ ہو گا مگر اس سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کا کیا تعلق ہے؟ اس منصوبے کو گیم چینجر کیوں کہا جا رہا ہے اور چین کا اس میں کیا مفاد ہے؟

ایم ایل ون ہی کیوں اور اس وقت کیوں جبکہ پاکستان میں دو مین لائنیں اور بھی ہیں؟ ایسے سوالوں کے جواب جاننے کے لیے پہلے اس فرسودہ نظام پر نظر ڈالنا ضروری ہے جس کے تحت پاکستان میں ریل اس وقت چل رہی ہے۔

ایم ایل ون کتنی پرانی ہے؟

پاکستان میں سی پیک کے تحت ایم ایل ون منصوبے کے سابق ٹیم لیڈر اشفاق خٹک کہتے ہیں کہ 'میں سلام پیش کرتا ہوں ان ریل بانوں اور ریل سے منسلک افراد کو جو آج بھی اس لائن پر نا صرف مسافر بلکہ مال بردار ریل گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ یہ ان کی ہمت ہے۔'

اشفاق خٹک پاکستان ریلوے کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور جنرل مینیجر رہ چکے ہیں اور اس نظام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایم ایل ون انیسویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔

اس کا پہلا حصہ سنہ 1861 میں کراچی سے کوٹری تک بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد ملتان سے لاہور اور آگے لالہ موسیٰ کو ملایا گیا۔ سنہ 1884 میں لالہ موسیٰ سے پشاور تک لائن بچھائی گئی۔

ملتان اور کوٹری کے درمیان ایک خلا تھا تاہم اس کو دریا پر کشتیوں اور مال بردار فیری کے ذریعے پورا کیا جاتا تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں اس حصے پر بھی ریلوے لائن بچھا دی گئی تھی۔

ایم ایل ون انگریز نے کیوں بنائی تھی؟

سنہ 1947 میں یہی نظام پاکستان کو ورثے میں ملا جو کراچی کو لاہور اور پشاور سے ملاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ روہڑی سے کوئٹہ اور تفتان، لاہور سے واہگہ اور لنڈی کوتل سے طورخم تک پہنچتی تھی۔

اشفاق خٹک کے مطابق ایم ایل ون بنیادی طور پر راج برطانیہ کی دفاعی ضروریات کے پیشِ نظر بنائی گئی تھی جو کمرشل لائن سے زیادہ سٹریٹیجک ریلوے لائن تھی۔

'میرے خیال میں اس میں کمرشل حصہ صرف وہ تھا جو کھیوڑہ سے لالہ موسیٰ اور وہاں سے لاہور سے ہوتا ہوا انڈیا کی طرف جاتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ دفاعی ضروریات کو پورا کرتی تھی۔ وہ ضروریات آج بھی ہیں تاہم ریل پر انحصار کم ہو گیا ہے۔‘

پاکستان نے اس میں کتنا اضافہ کیا؟

اشفاق خٹک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج بھی ریل کا نظام وہی ہے جو تقسیم کے وقت ملا تھا۔

'ہم نے اس میں جو اضافہ کیا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ مردان سے چارسدہ تک ایک چھوٹی سی لائن بنائی ہے اور پھر کشمور میں ایک لائن ہے جو آگے ڈیرہ غازی خان اور جیکب آباد کو ملاتی ہے۔ اس کے علاوہ کھوکھراپار میں ایک ریلوے لائن کو میٹر گریڈ سے براڈ گریڈ میں تبدیل کیا گیا ہے۔‘

سی پیک کے ریلوے منصوبوں اور ایم ایل ون کے حالیہ ٹیم لیڈر بشارت وحید کے مطابق تقسیم کے وقت جو پاکستان کو ریلوے لائن ملی تھی اس میں ڈبل ٹریک صرف کراچی سے لودھراں تک 800 کلومیٹر تھا۔

گذشتہ دس سے پندرہ برسوں میں لودھراں سے لاہور تک ٹریک کو ڈبل کیا گیا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ بشارت وحید کے مطابق 'ہم دیکھ بھال کے ذریعے اتنا کرتے رہے ہیں کہ بحفاظت اس ٹریک پر ریل گاڑی چلائی جا سکے لیکن ہم اس پر نہ تو رفتار بڑھا سکے اور نہ ہی سفر کو آرام دہ کر پائے۔'

پاکستان میں ریل کا سفر تیز رفتار، منافع بخش کیوں نہیں؟

سی پیک ٹیم لیڈر پاکستان ریلوے بشارت وحید کے مطابق اصل مسئلہ وہ بنیادیں یا پشتہ بندیاں ہیں جن پر ریل کی پٹڑیاں بچھائی گئی تھیں۔ انھیں ڈیڑھ سو سال قبل 60 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار اور ایک مخصوص ایکسل لوڈ وزن اٹھانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

کچھ دیکھ بھال سے اس وقت پاکستان ریلوے اس پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینیں چلا رہا ہے جبکہ 22 ٹن ایکسل لوڈ وزن اٹھا رہا ہے۔

بشارت وحید کے مطابق 'ان پشتوں کی مدت میعاد پوری ہو چکی ہے۔ یہ کمزور ہو چکے ہیں، اس لیے ان پر زیادہ رفتار یا زیادہ وزن برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔'

اس وقت ایم ایل ون کی حالت کیا ہے؟

ایم ایل ون منصوبے کے سابق ٹیم لیڈر اشفاق خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی سے ملتان تک کا ریل ٹریک ڈبل ہے مگر اس قدر گھس چکا ہے کہ 'ایک موقع تو ایسا آیا تھا کہ یہ بند ہو گیا تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی سے لالہ موسیٰ اور راولپنڈی سے پشاور کے درمیان مین لائن ون کے ٹریک ابتر حالت میں ہے۔ 'اٹک کے پل کے قریب جہاں پر ٹنلز وغیرہ ہیں وہاں ٹرین کی رفتار 15 کلو میٹر ہو جاتی ہے۔'

کیونکہ پٹڑیاں زیادہ وزن نہیں برداشت کر سکتیں اس لیے آئے دن ریلوں کے پٹڑیوں سے اتر جانے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ 'اس سے بچنے کے لیے آپ کو ٹرین کی رفتار کم کرنا پڑے گی اور اگر رفتار کم کریں گے تو کوئی سفر نہیں کرے گا۔'

'سکھر ڈویژن۔۔۔اب زیادہ دیر چلنے کے قابل نہیں'

ایم ایل ون منصوے کے ٹیم لیڈر بشارت وحید کے مطابق اس وقت سکھر ڈویژن میں ریل کا ٹریک بدترین حالت میں ہے اور ٹنڈو آدم، خیر پور، روہڑی میں اس کی حالت انتہائی زیادہ خراب ہے۔

'یہ حصہ اب زیادہ دیر چلنے کے قابل نہیں ہے جب تک کی ہم اس کو مکمل طور پر تبدیل نہ کریں۔ اسی لیے ایم ایل ون کے پیکج ون میں ہم نے نواب شاہ تا روہڑی شامل کیا ہوا ہے۔'

اس کے علاوہ لاہور سے نکلنے کے بعد پشاور کی طرف جاتے ہوئے پہاڑی سلسلہ آتا ہے جہاں ایک مقام پر گاڑی کو ایک بڑا موڑ کاٹنا پڑتا ہے۔ 'یہاں پر بھی ٹریک کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے اور گاڑی کی رفتار 65 کلو میٹر فی گھنٹہ پر آ جاتی ہے اور وقت بہت ضائع ہوتا ہے۔'

ایم ایل ون منصوبہ ریل کے نظام کو کتنا بہتر کرے گا؟

ایم ایل ون منصوے کے ٹیم لیڈر بشارت وحید کے مطابق پٹڑیوں کے پشتوں کو اکھاڑ کر نئے سرے سے جدید طرز پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس پر مسافر ٹرین 160 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ مال بردار گاڑی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔

ریل گاڑی کے راستے میں آنے والے تمام بل پیچ اور موڑ ختم کر دیے جائیں گے۔ اس وقت اس ٹریک پر بنے ہوئے پل بھی اپنی مدتِ معیاد پوری کر چکے ہیں۔ انھیں بھی نئے سرے سے تعمیر کیا جائے گا۔

بشارت وحید کے مطابق ایم ایل ون کا مکمل ٹریک جوڑوں سے پاک ہو گا یعنی جھٹکے اور شور محسوس نہیں ہو گا۔ 'آپ چائے کا کپ آسانی رکھ سکیں، چائے گرے گی نہیں۔'

ایم ایل ون پر 665 لیول کراسنگ یا پھاٹک موجود ہیں جنھیں انڈر پاس اور پلوں کی مدد سے ختم کر دیا جائے گا۔ ریل کے ٹریک کے ساتھ ساتھ فینسنگ کی جائے گی اور گنجان آباد علاقوں میں یہ کنکریٹ کی دیواروں پر مشتمل ہو گی۔

'ٹرینوں کو لائیو دیکھا جا سکے گا'

تاہم بشارت وحید کے مطابق اس منصوبے کے تحت جو بنیادی بڑی تبدیلی رونما ہو گی وہ مواصلات کا نظام ہے۔ پاکستان ریل کو ٹیلیفون کے طرز پر بنے جس فرسودہ مواصلات کے نظام پر چلا رہا تھا وہ بھی کچھ عرصے سے ختم ہو چکا تھا۔

یعنی جب تک ایک گاڑی کسی ریلوے سٹیشن کے پینل پر نظر نہیں آ جاتی، آپ نہیں بتا سکتے کہ وہ کہاں ہے یا اس کے ساتھ کوئی حادثہ تو پیش نہیں آیا اور وہ تاخیر سے کیوں پہنچ رہی ہے؟

بشارت وحید کے مطابق ایم ایل ون منصوبے میں مواصلات کے نظام کو آپٹیکل فائبر سے بدل دیا جائے گا جس کے بعد لائیو سٹریمنگ بھی ممکن ہو پائے گی۔'

ایک سینٹرل کنٹرول سسٹم لاہور میں قائم کیا جائے گا اور مثال کے طور پر یہاں بیٹھا شخص پشاور سے نکلنے والی ٹرین کو لائیو دیکھ سکے گا۔ اس کے ساتھ بیشمار سہولیات ریل کے عملے اور مسافروں کے لیے میسر ہو سکیں گی۔

ایم ایل ون سے پاکستان میں معاشی ترقی کیسے آ سکتی ہے؟

ریلوے کے سی پیک منصوبوں کے سابق انچارج اشفاق خٹک کا استدلال ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی ایم ایل ون کے بغیر ممکن ہونا مشکل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'آپ چین ہی کی مثال لے لیں، انھوں نے اپنے ریل کے نظام کو بہتر کیا اور اس کے ساتھ ہی ان کی تجارت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔'

اشفاق خٹک کا کہنا ہے کہ زیادہ مال بردار گاڑیاں چلنے سے ریلوے زیادہ سامان کراچی سے ملک کے دوسرے حصوں میں تیز رفتاری اور کم خرچ پر ترسیل کرے گا۔ مال بردار گاڑی کے لیے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار عالمی سطح کے عین مطابق ہے۔

'اس طرح مال کی قیمت کم بھی ہو گی اور وہ وقت پر مہیا بھی ہو گا۔ یوں خود بخود کاروبار میں اضافہ ہو گا۔' دوسری صورت میں ٹرکوں کے ذریعے سامان کی ترسیل نہ صرف نسبتاً مہنگی بلکہ سست رو بھی تھی۔ اس سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی زیادہ تھا۔‘

'ریلوے سٹیشن کاروبار کے مراکز بن جائیں گے'

ایم ایل ون منصوبے کے ٹیم لیڈر بشارت وحید کے مطابق ایک مال بردار ٹرین 40 ٹرکوں کے برابر سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ کم وقت میں ترسیل کر سکے گی۔

اس طرح پاکستان کا مجموعی طور پر ایندھن پر اٹھنے والا سالانہ خرچ کئی گنا کم ہو جائے گا۔ بشارت وحید کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق ریلوے کا مال برداری میں حصہ 20 فیصد بڑھ جانے کے بعد پاکستان ڈیزل کی مد میں آنے والا سالانہ 500 ملین ڈالر کا خرچ بچا پائے گا۔

ایم ایل ون منصوبے کے سابق ٹیم لیڈر اشفاق خٹک کے مطابق ایم ایل ون پر آنے والے تمام تر ریلوے سٹیشن کاروباری مراکز میں تبدیل ہو جائیں گے۔

’آپ دیکھیے گا کہ کیسے ہر سٹیشن کے پانچ سے سات کلومیٹر تک کا علاقہ کاروبار کا مرکز بن جائے گا۔ دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہو چکا ہے۔'

ایم ایل ون سے پاکستان خطے میں تجارت کا مرکز کیسے بن سکتا ہے؟

ریلوے کے سی پیک منصوبوں کے حالیہ ٹیم لیڈر بشارت وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ ایم ایل ون مکمل ہونے سے پاکستان کو خطے میں تجارتی اعتبار سے بنیادی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت پہلے ہی پشاور سے آگے افغانستان کے ساتھ ریل کے ذریعے رابطہ قائم کرنے پر غور کر رہی تھی۔ خشکی میں گھرے مگر تیل اور گیس سے مالا مال وسط ایشیائی ممالک بھی افغانستان سے زمینی رابطہ قائم کر رہے تھے۔

'یوں اس راستے سے وسط ایشیائی ممالک بھی پاکستان کی کراچی کی بندرگاہ تک رسائی حاصل کر سکتے تھے اور اس میں جدید طرز پر بنے ایم ایل ون کی حیثیت بنیادی ہو گی جو ایک تجارتی کوریڈور فراہم کرے گا۔'

'آگے جا کر اس ریل کو چین جانا ہے'

بشارت وحید کے مطابق ایم ایل ون سے منسلک ایک طویل مدتی منصوبے کے تحت بالآخر ریل پاکستان سے براستہ خنجراب پاس چین میں داخل ہو جائے گی۔

ایم ایل ون ٹیکسلا سے حویلیاں تک جاتی ہے۔ حالیہ منصوبے کے تحت حویلیاں میں ایک ڈرائی پورٹ قائم کی جائے گی۔ تاہم بعد ازاں ایک دوسرے منصوبے کے تحت حویلیاں سے آگے قراقرم ہائی وے کے ساتھ ساتھ خنجراب پاس کے راستے چین تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا۔

اس طرح چین سے آنے والا سامان ایم ایل ون پر چلنے والی مال بردار ٹرینیں حویلیاں ڈرائی پورٹ سے اٹھائیں گی اور کراچی کی بندر گاہ تک لے جائیں گی۔ اور پاکستان بھی تجارتی سامان چین بھیج سکے گا۔

ایم ایل ون منصوبہ کیسے اور کتنی دیر میں مکمل ہو گا؟

ریلوے کی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز قرۃ العین نے بی بی سی کو بتایا کہ منصوبہ تین مراحل یا پیکیجز میں مکمل ہو گا۔ پہلا پیکج آئندہ برس جنوری میں شروع ہو گا اور پانچ سال میں مکمل ہو گا۔ اس میں نواب شاہ سے روہڑی، ملتان سے لاہور، لاہور سے لالہ موسیٰ تک ٹریک کے علاوہ والٹن اکیڈمی اپ گریڈ ہو گی۔

دوسرا پیکج سنہ 2022 جولائی میں شروع ہو کر سات برس میں مکمل ہو گا۔ اس کے تحت کیماڑی کراچی سے حیدرآباد اور آگے ملتان تک لائن اپ گریڈ ہو گی۔ اسی طرح تیسرے پیکج میں لالہ موسیٰ سے راولپنڈی اور پشاور تک ٹریک بحال ہو گا اور یہ حصہ جولائی سنہ 2023 میں شروع ہو کر چار برس میں مکمل ہو گا۔

ایم ایل ون کتنی جلدی منافع دینا شروع کرے گا؟

اشفاق خٹک کا کہنا ہے کہ تمام تر اقتصادی فوائد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ پاکستان بلا تاخیر منصوبے پر کام شروع کر دے جو پہلے ہی تین سال کی تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔

اشفاق خٹک کے مطابق یہ بھی ضروری تھا کہ ایم ایل ون پر مال بردار اور مسافر ٹرینوں کا تناسب 65 فیصد اور 35 فیصد برقرار رکھا جائے۔ 'اگر کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا کسی وجہ سے مسافر ٹرینوں کے تناسب کو بڑھایا گیا تو اس منصوبے کی افادیت ختم ہو جائے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے معاشی فوائد اس قدر زیادہ ہیں کہ پاکستان ریلوے محض چند برس میں اس کے لیے لیا جانے والا قرض چکا کر منافع کمانا شروع کر دے گا۔

مکمل ہونے پر ایم ایل ون کو کیسے چلایا جائے گا؟

ریلوے کے سی پیک منصوبے ایم ایل ون کے ٹیم لیڈر بشارت وحید کے مطابق ایم ایل ون کو نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت چلایا جائے گا۔ یہ ایک آزاد ہولڈنگ کمپنی کے طور پر کام کرے گا اور اس کو 'باقی سست رو، نقصان میں چلنے والی ریلوے سے علیحدہ رکھا جائے گا۔'

'اس طرح فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت دیکھ سکے گی کہ کتنا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے، کہاں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے یا کس ریلوے لائن کو بند کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ منافع بخش نہیں ہے۔'

نئے نظام کے تحت پاکستان ریلوے صرف ٹریک کی دیکھ بھال اور بحالی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ اس پر مسافر اور مال بردار ریل گاڑیاں چلانے کے لیے نجی شعبے کو دعوت دی جائے گی۔

مال برداری کے لیے بھی دو قسم کی کپمنیاں ہوں گی جن میں پاکستان ریلوے کی اپنی ایک کمپنی شامل ہو گی۔ 'یہ کمپنیاں اپنے انجن اور اپنی ریل گاڑیاں لائیں گے، ریلوے صرف ان سے ٹریک پر چلنے کا کرایہ لے گا۔'